Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

اور یہیں سے ظاہر کہ اس محمود ومحفوظ صورت میں اگر خود امام بھی اصلًا نیت سجدہ تلاوت نہ کرے تاہم سب کا سجدہ ادا ہوجائے گا اور امام ومقتدی ہر وقت سے امان میں رہیں گے بلکہ ہمارے علماء بحالت کثرت جماعت یا اخفائے قرأت اسی طریقہ کو مطلقًا افضل ٹھہراتے ہیں کہ آیت سجدہ پڑھ کر فورًا نماز کے رکوع وسجود کرلے تاکہ تلاوت کے لئے جداسجدے کی حاجت نہ پڑھے جس کے باعث جہال کو اکثر التباس ہوجاتا ہے ۔ مراقی الفلاح میں ہے ،

ینبغی ذلك للامام مع کثرۃ القوم اوحال المخالفۃ حتی لایؤدی الی التخلیط[1]۔

لوگوں کی کثرت اور مخالفتِ حال میں امام کے لئے یہی مناسب ہے تاکہ اختلاط کا سبب نہ بنے۔ (ت)

علامہ طحطاوی اُس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں :

ای ولا یجعل لھا رکوعا وسجودا مستقلا خوف الفساد من غیرہ[2]۔

یعنی امام سجدہ تلاوت کے لئے مستقل رکوع وسجود نہ کرے کیونکہ دوسروں کی نماز میں فساد آئے گا ۔ (ت)

میں کہتا ہوں کثرت جماعت کی قید اس نظر سے ہے کہ جب ہجوم ہوگا تو عوام بھی ضرور ہوں گے ، اب ہمارے زمانہ میں کہ عام لوگ عوام ہی عوام ہیں کثرت و قلت سب یکساں ، تو سجود مستقل سے مطلقًا یہی صورت انسب و اولٰی ، مگر یہ کہ امام جانتا ہو کہ اس وقت میرے پیچھے صرف وہی لوگ ہیں جو دینی مسائل کاعلم رکھتے ہیں لیکن اس قدر ضرور یادرکھنا چاہئے کہ یہ صورت اسی حالت میں بن پڑے گی کہ آیت سجدہ کے بعد رکوع وسجود نماز میں دیر نہ کی فورًا بجالایا ورنہ اگر آیت سجدہ پڑھ کر تین چار آیتیں اور پڑھ لیں تو اب سجدہ تلاوت ہرگز بے خاص مستقل سجدے ہی کے ادا نہ ہوگا اور تاخیر کا گناہ ہوا وہ علاوہ ، درمختار میں ہے :

ان لم تکن صلویۃ فعلی الفور لصیرورتھا جزء منھا فیأثم بتاخیرھا [3]۔

نماز میں لازم آنے والا سجدہ اگر علیحدہ نہ کیا تو فی الفور رکوع وسجدہ کرے کیونکہ یہ سجدہ جزء نماز ہونے کی وجہ سے فی الفور واجب ہوتا ہے تاخیر کی وجہ سے آدمی گنہ گار ہوتا ہے (ت)

ردالمحتار میں ہے :

فلوانقطع الفورلا بدلھا من سجود خاص بھا مادام فی حرمۃ الصلٰوۃ وع ﷲ فی البدائع بانھا صارت دینا والدین یقضی بمالہ لا بما علیہ والرکوع والسجود علیہ فلایتأدی بہ الدین[4] اھ

اگر فی الفور نہ ہوا تو الگ سجدہ تلاوت کرنا لازم ہوگا جب تك نمازی حرمت نمازمیں ہے اور اس کی علت بدائع میں بیان ہوءی ہے کہ سجدہ تلاوت قرض ہے اور قرض اس سے ادا ہوگا جو اس کا اپنا حق ہے ، نہ کہ اس سے جو اس پر لازم ہے اور رکوع وسجود تو نمازی پر لازم لہٰذا ان سے دین کیسے ادا ہوسکتا ہے اھ (ت)

 اسی میں ہے :                          

ان فات الفور لا یصح ان یرکع لھا ولو

اگرفی الفور سجدہ تلاوت نہ ہوسکا تو اب حرمت نماز میں رہتے

فی حرمۃ الصلوۃ بدائع ای فلا بدمن سجود خاص بھا[5] الخ ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

ہوئے بھی اس کے لئے رکوع نہیں کیا جاسکتا بدائع ، یعنی اب اس کے لئے الگ مستقل سجدہ کرنا ہوگا الخ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)

مسئلہ ١٢٥٢ :      مسئلہ نواب سلطان احمد خاں صاحب بریلی ( سوال منظوم )

عالمانِ شرح سے ہے اس طرح میراسوال                       دیں جواب اس کا برائے حق مجھے وہ خوشخصال

گرکسی نے ترجمہ سجدہ آیت کی پڑھا                    تب بھی سجدہ کرنا کیا اُس شخص پر واجب ہوا

      او ر ہوں سجدے تلاوت کے ادا کرنے                      جسے پھر ادا کرنے سے ان سجدوں کے پہلے وہ مرے

                                                            پس سبکدوشی کی اس کے شکل کیا ہوگی جناب!                                چاہئے ہے آپ کو دینا جواب باصواب

الجواب منظوم

ترجمہ بھی اصلی یہاں ہے وجہ سجدہ بالیقین                       فرق یہ ہے فہم معنی اس میں شرط اس میں نہیں

آیت سجدہ سنی جاناکہ ہے سجدہ کی جا                    اب زباں سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہوگیا

ترجمہ میں اس زباں کا جاننا بھی چاہئے                 نظم ومعنی دوہیں ان میں ایك تو باقی رہے

تاکہ من وجہِ تو صادق ہو سنا قرآن کو                   ورنہ اك موجِ ہوا تھی چھو گئی جو کان کو

 



[1]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود التلاوۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٦٤

[2]    حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب سجود التلاوۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ٢٦٤

[3]    درمختار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١٠٥

[4]    ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٧١

[5]    ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٧٠



Total Pages: 262

Go To