Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

 

 

 

 

 

 

باب الاستسقاء

(نمازِ استسقاء کا بیان)

 

مسئلہ ١٤٥١: از محلہ کوٹ پرگنہ سنبھل ضلع مراد آباد مکان مولوی لئیق احمد صاحب مرسلہ مظہر حسین صاحب ٢٣ ذیقعدہ

١٣٣١ھ   

نماز استسقاء نماز ہے یا دُعا، اور استسقاء کیسے وقت میں ہونا چاہئے؟ بینوا توجروا

الجواب:

نماز استسقاء صاحبین کے نزدیک سنت ہے اور اسی پر عمل ہے اور اُس وقت ہونا چاہیے جبکہ حاجت شدید ہو اور امید منقطع ہوچکی ہو اور لوگ اس کے آداب کے طور پر اسے بجالائیں خشیت وخشوع اس کی اصل ہے اور وہ آج کل اکثر قلوب سے مرتفع الّا ماشاء اﷲ اس ملک میں ہمسایہ کفار ہیں ہماری بے طور یوں کے باعث کہ نہ دعا کے طور پر کرتے ہیں نہ نماز کے طور پر نماز پڑھتےـاگر اجابت نہ فرمائی جائے تو کفار کے مضحکہ کا اندیشہ ہے اس لئے یہاں کی حالت کے مناسب تر اس عمل پر اقتصار رہے جو قرآن عظیم میں نزول بارانِ رحمت کے لئے ارشاد ہوا یعنی کثرت استغفار توجہ عزیز غفار اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا [1]( تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے تم پر شراٹے کا مینہ بھیجے گا ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم

___________


 

 



[1] ا لقرآن ٧/۱۰ و ۱۱



Total Pages: 673

Go To