Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

 

 

 

 

 

 

 

باب العیدین

(عیدین کا بیان)

 

مسئلہ نمبر ۱۴۱۲ :    ازسہسرام محلہ پرتلہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت اﷲ صاحب                                ۵شوال ۱۳۳۹ ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداعلم بالسنۃ پابندِ صلٰوۃ متقی نے اول خطبہ عیدالاضحٰی پڑھ کر لبیك اور صلٰوۃ والسلام نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور تکبیر بآواز بلند خود کہا اور مصلیوں سے کہلایا پھر بارك اﷲلنا ولکم پڑھ کر بیٹھا پھر دوسراخطبہ پڑھا بعد فراغ سوال کیا گیا یہ غیر مشروع فعل کیوں کیا اس نے جواب دیا میرا یہ فعل غیر مشروع نہیں حالتِ کیف میں صادر ہُوا مثل قول مبارك حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ یاساریۃ الجبل ہے، یہ دعوی مدعی کا کہاں تك صحیح ہے اور ایسے فعل کا مرتکب لائقِ ملامت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

لبیك ودرود کہ اس نے خود کہا حرج نہیں البتہ مقتدیوں سے کہلانا بے محل وُہ خطبہ میں مامور بالسکوت ہیں،اگر حالتِ وجد میں ایسا ہُواجیسا کہ اُس کا بیان ہے تو معذور ہے اور جب سائل اسے عالم سنّی متقدی کہتا ہے تو اس کا بیان کیوں نہ تسلیم کیا جائے معہذا مسئلہ شرعیہ معلوم کرلینا دوسری بات


 

 



Total Pages: 673

Go To