Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

ماتن کا قول “ اگر اسے وہ محفوظ رکھیں “ یہ اس ضابطہ پر مبنی ہے جس کا تذکرہ شمس الائمہ نے کیا کہ جب واقف وقف کے لیے کوئی مصرف بیان کرے تو ضرور ہے کہ لوگوں میں اس کی حاجت و ضرورت بیان کرے خواہ وہ ضرورت حقیقۃً ہو مثلًا یتامی اور بے دست و پا لوگ کیونکہ ان میں اغلب طور پر فقر ہوتا ہے پس اغنیاء و فقراء کے لئے یہ صحیح ہوگا جبکہ وہ اسے محفوظ رکھنے والے ہوں ورنہ فقط فقراء کیلئے ہوگا ۔ (ت)

وقف بھی صدقہ ہی ہے بلکہ صدقہ جاریہ مستمرہ حتی کہ اگر خاص چند اغنیاء پر ہو جب بھی اس کا آخر فقراء کےلئے ہونا لازم ، صحیح بخاری وصحیح مسلم میں عبداﷲ بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے مروی :

ان عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اصاب ارضا بخیبر فاتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یستا مرہ فیھا فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان شئت حبست اصلھا وتصدقت بھا قال فتصدق بھا عمر انہ لایباع ولا یوھب ولا یورث و تصدق بھا فی الفقراء و فی القربی وفی الرقاب وفی سبیل اﷲ وابن السبیل والضیف [1]۔                                                

حضرت عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے خیبر میں کچھ زمین حاصل کی تورسالتمآب   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اس کے بارے میں آپ سے رہنمائی حاصل کی جائے ، تو آپ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا : اگر آپ چاہیں تو اسے ( منتقل ہونے سے ) روك لیں اور صدقہ کردیں ، حضرت عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اسے صدقہ کردیا اسی طرح کہ نہ اسے بیچا جائے گا نہ ہبہ کیا جائے گا ۔ اس میں وراثت جاری نہ ہوگی اور اسے فقرإ ، قریبی رشتہ دار ، غلاموں کی آزادی ، راہ خدا میں ، مسافروں اور مہمانوں کے لئے صدقہ کردیا ۔ (ت)

یہ حدیث محرر المذہب سید نا امام محمد نے مبسوط میں یوں روایت فرمائی :

اخبر نا صخر بن جویرۃ مولٰی عبد اﷲ بن عمران عمر بن الخطاب کان لہ ارض تدعی ثمغا وکان نخلا نفیسا فقال یا رسو ل اﷲ انی استفدت مالا ھو عندی نفیس افاصدق بہ فقال رسول اﷲ صلی علیہ وسلم تصدق با صلہ لایباع ولا یوھب ولا یورث ولکن تنفق ثمرتہ فتصدق بہ عمر فی سبیل اﷲ وفی الر قاب وللضیف وللمسافر و                                           

ہمیں صخر بن جویرہ جو کہ عبداﷲ بن عمر کے آزاد کردہ غلام تھے نے بیان کیا کہ حضرت عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پاس ایك ثمغ نامی زمین کا ٹکڑا تھا اور وہاں نہایت اچھا کھجوروں کا باغ تھا انھوں نے حضور اکرم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا میں نے ایسا مال حاصل کیا ہے جو میرے نزدیك نہایت ہی قیمتی ہے کیا میں اسے صدقہ کردوں ؟ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا کہ اس کا اصل صدقہ کردو اس طرح کہ نہ اسے بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے اور نہ ہی اس کا وارث بنایا جائے لیکن اس کا پھل خرچ کیا جائے

لابن السبیل ولذی القربی [2] الحدیث۔

حضرت عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اسے راہ خدا غلاموں کی آزادی ، مہمان نوازی ، مسافر ، ابن سبیل اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کردیا ۔ (ت)

صحیح بخاری کے بھی بعض طرق میں بالفاظ امام محمد ہے : تصدق باصلہ لایباع [3]۔ الحدیث (اس کا اصل صدقہ کردو اسے فروخت نہ کیا جائے الحدیث۔ ت)

مانعین٣ کیا کہتے ہیں اُس صورت میں جبکہ مثلًا کوئی اہل خیر سو ١٠٠ مصحف شریف ان کے مدرسہ یا یتیم خانے میں بھیجے کہ ان میں غربا کے بچے اور یتامٰی پڑھاکریں اس کا یہ فعل حسن وباعث ثواب ہے یا حرام وموجب عذاب بلکہ معاذ اﷲ کفر ، اور٤اگر اس نے نذرمانی ہوکہ اﷲ تعالٰی کےلئے دس مصحف شریف فقرائے مسلمین کو دوں گا تو یہ نذر حلال ہے یا حرام وکفر ، اور ٥اگر وصیت کی ہو کہ میری ملك کے مصاحف سب میرے بعد فقرائے مسلمین کے دے دئیے جائیں اور وہ ثلث مال سے زائد نہ ہوں تو یہ وصیت صحیح یا باطل اور یہ دینا وصی پر واجب ہے یا حرام ، پھر یہ حکم صرف مصحف شریف کے لئے یا کتب حدیث وفقہ کے لئے بھی ، طرفہ یہ کہ مانعین کے امام الطائفہ گنگوہی کے فتاوی حصہ٣ میں ہے :

سوال : خرید کر قرآن دینا درست ہے یا نہیں ؟

جواب : زکوٰۃ کے روپے سے قرآن کتاب کپڑا وغیرہ جو کچھ خرید کر دے دیا جائے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے اھ اور بات یہ ہے مانعین حقیقت امر سے غافل ہیں جو اس کی تحقیق بازغ کا طالب ہو ہمارے فتاوی کی طرف رجوع کرے وباﷲ التوفیق واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١٢١٥ :       از ریاست رام پور مرسلہ حبیب اﷲ بیگ جماعت مولوی فاضل اورنٹیل کالج        ١٧ صفر ١٣٣٨ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طریقہ اسقاط جو ملك افغانستان میں مروج ہے وہ شرعًا ثابت اور مستحسن ہے یا نہیں ، اگر ثابت ہے تو اس کی کیا دلیل ہے ، اور فدیہ صوم اگرچہ منصوص ہے لیکن فدیہ صلوٰۃ پر کون سی نص ہے اور یہ یعنی دوران قرآن کیوں متروك العمل ہے اور یہ ہندوستان میں کیوں مروج نہیں ، بر تقدیر ثانی یہ عبارت فتاوٰی سمرقندیہ کی بالکل غلط ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے :

لما صنف الامام الربانی محمد بن حسن الشیبانی فی کتاب الحیل فی کل باب انکر

جب امام ربانی محمد بن حسن الشیبانی نے ہر معاملہ کے بارے میں کتاب الحیل لکھی تو اس پر علماءِ بغداد نے

علیہ علماء البغداد بلغوا تلك القصۃ الی خلیفۃ البغداد فقال الخلیفۃ ارسل الی ذلك فان کان موافقا للاصول فبھا والا فنخرقہ فقال ان العلماء احساد واوانکر و ا حسدا فجاء الامام بذلك الكتاب الی الخلیفۃ فنظر فیہ فتعجب فطلب العلماء و قال انظروا فیہ بدقۃ النظرمن غیر حسد فلما رأوہ قالوا فقد احسن محمد ضاعف اﷲ اجرہ الی الابد ثم سئل الخلیفہ عن الامام ای اصل اخرجت تلك المسائل قال اخرجت من قصۃ ایوب ویوسف وسنۃ حیلۃ الرباء والحد فقال الخلیفۃ للعلماء من انکرالحیلۃ فقد انکر القراٰن والحدیث واجماع العلماء فالتعزیز واجب علیہ فلما حول ورقۃ وقع النظر علی حیلۃ الاسقاط فقال الامام اسھل طریقتہ ان یبیع الوارث علی الفقیر مصحفا قابل القراء ۃ ثم یھب الفقیر للوارث ثم فثم حتی یتم لعل اﷲ یجعل فدیۃ الصوم والصلٰوۃ والزکوٰۃ وغیرھا فقال العلماء قلت قولا حسنا بارك اﷲ فی عمرك فاکتب فی کتابك فکتب الامام تلك الحیلۃ فی کتابہ فشاع فی زمان الخلیفۃ (الدرالبرر للامام الغز الی) قال الشارح السمر قندی                                  

 



[1]    صحیح مسلم باب الوقف مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ٢ /  ٤١

[2]    سنن الدارقطنی باب کیف یکتب الحبس مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ٤ /  ١٩٣

[3]    صحیح البخاری باب الوقف وکیف یکتب مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١١ /  ٣٨٩



Total Pages: 262

Go To