Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام                    شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
 اُن کے مولٰی کے ان پرکروروں درود     اُن کے اصحاب وعترت پہ لاکھوں سلام
 شافعی ، مالک ، احمد ، امام حنیف               چار باغِ امامت پہ لاکھوں سلام
بے عذاب وعتاب وحساب وکتاب        تا ابد اہل سنت پہ لاکھوں سلام
 ایك میرا ہی رحمت پہ دعوٰی نہیں          شاہ کی ساری اُمّت پہ لاکھوں سلام

اٰمین یارب العٰلمین!

____________________

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

با ب احکام المسجد  احکام مسجد کا بیان

مسئلہ ۱۱۱۵ :                    ازلکھنو محلہ علی گنج مرسلہ حا فظ عبد اﷲ                ٥ذی الحجہ ١٣٠٦ھ

کیا فر ماتے ہیں علما ئے دین جواب اس مسئلہ کا کہہ سقفِ مسجد پر بسبب گرمی کے نما ز پڑھنا جا ئز ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
   الجواب :

 مکروہ ہے کہ مسجد کی بے ادبی ہے ، ہا ں اگر مسجد جماعت پر تنگی کرے نیچے جگہ نہ رہے تو باقی ماند ہ لوگ چھت پر صف بندی کر لیں یہ بلا کر اہت جائز ہے کہ اس میں ضرورت ہے بشرطیکہ حال اما م مشتبہ نہ ہو۔

فی العلمگیریۃ الصعود علی کل مسجد مکروہ ولھذا اذا اشتد الحریکرہ ان یصلوا بالجماعۃ فوقہ الااذاضاق المسجد فحٍ لایکرہ الصعود علی سطحہ لضرورۃ کذا فی الغرائب [1]  واﷲ تعالٰی اعلم۔

عالمگیری میں ہے ہر مسجد کے اوپر چڑھنا مکروہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے وقت اس کے اوپر جماعت کرانا مکروہ ہے البتہ اس صورت میں کہ مسجد نمازیوں پر تنگ ہو جا ئے تو ضرورت کی وجہ سے مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں ۔ جیسا کہ غرائب میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ
(اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)

 

مسئلہ١۱۱٦ : از قصبہ کٹھور ، اسٹیشن سائن ضلع سورت ، ملك گجرات ، مسجد پُر ب والے ، مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب مدرس مدرسہ عربی کھٹو رو سیٹھ بانا بھائی صاحب مہتمم مدرسہ ۲۷جمادی الاولٰی۱۳۰۷ھ

 کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت اس صحنِ مسجد کے حکم پر مو سم گرما میں ہمیشہ نماز فرض با جماعت مغرب و عشاء و فجر اور کبھی عصر بھی ادا کی جا ئے ، اور یہ مسجد چو نکہ برسرِ بازار واقع ہے اس واسطے آمد ورفت نمازیو ں کی زیادہ ہے عصر و مغرب کو کبھی جماعت ہو چکی ہو تو اکثر آدمی آکر اُس صحن پر اکیلے فرض نماز پڑھ لیتے ہیں کبھی دوچار آدمی آگئے تو وہا ں پر جماعت بھی کرلیتے ہیں اور مو سم اعتدال ربیع و خریف میں بھی کبھی معمولی جماعت صحنِ مذکو ر پر ہو جا یا کرتی ہے ، اب صحنِ مذکو ر کو حکم مسجد کا دیا جائے یا نہیں ؟ اس پر جنبی وغیرہ ناپاك آدمی کا بلا عذر شرعی کے جانا جا ئز ہے یا نہیں ؟ وہ شخص باہم مناظرہ کرتے ہیں ایك کے نزدیك صحن مذکور مسجد ہے اور جنبی کا اس پر جانا حرام ، اور دوسرے کے نزدیك مصلی عید کے حکم میں ہے جنبی کو اس پر جانا جائز ہے ، دلیل اس کی یہ ہے کہ ہمارے شہر سُورت میں اندرون مسجد کو جماعت خانہ اور صحنِ مسجد کو خارج بولتے ہیں ، دوسری دلیل یہ کہ فنا اور حریم مسجد اور صحنِ مسجد باعتبار مفہوم کے متحد ہیں فنا اور حریم مسجد پر جب جنبی کو جانا جائز ہو توصحن پر بھی جائز ہوگا کس واسطے کو فناء کو حکم مصلی عیدکا ہے اورعلماۓ سورت میں سے دو٢عالم صحن مذکورحکم مسجد کا فرماتے ہیں ان دونوں عالموں میں سے ایك عالم صاحب اس شخص کے جو صحنِ مسجد کو خارجِ مسجدکہتا ہے استاد بھی ہیں ، اب ہر ایك مناظرین مرقومہ بالا میں سے ایك دوسرے کو مفسد کہتا ہے مفسد فی الدّین ہے اور مصلح عندالشرع کون ؟ اور لفظ فناء مسجد اور حریم مسجد کے معنی صحن مسجد کے سمجھنا صیحح ہیں یاغلط؟ اور دوسرے یہ کہ ساکنانِ شہر سورت کا عرف کہ اندرون مسجد جماعت خانہ اور صحنِ مسجد خارج مسجد بولنا یہ عندالشرع معتبر ہے یا نہیں ؟ اور کس قدریں نمازیں ہر سال میں اُس صحن پر ادا کی جائیں کہ وہ صحن مسجد بن جائے؟ اُس صحن کی مسجد بن جانے میں سوائے نماز کے اور کوئی دوسری شرط بھی عندالشرع معتبر ہو تو تحریر فرمائیں ۔ بینوا  توجروا۔

الجواب :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

الحمدﷲ والصلوٰۃوالسلام علی رسول اﷲ

 



[1]   فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد مطبوعہ نورانی کتب خا نہ پشاور ٢ /  ۳۲۲



Total Pages: 262

Go To