Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

 

 

 

 

 

رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ

(دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)

 

مسئلہ ١٤٠٨: از کٹھور اسٹیشن سائن ضلع سورت مر سلہ مولوی عبدالحق صاحب مدرس مدرسہ عربیہ١٥جمادی الآخرہ ١٣١٠ھ

اس جائے پر بروز جمعہ بین الخطبتین کے جلسہ میں ہاتھ اٹھا کر دُعا آہستہ مانگی جاتی ہے اور بعض لوگ اس کو مکروہِ شدید وحرام وبدعتِ سیئہ وشرك قرار دے کر اس فعل کو منع کرتے ہیں، لہذا التماس یہ ہے کہ اس کے جوابِ باصواب سے جو دافع جدال ہو تحریر فرماکر رفعِ خصومت بین المسلمین فرمائیں۔

الجواب:

امام کے لئے تو اس دُعا کے جواز میں اصلًا کلام نہیں، جس کے لئے نہیِ شارع نہ ہونا ہی سند کافی، ممنوع وہی ہے جسے خدا رسول منع فرمائیں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم، بے اُن کی نہی کے ہر گز کوئی شے ممنوع نہیں ہوسکتی خصوصًا دُعا سی چیز جس کی طرف خود قرآنِ عظیم نے بکمال ترغیب وتاکید علی الاطلاق بے تحدید وتقیید بلایا اور احادیث شریفہ نے اسے عبادت ومغزِ عبادت فرمایا، پھر یہاں صحیح حدیث کافحوی الخطاب اُس کی اجازت پر دلیل صواب کہ خود حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا عین خطبہ میں دست مبارك بلند فرماکر ایك جمعہ کو مینہ برسنے اور دوسرے کو مدینہ طیبہ پر سے کُھل جانے کی دُعا مانگنا، صحیح بخاری ومسلم وغیرہا میں حدیثِ انس رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی  حالانکہ وہ قطعِ خطبہ کو مستلزم، تو بین الخطبیتن بدرجہ اولٰی  جواز ثالث، لاجرم علمائے کرام نے شروحِ حدیث وغیرہ کتب میں صاف اُس کا جواز افادہ فرمایا،مولٰنا علی قاری مکی حنفی رحمہ اﷲ تعالٰی  مرقاۃ شرح


 

 



Total Pages: 673

Go To