Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

یذھب الی مسجد منزلہ ویؤذن فیہ ویصلی وان کان واحدًا لان لمسجد منزلہ حقا علیہ فیؤدی حقہ مؤذن مسجد لایحضرمسجدہ احد قالوا یؤذن ویقیم ویصلی وحدہ فذالك احب من ان یصلی فی مسجد اٰخر۔ [1]

آدمی اپنے محلہ کی مسجد میں جائے اس میں آذان دے اور نماز پڑھے اگر چہ تنہا ہو کیونکہ اس پر محلہ کی مسجد کا حق ہے جس کی ادا ئیگی ضروری ہے ، ایسی مسجد کے مؤذن کے بارے میں جس میں کوئی نہیں آتا فقہاء نے کہا ہے کہ وہ وہاں تنہا ہی آذان دے کر اور نماز پڑھے یہ دوسری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے

تنبیہ : انھیں وجوہ سے ظاہر ہوگیا کہ اہل سورت کا خا ص درجہ شتوی کو جماعتِ خانہ کہنا ایك اصطلاحِ خاص ہے اور صیفی یعنی صحن کو خارج اسی معنی پر کہتے ہیں کہ اُس جماعتِ خانہ مصطلحہ سے باہر ہے نہ بایں معنی کہ جزء ِمسجد نہیں ، اور اگر مسجد ہی کہتے ہو ں تو یہ کہنا ایساہے جیسے علماءِ کرام ظاہر بدن کو خارج البدن فرماتے ہیں جس کے یہ معنی کہ بدن بیرونی حصّہ نہ یہ کہ بدن سے باہر ، یو نہی خارج مسجد یعنی مسجد کا بیرونی ٹکڑا ، نہ یہ کہ مسجد سے خارج۔ اور بالفرض اگر انھوں نے اپنی اصطلاح میں مسجد صرف شتوی یعنی مسقف ہی کا نام رکھا ہو تو اسے مسجد نہ کہنے کا حاصل اس قدر ہو گا کہ درجہ شتویہ نہیں نہ یہ کہ شرعًا مسجد نہیں ، اُن کے افعال دائمی یعنی موسم گرما میں ہمیشہ جماعت مغرب وعشاء وفجر صحن ہی پر پڑھنا اور آذان سننے پر مکانو ں سے بارادہ صلوٰۃفی المسجد آکر یہاں جماعت کرنا جس کی تصریح سوال میں موجود ۔ اور رمضان ِگرما میں یہیں تراویح پڑھنا ، معتکف رہنا کہ عادۃًبالقطع معلوم ومشہود ، اس مرادمقصودپر شاہد مبین ومفید تعیین ومورث یقین ، کمالایخفی علی صبی عاقل فضلا عن فاضل (جیسا کہ کسی عاقل بچے سے مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پرخفی رہے۔ ت)

خامسًا : طرفہ یہ کہ انکار کرنے والے حلتِ دخول جنب میں بحث ونزاع کرتے ہیں اُن کے قول پر یہ معاذاﷲصراحۃًبدعتِ شنیعہ مسلمانوں سے علی الدوام والالتزام واقع ہوتی ہے یعنی گرمی میں مسجد چھوڑکر غیر مسجد میں جماعت پڑھنا اور حقِ مسجد تلف کرنا اس پر کیوں نہیں انکار کرتے بلکہ اس میں تو خود بھی شریك ہوتے ہیں کہ خلاف میں اپنی بھی تکلیف ہے ، اب اگر وہ اپنے قول باطل پر اصرار کرکے اسی فکر میں پڑیں کہ نماز صحن مطلقًابند کردی جائے اور ہمیشہ ہر موسم ہر وقت کی جماعت اندر ہی ہوا کرے ، اور بالفرض اُن کی یہ بات خلق کو نماز صحن سے مانع آئے تو دیکھئے موسم گرما میں کتنی مسجدیں نماز و جماعت و تراویح واعتکاف سے معطل محض ہوئی جاتی ہیں کہ لوگ جب صحن سے روکے جائیں گے اور اندر ان افعال کی بجا آوری سے بالطبع گھبرائیں گے ، لاجرم مسجد کے آنے سے باز رہیں گے اور اگر ایك دو نے یہ ناحق و بے سبب کی سخت مصیبت گوارا بھی کرلی تو عام خلائق کا تنفر قطعی یقینی ، تو اس نزاع بیجا کا انجام معاذاﷲمساجد کا ویران کرنا اور اُن میں ذکرونماز سے بندگان ِخدا کو روکنا ہے۔

قال اﷲعزوجل

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ- [2] ۔

اﷲ عزو جل نے فرمایا : اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خداکی مسجدوں کو اُن میں نامِ خدایاد کئے جانے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کو شش کرے۔

اب صحن کو مسجد نہ ماننے والے غور کریں کہ کس کا قول افسادفی الدین تھا ولاحول ولاقوۃ الّاباﷲالعلی العظیم۔

سادسًا : اس مسئلہ جلیلہ کو کلماتِ ائمہ کرام ہی سے استخراج کرنا چاہئے تو بوجوہ کثیرہ میسر ، علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مسجد مبارك حضورسیّد المرسلین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  زمانہ اقدس میں جنوباّشمالاّ یعنی دیوار ِ قبلہ سے پائینِ مسجدتك سو گز طول رکھتی تھی اور اسی قدر شرفاّغرباّعرض تھا اور پائین میں یعنی جانبِ شام ایك مسقف دالان جنوب رویہ تھا جسےصفّہ کہتے اور اہل صفّہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اُس میں سکونت رکھتے یہ بھی جزءِ مسجد تھا ، علامہ رحمة اﷲسندی تلمیذامام محقق علی الاطلاق ابن الہمام منسك متوسط اورمولانا علی قاری مکی اس کی شرح مسلك متقسط میں فرماتے ہیں :

(حدہ) ای حدودالمسجدالاول(منالمشرق من وراء المنبر نحوذراع ومن المغرب الاسطوانۃ الخامسۃ من المنبر ومن الشام حیث ینتھی مائۃ ذراع من محرابہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) وھو معلوم لاھل المدینۃ بالعلامۃ الموضوعۃ  [3] اھ ملخصًا۔                                       

(اس کی حد) یعنی مسجد اول کی حدود (منبر کی دوسری طرف مشرق کی طرف ایك گز کے برابر ہے ، اور جانبِ مغرب پانچویں ستون تك اور جانبِ شام حضور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے محراب سے سو گز ہے) اور نشانات مخصوصہ کی وجہ سے اہل مدینہ کو معلوم ہے اھ تلخیصًا۔ (ت)

علامہ طاہرفتنی مجمع بحار الانوارمیں فرماتے ہیں :

اھل الصفۃ فقراء المھاجرین ومن لم یکن لہ منھم منزل یسکنہ فکانوا یاوون الی موضع مظلل فی مسجدالمدینۃ۔ [4]

اہل سفّہ مہاجر فقراء میں سے تھے اور جس کے لئے گھر نہ ہوتا وُہ وہیں ٹھہرتا ، پس صفّہ مسجدِنبوی میں ایك چھتدار جگہ میں رہتے تھے۔ (ت)

صحیح بخاری شریف میں ہے :

باب نوم الرجال فی المسجد وقال ابوقلابۃ عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ قدم رھط من عکل علی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فکانوا فی الصفۃ ،  وقال عبدالرحمٰن

باب لوگوں کا مسجد میں سونے کے بارے میں ، ابوقلابہ حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ عکل کا ایك وفد رسالتمآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی خدمت ِ اقدس میں آیا اور وہ صفہ میں تھے

 



  [1]   فتاوٰی قاضیخاں فصل فی المسجد مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۳۲ /  ۱

[2]   القرآن ٢ /  ۱۱۴

  [3]     مسلك متقسط مع ارشادالساری فصل ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ المشرفۃ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ص٣۴٣

[4]      مجمع بحارالانوار لفظ صفف کے تحت مذکور ہے مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۲ /  ٣٥٣



Total Pages: 262

Go To