Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

ازاں پایہ منبر کہ حمد وثنا ودرود گفتہ ذکر خلفائے کرام کردہ نشیب آید و ذکر کر و دعائے سلطان چوں تمام کند باز بالا رفتہ خطبہ باقیہ تمام کند [1]انتہی مطلب عبارت مکتوب کایہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی جان لیں کہ جمعہ کے دن خطبہ میں نام بادشاہوں کو نیچے کے زینے منبر پر اُتر کر پڑھتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے، آنجناب اس کی یہ وجہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ تواضع وفروتنی ہے کہ بڑے بڑے مسلمان بادشاہوں نے بہ نسبت نبی کریم علیہ الصلٰوۃ والسلام وخلفائے راشدین آں سرورٖ کائنات علیہم الصلٰوۃ والتسلیمات کے کی ہے اور ان بادشاہوں نے یہ بات جائز نہیں رکھی ہے کہ بادشاہوں کے نام ساتھ اسامی اکابردین کے ایك درجہ میں مذکور ہوں، حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ الباری اُن نیك بخت بادشاہوں کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی  ان بادشاہوں کی کوشش کو قبول کرے اور ان کو جزائے خیر عطافرمائے۔اور مطلب عبارت"ترغیب الصلٰوۃ"کا یہ ہے کہ منبر کے اس زینۂ معلومہ پر حمد وثناء ودرود پڑھ کر اورذکر خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی  عنہم کرکے نیچے کے زینہ پر خطیب آئے اور ذکر و دعائے سلطان کرکے جب دعائے سلطان تمام ہوجائے پھر اوپر کے زینہ پر چڑھ کر خطبہ باقیہ تمام کرے۔اب منصفین غور فرمائیں کہ ہمارے حنفی مذہب کی کتاب میں بھی اس زینہ اُترنے کے لئےملاحسین کاشفی حنفی مصنف تفسیر حسینی نے تحریر فرمایا ہے اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ نے اس کی وجہ بھی بیان کردی ہے کہ بوجہ مذکور الصدر کے یہ زینہ اُترنا جاری ہوا ہے اب جوعلماء اس کو بدعتِ قبیحہ شنیعہ فرماتے ہیں بغور ملاحظہ فرمائیں کہ بدعت قبیحہ ومنکر مطابق عبارت شرح طریقہ محمدیہ کے جب ہوتی ہے کہ اس کی تخریج ہمارے مذہب کے کسی قول کے موافق ممکن نہ ہو اور مانحن فیہ میں خود ہمارے حنفی مذہب کی کتابوں میں اس زینہ اترنے کو تحریر فرمایا ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کی ہے اب یہ زینہ اترنا بدعت کیسے ہوا، ہاں جو علماء اس کو بدعت قرار دیتے ہیں حنفی مذہب کی اور کتابوں سے اس کا بدعت قبیحہ ہونا ثابت کریں یا کسی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ زینہ اترنا حرام اجماعًا ہے یا شارع علیہ السلام نے صراحۃً منع فرمایا ہے جب اس کا منکر ہونا ثابت ہو تو اس سے منع کرنا واجب ہوگا ودونہ خرط القتاد (جبکہ اس کے آگے مضبوط رکاوٹ ہے ۔ت) اور جو علماء اس زینہ اترنے کو بدعت قبیحہ شنیعہ قول علامہ ابن حجر شافعی سے ثابت کرتے ہیں ان پر یہ بات ضرور ہے کہ اس کا بدعت قبیحہ شنیعہ ہونا ثابت کریں، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد اول صفحہ ۱۷۹میں ہے :


 

 



[1] ترغیب الصلٰوۃ لعلامہ حسین کاشفی



Total Pages: 673

Go To