Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

 

 

 

التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ
(اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)

 

مسئلہ١۱۱٦: از قصبہ کٹھور، اسٹیشن سائن ضلع سورت، ملك گجرات،مسجد پُر ب والے، مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب مدرس

مدرسہ عربی کھٹو رو سیٹھ بانا بھائی صاحب مہتمم مدرسہ ۲۷جمادی الاولٰی۱۳۰۷ھ

 کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت اس صحنِ مسجد کے حکم پر مو سم گرما میں ہمیشہ نماز فرض با جماعت مغرب و عشاء و فجر اور کبھی عصر بھی ادا کی جا ئے، اور یہ مسجد چو نکہ برسرِ بازار واقع ہے اس واسطے آمد ورفت نمازیو ں کی زیادہ ہے عصر و مغرب کو کبھی جماعت ہو چکی ہو تو اکثر آدمی آکر اُس صحن پر اکیلے فرض نماز پڑھ لیتے ہیں کبھی دوچار آدمی آگئے تو وہا ں پر جماعت بھی کرلیتے ہیں اور مو سم اعتدال ربیع و خریف میں بھی کبھی معمولی جماعت صحنِ مذکو ر پر ہو جا یا کرتی ہے، اب صحنِ مذکو ر کو حکم مسجد کا دیا جائے یا نہیں؟ اس پر جنبی وغیرہ ناپاك آدمی کا بلا عذر شرعی کے جانا جا ئز ہے یا نہیں ؟ وہ شخص باہم مناظرہ کرتے ہیں ایك کے نزدیك صحن مذکور مسجد ہے اور جنبی کا اس پر جانا حرام، اور دوسرے کے نزدیك مصلی عید کے حکم میں ہے جنبی کو اس پر جانا جائز ہے ، دلیل اس کی یہ ہے کہ ہمارے شہر سُورت میں اندرون مسجد کو جماعت خانہ اور صحنِ مسجد کو خارج بولتے ہیں، دوسری دلیل یہ کہ فنا اور حریم مسجد اور صحنِ مسجد باعتبار مفہوم کے متحد ہیں فنا اور حریم مسجد پر جب جنبی کو جانا جائز ہو توصحن پر بھی جائز ہوگا کس واسطے کو فناء کو حکم مصلی عیدکا ہے اورعلماۓ سورت میں سے دو٢عالم صحن مذکورحکم مسجد کا فرماتے ہیں ان دونوں عالموں میں سے ایك عالم صاحب اس شخص کے جو صحنِ مسجد کو خارجِ مسجدکہتا ہے استاد بھی ہیں،اب ہر ایك مناظرین مرقومہ بالا میں سے ایك دوسرے کو مفسد کہتا ہے مفسد فی الدّین ہے اور مصلح عندالشرع کون ؟ اور لفظ فناء مسجد اور حریم مسجد کے معنی صحن مسجد کے سمجھنا صیحح ہیں یاغلط؟ اور دوسرے یہ کہ ساکنانِ شہر سورت کا عرف کہ


 

 



Total Pages: 673

Go To