Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

پہلی تین کتب کے الفاظ یہ ہیں : ایك جنبی مسافر ایسی مسجد سے گزرا جس کے اندر پانی کا چشمہ ہے اور اس کے علاوہ وہ پانی نہیں پاتا تو وہ دخول مسجد کے لئے تیمم کرے کیونکہ ہمارے نزدیك ہر حال میں جنابت اسے دخول مسجد سے مانع ہے ۔ (ت)

ظاہر ہے کہ عامہ بلاد میں عامہ مساجد جماعات مسقف ہوتی ہیں اور چشمہ آب عادۃً صحن ہی میں ہوتا ہے اور کلماتِ فقہاء امورِ عادیہ غالبہ ہی پر مبتنی ہوتے ہیں ، بہت نادرہے کہ حصّہ اندرونی میں چشمہ آب ہو ، تو انھوں نے صحن ہی میں جنب کو جانے پر یہ احکام فرمائے فافھم وتبصر(پس سمجھو اور غور کرو۔ ت) ان کے سوا اور بہت وجوہ کثیرہ سے استنباط ممکن مگر بعد اُن دلائل قاہرہ کے جوابتدًا زیرگوش سامعین ہوئے حاجتِ تطویل نہیں ۔

عاشرا  یاھذا اُن براہینِ ساطعہ کے بعد صحن مسجد کا جزء مسجد ہونا اجلٰی بدیہیات تھا جس پر اصلًا تصریح کتب کی احتیاج نہ تھی بلکہ جو اسے مسجد نہیں مانتا وہی محتاج تصریح وقطعی تھا اور ہر گز نہ دکھاسکتا نہ کبھی دکھا سکے ، تاہم فقیر نے بطور تبرع یہ چار استنباط بھی کلمات ائمہ سے ذکر کئے کہ یہ بدیہی مسئلہ اپنے غایت وضوح واشتہار کے باعث اس قبیل سے تھا جس پر خادمِ فقہ کو کتبِ ائمہ میں تصریح جزئیہ ملنے کی امید نہ ہوتی کہ ایسی روشن و مشہور باتوں پر فقہائے کرام کم توجہ فرماتے ہیں ۔ مثلًااگر کوئی اس امر کی تصریح کتابوں سے نکالنا چاہے کہ مسجد کے درجہ شتوی میں جسے اہل سورت جماعت خانہ کہتے ہیں تین درہیں بائیں طرف کا در بھی جزءِ مسجد ہے اور اس میں بھی جنب کو جانا ممنوع یا نہیں تو غالبًا ہر گز اس کا جزئیہ نہ پائے گا مگر بحمداﷲتعالٰی جب فقیر یہاں تك لکھ چکا مسئلہ کا خاص جزئیہ کلمات علماء میں یاد آیا جس میں ائمہ دین نے صاف تصر یحیں فرمائی ہیں کہ مسجد کے صیفی وشتوی یعنی صحن و مسقف دونوں درجے یقینا مسجد ہیں ۔ اب سنئے ١امام طاہربن عبدالرشید بخاری فتاوٰی خلاصہ پھر٢امام فخرالدین ابو محمد عثمان بن علی زیلعی تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق پھر۳امام حسین بن محمد سمعانی خزانۃالمفتین پھر ۴امام محقق عل الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام فتح القدیرپھر ۵علامہ عبدالرحمن بن محمدرومی مجمع الانہرشرح ١ملتقی الابحر پھر ۶علامہ سیّدی احمد مصری حاشیۂ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح پھر ۷خاتم المحققین سیدی محمد بن عا ب دین شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں :

واللفظ للخلاصۃ ولخزانۃ رجل انتھی الی المام والناس فی الصلوۃ الفجر ان رجال ان یدرك رکعۃ فی الجماعۃ یاتی برکعتی الفجر عند باب المسجد وان لم یمکن یاتی بھما فی المسجد الشتوی ان کان الامام فی الصیفی وان کان الامام فی الشتوی ھویاتی فی الصیفی وان کان المسجد واحدا یقف فی ناحیۃ المسجد الا یصلیھما مخالطاللصف مخالفا للجمایۃ فان فعل ذلك یکرہ اشد الکراھۃ اھ۔ [1]                                          

خلاصہ اور خزانہ کی عبارت یہ ہے : ایك آدمی مسجد میں پہنچا ، امام اور لوگ نماز فجر ادا کر رہے تھے اب اگر آنے والا شخص امید رکھتا ہے کہ اسے ایك رکعت جماعت کے ساتھ مل جائے گی تو وہ مسجد کے دروازہ کے پاس دو٢سنّتیں ادا کرے ، اور اگر وہاں ممکن نہ ہو مسجد شتوی (یعنی سردیوں والے حصّہ) میں دو رکعات ادا کرے ، جب امام صیفی مسجد (یعنی گرمیوں والے حصّہ) میں ہو اور اگر اس کا عکس ہو یعنی امام شتوی مسجد میں ہو تو یہ صیفی میں پڑھے ۔ اگر مسجد واحد ہی ہو تو مسجد کے ایك گوشے میں ادا کرے اور ان دو۲ رکعتوں کی ادائیگی کے لئے صف کے متصل کھڑا نہ ہو کیونکہ یہ جماعت کی مخالف ہے۔ اگر ایسا کیا تو یہ شدید مکروہ ہوگا اھ(ت)

ردالمحتارمیں ہے :

قولہ عندباب المسجد ای خارج المسجد کما صرح بہ القھستانی[2] الخ۔

اقول  :  ویو ضحہ قول الھدایۃ و الھندیۃ یصلی رکعتی الفجر عند باب المسجد ثم یدخل ۔ [3]

ماتن کا قول “ مسجد کے دروازے کے پاس “ یعنی مسجد سے باہر ، جیسے کہ قہستانی نے اس پر تصریح کی ہے الخ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) ہدایہ اور ہندیہ کے الفاظ نے واضح کردیا ہے کہ وہ فجر کی سنتیں مسجد کے دروازے پر پڑھ کر مسجد میں داخل ہو۔ (ت)

امام ابوالبر کات٨ حافظ الدین نسفی کافی شرح میں فرماتے ہیں :

الافضل فی السنن المنزل ثم باب المسجد

سنتوں کے ئے افضل مقام گھر ہے اور اگر امام مسجد

ان کان الامام یصلی فی المسجد ثم المسجد الخارج ان کان الامام یصلی فی الداخل او الداخل ان کان فی الخارج [4] اھ ملخصًا

میں جماعت کروارہا ہو تو مسجد کا دروازہ بہتر مقام ہے ، اگر امام داخل مسجد میں جماعت کروا رہا ہو تو پھر خارج مسجد اسی طرح امام خارج مسجد ہو تو سنتوں کے لئے داخل مسجد بہتر ہے اھ تلخیصًا (ت)

۹ محقق علاّمہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق پھر ١٠علامہ سیّدی احمد طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں :

السنۃ فی السنن انیاتی بھا فی بیتہ او عند باب المسجد وان لم یمکنہ ففی المسجد الخارج [5] الخ

سنتّوں کے لئے سنت یہ ہے کہ انھیں گھر میں ادا کرے یا مسجد کے دروازے کے پاس ، اور اگر وہاں ممکن نہ ہو تو پھر صحنِ مسجد میں ادا کرے الخ (ت)

۱۱ منیہ و شرح ١٢ صغیر منیہ للعلامہ ابراہیم الحلجی میں ہے :

 



  [1]    خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصّلوٰۃ الجنس فی السنن مطبوعہ نو کشور لکھنؤ ۱ /  ٦١و٦٢

[2]      ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /  ٥٦

[3]      الھدایۃ باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ١ /  ۱۳۲۷

  [4]    کافی شرح وافی

  [5]    حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ، ١ /  ٣٠٠



Total Pages: 262

Go To