Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

شنیعۃ [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔

چلاجانا بدترین بدعت ہے، واﷲ تعالٰی  اعلم بالصواب

محمد عیسٰی  عفی عنہ، المجیب مصیب عنداﷲ عبدالرحمن ولد مولوی محمد عیسٰی  عفی عنہ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم o اللھم ارنا الحق وارزقنا اتباع وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔

اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت ہی مہربان اور رحم والا ہے، اے اﷲ ! ہمیں حق دکھا اور اس پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق دے ۔(ت)

مجیب لبیب نے زینہ اترنے کا ناجائز ہونا بلکہ بدعت شنیعہ ہونا جوعلامہ شامی نے ابن حجر شافعی کے قول سے جوان کی کتاب تحفہ میں نقل کیا ہے ثابت کیا ہے ہر گز ناجائز ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے نہ بدعت شنیعہ ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے،

طریقۂ محمدیہ کی شرح میں لکھا ہے :

ان المسئلۃ الواقعۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا اومذھب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ خصوصا [2] انتھی مختصرا۔

یعنی اگر کوئی مسئلہ ایسا واقع ہو کہ اس کی تخریج ہمارے حنفی مذہب کے کسی قول کے موافق ممکن ہو شافعیوں یا حنبلیوں یا مالکیوں کے مذہب کے موافق اس کی تصریح ممکن ہو تو وہ ایسا منکر نہیں کہ اس کا انکار کرنا اور اس سے منع کرنا واجب ہو بلکہ ایسا اس منکر کیلئے ہے جس کی حرمت اجماعی ہو اور شارع علیہ السلام نے اس سے بالخصوص منع کیا ہو انتہی مختصرًا (ت)

اب اہل انصاف بغور ملاحظہ فرمائیں کہی اس زینہ اترنے کی وجہ کیا ہے، امام ربانی حضرت مجد دالف ثانی رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ اپنے مکتوبات کی جلد ثانی کے صفحہ  ۱۶۲ مطبوعہ نولکشور میں تحریر فرماتے ہیں:میدانیہ کہ درخطبہ روز جمعہ نام سلاطین کہ

درزینہ پایہ سہ فرود آمدہ می خوانند وجہش چیست ایں تواضعیست کہ سلاطین عظام نسبت بآں سرور وبخلفائے راشدین علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات نمودہ اند و جائز نداشتہ اند کہ اسامی ایشاں بااسامی اکابردین دریك درجہ مذکور شود شکراﷲ سعیھم[3] انتھی علامہ حسین کاشفی مؤلف تفسیر حسینی اپنی کتاب"ترغیب الصلٰوۃ"میں فرماتے ہیں :


 

 



[1] ردالمحتار باب الجمعۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ١/٦٠٨

[2] طریقہ محمدیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الثالث الثلاثون مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد  ۲ /۳۰۹

[3] مکتوبات امام ربانی  مکتوب نود ودوم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ  ٢/١٦٢



Total Pages: 673

Go To