Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

تجلب التیسیر وبعد فیہ بعد کیف ولوجاز ( ھذا ) کان ینبغی ان یلزمہ الاداء کما یلزمہ التوجہ اذا وجد من یوجھہ ففی تجویزہ ابطال اصل المسئلۃ المنقولۃ فلا عبرۃ ببحث القنیۃ [1] وقد یقال عن ھذا الاخیرانہ قادر بقدرۃ غیرہ فلا یلزمہ وان فعل صح فلیتأمل حق التأمل۔  واﷲ تعالٰی اعلم                     

تحریر کیا ہے اقول اس میں لقمہ دینا یاد دلانے سے زائد نہیں ہوتا اور ایك جماعت نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ مقتدی جب اپنے امام کو قدر واجب قرأت کے بعد لقمہ دے تو اس مقتدی کی نماز فاسد ہوجاتی ہے کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تعلیم ہے ایسی صورت میں اگر امام نے لقمہ لے لیا تو سب کی نماز فاسد ہوگی کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تعلم ہے اور جو جواز ( اور معتمد بھی یہی ہے ) کے قائل ہیں انھوں نے اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضرورت کی وجہ سے ہے جیسا کہ حلیہ میں بیان کیا گیا ہے باوجود اس اعتراف کے کہ تعلیم وتعلم ہے ، میں اس کے خلاف شہادت پیش کرتاہوں ، کیا فقہاء کا اس پر اجماع نہیں کہ اگر غیر نمازی نے نمازی کو لقمہ دیا اور اس نے قبول کرلیا تو نماز فاسد ہوجائیگی اور اس تمام گفتگو پر پہلے تصریحات گزر چکی ہیں اور مقتدی مکبر کو بطور استشہاد پیش کرتا ہے اپنے محل پر نہیں کیونکہ مذکور صورت میں تمام کی نماز ایك ہے لہذا میرے نزدیك درست جواب یہ ہے کہ یہ ضرورت ہے جو آسانی کا تقاضا کرتی ہے اور ابھی اس میں بُعد ہے ، کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ یہ جائز ہو تو مناسب تھا کہ اس پر ادا لازم ہو جس طرح تو جہ دلانے والے کی موجودگی میں توجہ کرنا لازم ہے لہذا اس کے جواز میں اصل منقول مسئلہ کا ابطال لازم آتا ہے اس لئے قنیہ کی بحث کا اعتبار نہیں ہوگا  اور اس آخری مسئلہ ( جو اپنے آپ نماز درست نہیں کرسکتا ) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ دوسرے کی قدرت سے قادر ہوتا ہے اس لئے اس پر نماز کی صحت لازم نہیں اور اگر اس نے غیر سے اصلاح لے لی تو صحیح ہے ، اس میں مکمل غور کرو ، (ت) واﷲ تعالٰی اعلم 

مسئلہ ١٢٤٧ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وتروں میں رکعتِ ثالث میں امام بجائے قنوت پڑھنے کے تکبیر قنوت کہہ کر رکوع کو چلا گیا اور مقتدیان کی تکبیر کہنے سے واپس ہو کر قنوت پڑھا اور پھر دوبارہ رکوع کیا اور سجدہ سہو کیا نماز ادا ہوگئی یا وتر فاسد ہوئے رکوع میں پورا جھك گیا تھا جب قنوت کی طرف رجوع کی ۔ بینوا توجروا

الجوا ب : جو شخص قنوت بھول کر رکوع میں چلاجائے اسے جائز نہیں کہ پھر قنوت کی طرف پلٹے بلکہ حکم ہے کہ نماز ختم کرکے اخیر میں سجدہ سہو کرلے پھر اگر کسی نے اس حکم کا خلاف کیا تو بعض ائمہ کے نزدیك اس کی نماز باطل ہوجائے گی اور اصح یہ ہے کہ برا کیا گنہگار ہوا مگر نماز نہ جائے گی ۔ ردالمحتار میں مبتغی سے ہے :

لوسھا عن القنوت فرکع فانہ لوعاد وقنت لاتفسد علی الاصح [2] اھ وفیہ عن الفتح فی مسئلہ العود الی التشھد بعد القیام للثالثۃ لایحل ولکنہ بالصحۃ لایخل[3]  اھ

اگر قنوت بھول گئی اور رکوع کیا اب اگر لوٹ کر قنوت پڑھی تو اصح قول کے مطابق نماز فاسد نہ ہوگی اھ اور اسی میں مسئلہ تیسری رکعت کی طرف قیام کے بعد تشہد کی طرف لوٹنا کے تحت ہے کہ یہ جائز نہیں البتہ صحت نماز میں مخل نہیں اھ (ت)

بہر حال اس عود کو جائز کوئی نہیں بتاتا تو جن مقتدیوں نے اسے اس عود ناجائز کی طرف بلانے کے لئے تکبیر کہی ان کی نماز فاسد ہوئی امام ان کے کہنے کی بنا پر نہ لوٹتا نہ ان کے بتائے سے اسے یاد آتابلکہ اسے خود ہی یاد آتا اور لوٹتا اگر چہ اس کا یاد کرنا اور ان کا تکبیر کہنا برابر واقع ہوتا تو اس صورت میں مذہب اصح پر امام اور باقی مقتدیوں کی نماز ہوجاتی یعنی واجب اترجاتا اگر چہ اس کراہت تحریم کے باعث اعادہ واجب ہوتا اب کہ وہ ان مقتدیوں کے بتانے سے پلٹا اور یہ نماز سے خارج تھے تو خود اس کی بھی نماز جاتی رہی اور اس کے سبب سب کی گئی لانہ امتثل امرھم اوتذکر بتکبیرھم فعادبرائ نفسہ فقد تعلم ممن ھو خارج الصلوۃ کما افادہ فی البحر ( کیونکہ اس نے ان کی بات مانی یا اسے ان کی تکبیر سے یاد دہانی ہوئی اور وہ اپنی رائے سے لوٹا تو اب اس نے نماز سے خارج آدمی سے سیکھا یا جانا ہے ۔ جیسا کہ بحر میں اس کا افادہ کیا۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۱٢٤٨ :      از شہر کہنہ                         ١١ جمادی الآخرہ ١٣١٧ھ

ترك آرد قعدہ اولٰی لیکن باستادن نزدیك ترشد آنگاہ

اگر پہلا قعدہ ترك کرکے تیسری رکعت کے لئے نمازی

نشست بازباقی نماز گزارد دریں حال نماز اوجائز است یا نے؟ بینوا توجروا

سیدھا کھڑا ہوگیا پھر واپس لوٹا اور باقی نماز ا دا کی اس کی نماز ہوئی یا نہیں ؟ بینواتوجروا

الجواب :

ہرکہ درفرض یا وتر قعدہ اولٰی فراموش کردہ استادہ تابتمامہ استادہ نشود بسوئے قعود رجوعش باید پس اگر ہنوز بقعود اقرب بودسجدہ سہو نیست واگر بقیام نزدیك ترشدہ باشد سجدہ سہو لازم آید تانیم زیریں ازبدن انسان راست نشدہ است نہ نشستن نزدیك ست وچوں ایں نصف راست شدہ پشت ہنوز خمیدہ است بہ استادن قریب ست اگر بتمام راست استاد آنگاہ نشستن روانیست اگر بقعدہ اولٰی بازمیگر دوگنا ہگار شود اما راجح آنست کہ نماز دریں صورت ہم از دست نرود سجدہ سہو واجب شود فی الدرالمختار سھا عن القعود الاولی من الفرض ولو عملیاثم تذکرہ عادالیہ ولاسہو علیہ فی الاصح مالم یستقم قائما فی ظاھر المذھب وھو الاصح فتح ،  وان استقام قائما لایعود فلو عاد لا تفسد لکنہ یکون مسیئا ا ویسجد لتاخیر الواجب وھوالاشبہ کما حققہ الکمال وھوالحق بحر [4] اھ مختصرا وفی ردالمحتار قولہ ولاسھو علیہ فی الاصح یعنی اذا عاد قبل ان یستتم قائما وکان

جو شخص فرض یا وتر میں پہلا قعدہ بھول کر کھڑا ہونے لگے اگر وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا تو واپس لوٹ آئے اب اگر وہ قعود کے قریب تھا تو سجدہ سہو لازم نہ ہوگا اور اگر قیام کے قریب تھا توسجدہ سہو لازم ہوگا کہ جب تك انسان کا نیچے والا حصہ سیدھا نہ ہو وہ بیٹھنے کے قریب ہوتا ہے اور اگر نیچے والا نصف حصہ سیدھا ہوجائے خواہ ابھی پشت ٹیڑھی ہو وہ کھڑا ہونے کے قریب ہوگا ، اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو اب بیٹھنا جائز نہیں ، اب اگر پہلے قعدے کی طرف لوٹ آتا ہے تو گنہگار ہوگا ، اور راجح یہ ہے کہ اس کی نماز ختم نہ ہوئی اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا ، درمختار میں ہے اگر فرض ( اگر چہ عملی ہوں ) کے پہلے



[1]    جدالممتار علٰی ردالمحتار باب صلوٰۃ المریض المجمع الاسلامی مبارك پور ١ /  ٣٥٤

[2]    ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ٥٥١

[3]    ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٥٠

[4]    درمختار باب سجودالسہو مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ /  ۱٠٢



Total Pages: 262

Go To