Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص علاقہ نیپال کے جنگل میں منجانب تاجران لٹھ ملازم ہے اور ایسی جگہ رہنا ہوتا ہے جہاں سے ایك یا دہ میل یا کم وزیادہ کے فاصلے پر آبادی اور زراعت ہوتی ہے تا انگریزی عملداری کے جنگلات میں ملازم ہے جو بصورت متذکررہ بالا ہے یا اسٹیشن ریلوے جنگل میں ہے وہاں سے بھی دو یاتین میل کے فاصلہ پر آبادی اور زراعت ہے ، اور آقا جب بھیجتا ہے تو کچھ مدت مقرر نہیں کرتا تو ان صورتوں میں ملازم کو نمازِ قصر ادا کرنا واجب ہے یا پوری ؟ اور اگر خود مختار ہے تو اس کو قصر پڑھنا چاہئے یا پوری؟ زید کا قول کہ نمازِ قصر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ اول عملداری ہندو کی ہے یعنی نیپال ، دوسرے جگہِ اقامت پر نہ آبادی ہے نہ زراعت ہوتی ہے یعنی کچھ فاصلے پر ہے ، تیسرے یہ صورت اوّل میں خود مختار نہیں ، آقا جب چاہے منتقل یا علیحدہ کرسکتا ہے اور علمداری انگریزی میں بھی اگر چہ اسٹیشن ہے مگر زراعت نہیں ہوتی ہے نوکری پر بوجہ مذکورہ خود مختار پر بوجہ نہ ہونے زراعت کے قصر واجب ہے ، اقامت کی شرائط میں زراعت بھی ہے ، عمر کی دلیل یہ ہے کہ صورت مذکورہ بالاجن مقامات اقامت سے ایك میل یا کم یا زیادہ پر زراعت ہوتی ہے مگر فراہمی غلّہ وغیرہ میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ہے ، دوسرے مقامِ اقامت گو جنگل میں ہے مگر دس بیس پچاس آدمی ہمراہ ہوتے ہیں جو عرصہ تك ایك جگہ مقیم رہتے ہیں ، جانور درندہ وغیرہ کا بالکل خوف نہیں ہوتا ہے ، تیسرے یہ کہ کوئی آقا ملازم کو جب بھیجتا ہے تو کام ختم کرکے آنے تك کے لئے درمیان میں اگر ضرورت ہوئی تو وہاں سے منتقل یا علیحدہ کردیا یہ معتبر نہیں ، اس صورت میں ارادہ ملازم کا معتبر ہے ، اگر پندرہ یوم کا ارادہ ہے تو پوری اداکرے تو دونوں کی اقتداء درست ہے یا نہیں ؟ بینوا تو جروا

الجواب :

جو مسافر نہ تھا اور اُس جنگل تك جانے میں بھی اُسے سفر کرنا نہ پڑا کہ فاصلہ تین منزل سے کم تھا ، وہ تو ظاہر ہے کہ مقیم تھا اور مقیم رہا اسے قصر حرام ہے اور پوری پڑھنی فرض ہے اگر چہ وہ جگہ نرا بَن ہو۔ بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے :

ھذا ان سارثلثۃ ایّام والا فتصح ولو فی المفازۃ [1]۔

یہ اس وقت ہے جب تین دن کاسفر طے کرلیا ہو ورنہ وہ مقیم ہوگا اگر چہ وہ جنگل میں ہو ۔ ت)

اور جو مسافر تھا وہاں تك جانے سے مسافر ہوا کہ فاصلہ تین منزل یا زائد کا تھا وہ ضرور مسافر ہے ، اگر عادت معلوم ہے کہ جس کام کے لئے بھیجا گیا وہ پندرہ دن یا زائد میں ہوگا اور جگہ ایسی ہو جہاں اقامت ممکن ہے اگر چہ آبادی وہاں سے دوتین میل فاصلہ پر ہو اور زراعت نہ ہو وہاں پہنچ کر مقیم ہوجائے گا اور پوری پڑھنی لازم ہوگی خاص وہاں زراعت ہونا کچھ ضرور نہیں ، نہ ہندو کی علمداری ہونا کچھ مانع کہ یہ آمدورفت امان کے ساتھ ہے اس سے تعرض نہیں کیا جاتا۔ درمختار میں ہے : من دخلھا بامان فانہ یتم[2] ( جو امان کی بنا پر داخل ہُوا وہ نمازی پوری پڑھے ۔ ت) اور یہ احتمال کہ شاید کوئی ضرورت پیش آئے اور جس کا نوکر ہے وہ دوسری جگہ بھیجے معتبر نہیں ، ایسا احتمال ہر شخص کو ہر حال میں ہے ، اور جب نوکر کا یہ حکم ہے تو خود مختار تو بدرجہ اولٰی جبکہ پندرہ دن یا زائد کی نیت کی ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢٧١ :       از اٹاوہ محلہ ثابت گنج مرسلہ محمد ابراہیم خاں صا بری مارہروی   ٢ شوال ١٣٣٩ھ

 زید کی سسرال ا سکے مکان مسکونہ سے بسفر ریل ١١٤ میل کے فاصلے پر ہے او بیوی بچے اس کے سب سسرال میں رہتے ہیں مگر زید اپنے کاروبار کی وجہ سے زیادہ تر اپنے مسکن پر رہتا ہے اور بال بچّے جو اس کے سسرال میں رہتے ہیں بلکہ ضرورۃً عرصہ ٨ ماہ سے ان کو وہاں چھوڑ رکھا ہے ایسی صورت میں جب زید اپنے مسکن سے اپنے بال بچوں میں ہونے کے واسطے بایں ارادہ گیا کہ میں چوتھے روز یا پندرہ دن کے بعد یا مہینہ بھر کے بعد واپس آؤں گا توا س پر قصر واجب ہے یا نہیں ؟ اور اگر کسی موقع سے اس نے قصر نماز ادانہ کی ہو جس کو کہ وہ اپنے علم کے موافق قصر نہیں جانتا مگر شرعی اصول کے موافق اس پر قصر واجب ہو تو اس کے ذمہ کچھ مواخذہ ہے یا نہیں ؟

الجواب :

جبکہ مسکن زید کا دوسری جگہ ہے اور بال بچوں کا یہاں رکھنا عارضی ہے تو جب یہاں آئے گا اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے گا قصر کرے گا اور پندرہ دن یا زیادہ کی نیت سے مقیم ہوجائے گا پوری نماز پڑھے گا جس پر شرعًا قصر ہے اور اس نے جہلًا پڑھی اُس پر مواخذہ ہے اور اس نماز کا پھیرنا واجب ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ۱۲۷۲ :      از ریاست فرید کوٹ ضلع فیروز پور پنجاب مرسلہ منشی محمد علی ارم          ۶ رجب المرجب ١٣٣٧ھ

کیافرماتے ہیں علماۓ دین اس مسٔلہ میں کہ ریل میں ایك کثیرعملہ ریلیونگ رہتاہے جسکایہی کام کہ ہفتہ عشرہ ایك دن دودن زیادہ کم کسی ملازم ریلوے کے بیمارہوجانے تخفیف میں آجانے رخصت جانے پراس کی جگہ رہتے ہیں جس سے کہیں بیس دن مہینہ اورزیادہ دودوچارچاردن ہی رہناپڑتاہے ان کےلیے نمازمیں قصر کاحکم ہے یانہیں ؟

الجواب : اگراپنے مقام سے ساڑھے ستاون (۲ / ۱ ۵۷) میل کے فاصلے پر علی الاتصال جاناہوکہ وہیں جانامقصود ہے بیچ میں جانامقصودنہیں اوروہاں پندرہ دن کامل ٹہھرنے کاقصد نہ ہوتوقصرکریں گے ورنہ پوری پڑھیں گے ، ہاں یہ جوبھیجا گیا اگراس وقت حالت سفرمیں ہے مقیم نہیں توکم وبیش جتنی دوربھی بھیجاجائےگا مسافرہی رہے گاجب تك پندرہ کامل ٹہھرنے کی نیت نہ کرے یا اپنے وطن نہ پہنچے ، ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔

 مسئلہ ۱۲۷۳ :      از شھرمحلہ بہاری پور            مسئولہ نواب وزیر احمد خاں صاحب       ۲۰محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آج قصد تلہر اس وقت دس بجے کی گاڑی سے ہے تلہر تك قصر نہیں تلہر سے قصد رامپورکاہے تلھرسے رام پورتك قصر ہے لیکن درمیا ن میں بریلی پڑھے گی اترنا نہیں ہوگا اس صورت میں قصر کا کیا حکم ہے ۔ تلہر میں بھی قصر پڑھا جائے یا نہیں اوراگر تلہر میں قصد رامپور کا فسخ ہوجائے توقصر کوقصر کیا جائے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

 



[1]    ردالمحتار باب صلوۃ المسافر مطبوع مصطفی البابی مصر /  ۵۸۱

[2]    دُرمختار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۱۰۷



Total Pages: 262

Go To