Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

بن ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنھما کان اصحاب الصفۃ الفقراء [1]

حضرت عبدلرحمٰن بن ابی بکر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے فرمایا کہ اصحابِ صفہ فقراء تھے۔ (ت)

علامہ احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صیحح بخاری میں فرماتے ہیں :

الصُفّۃ بضم الصاد و تشدید الفاء موضع مظلل فی اخریات المسجد النبوی تاوی الیہ المساکین ۔  [2]

الصُفّہ ، صاد پر پیش ، فاء پر تشدید ، مسجد نبوی کے آخری حصہ میں وہ چھتی ہوئی جگہ جہا ں مساکین پناہ لیتے تھے۔ (ت)

اب مشاہدہ کرنے والا جانتا ہے کہ محرابِ مصطفٰي   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کہ محراب امیرالمؤمنین عثمان غنی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی جانب شمال ہے ، پائین مسجد کو پیمائش کرتے آئیے تو سو گز کی مساحت ایك حصّہ صحن میں آئے گی ، اور قطعًامعلوم کہ زمانہ اقدس میں جس قدر بنائے مسجد تھی اُس میں کمی نہ ہوئی بلکہ افزونیاں ہی ہوتی آئیں تو واجب کہ اس وقت بھی یہ سو گز مع صحن تھی اور جبکہ صفہ تك جزءِ مسجد تھا کما ظھر مما نقلنا من العبارات (جیسے کہ ہماری نقل کردہ عبارات سے ظا ہر ہے۔ ت) تو کیونکہ معقول کہ بیچ میں صحن خارج مسجد گنا جائے۔

سابعًا  علماء ارشاد فرماتے ہیں کہ مسجدمیں پیڑ بونا ممنوع ہے کہ اُس سے نماز کی جگہ رُکے گی مگر جبکہ اس میں منفعتِ مسجد ہو اس طرح کہ زمین مسجد اس قدر گل ہو کہ ستون بوجہ شدتِ رطوبت نہ ٹھہر تے ہوں تو جذب تری کیلئے پیڑ بوئے جائیں کہ جڑیں پھیل کر زمین کی نم کھینچ لیں ۔ ظہیریہ و خانیہ وخانیہ و خلاصہ وہندیہ و بحرالرائق وغیرہا میں ہے ،

یکرہ غرس الشجر فی المسجد لانہ یشبہ بالبیعة تکون فیہ منفعۃ للمسجد بان کان الارض نزۃ لا تستقر اسا طینھا فیغرس فیہ الشجر لیقل النزۃ۔  [3]

مسجد میں درخت لگانا مکروہ ہے کونکہ یہ بیعۃ(گرجے) کی مشابہت ہے اور نماز کی جگہ مشغول کرنا ہے ۔ البتہ اس صورت میں جائز ہوگا جب اس میں کوئی نفع ہو ، مثلًا زمین سیلابی ہے اس پر ستون کھڑے نہیں ہوتے تو اس میں درخت لگائے جائیں تاکہ سیلابیت کم ہوجائے۔ (ت)

ظہیریہ کے لفظ یہ ہیں :

فتغرس لتجذب عروق الاشجار ذلک

پس درخت لگائیں تاکہ ان کی جڑیں اس تری کو جذب

النز فحِ یجوز و الافلا وانما جو زمشائخنا فی المسجد الجامع ببخارٰی لما فیہ من الحاجۃ اھ۔ [4]

کرلیں ، تو اب درخت لگانا جائز ہوگا ورنہ نہیں ، ہمارے مشائخ نے بخاراکی جامع مسجد میں درخت لگانے کو جو جائز قراردیا ہے اس میں یہی ضرورت و حاجت پیش نظر ہے اھ (ت)

ظاہر ہے کہ ستون مسجد مسقف ہی میں ہو تے ہیں اور پیڑ درجہ اندرونی میں نہیں بوئے جاتے بلکہ سائے میں پرورش نہیں ہوتے معہذا جب تری کی وہ بیشتری کہ ستون نہیں ٹھہرتے تو ایسی رطوبت پھلواری وغیرہ کے چھوٹے چھوٹے پودوں سے دفع نہیں ہوسکتی ، نہ ان کی جڑیں اتنی پھیلیں کہ اطراف سے جذب کرلیں اور بڑے پیڑ اندر بوئے جانا معقول نہیں تو واجب کہ اس سے مراد صحن مسجد میں بونا ہے اور اسے انھوں نے مسجد میں بونا قراردیا _________ جب تو غرس فی المسجد کی صورت جواز میں رکھا ، اور مثالِ ظہیریہ نے تو اس معنی کو خوب واضح کردیا ۔ قطعًا معلوم کہ جامع بخارا نامسقف نہیں نہ زنہار اُس کے درخت زیرِسقف ہیں بلکہ یقینًاصحن میں بوئےگئے ، اور اسی کو علمائے کرام نے غرس فی المسجد جانا۔

ثامنًا علماء فرماتے ہیں دروازہ مسجد پر جو دُکانیں ہیں فنائے مسجد ہیں کہ مسجد سے متصل ہیں ، فتاوٰی امام قاضی خاں پھر فتاوٰی علمگیریہ میں ہے :

یصح الاقتداء لمن قام علی الدکاکین التی تکون علی باب المسجد لانھامن فناء المسجد متصلۃ بالمسجد۔[5]

اس شخص کی اقتداء درست ہے جو اس دکان پر کھڑا ہے جو مسجد کے دروازے پر ہے کیونکہ یہ فنائے مسجد میں ہونے کی وجہ سے مسجد سے متصل ہے۔ (ت)

ظاہر ہے کہ جو دُکانیں دروازہ پر ہیں صحن مسجد سے متصل ہیں نہ درجہ مسقفہ سے ، تو لاجرم صحنِ مسجد مسجدہے ، اور یہیں سے ظاہر کہ صحن کو فنا کہنا محض غلط ہے اگر وہ فنائے مسجد ہوتا تو دکانیں کہ اس سے متصل ہیں متصل بہ فنا ہوتیں ، نہ متصل بہ مسجد ، پھر ان دکانوں کے فنا ٹھہرنے میں کلام ہوتا کہ فنا وہ ہے جو متصل بہ مسجد ہو نہ وہ کہ متصل بہ فنا ہو ، ورنہ اس تعریف پر لزوم دَور کے علاوہ متصل بالفنا بھی فنا ٹھہرے تو سارا شہر یا لااقل تمام محلہ فنائے مسجد قرار پائے کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) اور یہ ادعا کہ صحن وفنا کا مفہوم واحد جہل شدید ہے کہ کسی عاقل سے معقول نہیں ، شاید یہ قائل اُن دکانوں کو بھی صحن مسجد کہے گا۔

تاسعًا انصاف کیجئے تو یہ خاص جزئیہ بھی یعنی صحنِ مسجد میں جنب کا جانا نا جائز ہونا کلماتِ علماسے مستفاد ہوسکتا ہے ، ائمہ فرماتے ہیں جنب کو مسجدمیں جانا جائز نہیں مگر جبکہ پانی کا چشمہ مسجد میں ہواور اس کے سوا کہیں پانی نہ ملے تو تیمم کرکے لے آئے ۔ مبسوط وعنایہ وردالمحتار و فتاوٰی حجہ و فتاوٰی ہندیہ وغیرہا اسفار میں ہے :

واللفظ للثلثۃ الاول مسافر مر بمسجد فیہ عین ماء وھو جنب ولایجد غیرہ ،  فانہ یتیمم لدخول المسجد لان لاجنا بۃ تمنعہ من دخول المسجد علٰی کل حال عندنا۔  [6]

 



[1]       صیحح البخاری باب نوم الرجال فی المسجد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /  ٦٣

   [2]    ارشاد الساری شرح صیحح البخاری باب نوم الرجال فی المسجد مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۱ /  ٤٣٧

   [3]    فتاوٰی قاضی خاں فصل فی المسجد مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ١ /  ۳۱

[4]       بحرالرائق بحوالہ الظہیریۃ فصل لمافرغ من بیان الکراہۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /  ٣٥

  [5]    فتاوٰی قاضی خاں فصل فی المسجد مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ /  ٣٢

  [6]    المبسوط للسرخسی باب التیمم مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /  ۱۱۸



Total Pages: 262

Go To