Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

غرضیکہ کیاکیالکھوں اورکہاں تك لکھوں کہ ع 

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی راسخن پایاں

  مگرفی الحال اختصار کے پیش نظر اتناہی کہوں گا کہ اتنے اوصاف ومحاسن پرمشتمل خطبہ آج تك نہیں لکھاگیا۔ باقی خصوصیات کوچھوڑئیے ، صرف ایك خصوصیت پرنظرڈال لیجئے ، آپ کومیرے دعوے کی صداقت کایقین آجائے گا۔ اور وہ حیرت افزا خصوصیت یہ ہے کہ اس خطبے میں مجموعی طورپر نوے ٩٠کتابوں اوراماموں کے نام مذکورہیں اور جس خوبی ولطافت سے مذکور ہیں اس پرفصاحت نازکرتی ہے اور بلاغت جھوم جھوم اُٹھتی ہے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ فصاحت وبلاغت کی یہ رعنائیاں صرف خطبے تك ہی محدودنہیں ، بلکہ پورافتاوٰی تخیل کی نزاکتوں اور ادبی لطافتوں سے مالامال ہے۔ اگر اس کی تفصیل بیان کی جائے توسینکڑوں صفحات درکارہیں ؛ تاہم ایك امتیازی کمال کی طرف اہل ذوق کومتوجہ کرناضروری سمجھتاہوں ۔ احمدرضا کامعمول ہے کہ اگرکسی سوال کاجواب زیادہ تفصیل سے دیناہوتو اس کومستقل رسالہ بنادیتے ہیں اورباقاعدہ اس کانام رکھتے ہیں ۔ یہ اس قدرموزوں ، مناسب اور واقع کے مطابق ہوتاہے کہ پڑھنے والا امام احمدرضا کی دسترس اور رسائی پرحیران رہ جاتاہے۔ ہرنام میں مندرجہ ذیل چارخصوصیات مشترك ہوتی ہیں :

(۱) ہرنام عربی میں ہوتاہے خواہ رسالہ کسی بھی زبان میں ہو۔

(٢) ہرنام دوحصوں پرمشتمل ہوتاہے اور دونوں حصوں کاآخری حرف ایك ہی ہوتاہے ، یعنی سجع کاپورا پورا خیال رکھاجاتاہے۔
(
۳) ہرنام اسم بامسمّٰی ہوتاہے ، یعنی نام ہی سے پتاچل جاتاہے کہ اس رسالے کاموضوع کیاہے۔

(٤) ہرنام تاریخی ہوتاہے ، یعنی ابجد کے حساب سے اگر اس کے حروف کے اعداد نکالے جائیں تو ان کامجموعہ اس سَن پر دلالت کرتاہے جس میں وہ رسالہ لکھاگیا۔

مثال کے طور پر رضافاؤنڈیشن کے زیراہتمام انتہائی آب وتاب سے چھپنے والی فتاوٰی رضویہ کی پہلی جلد میں گیارہ رسالے ہیں ان میں سے بطور نمونہ صرف تین نام پیش خدمت ہیں :

(ا) اگر امام ابوحنیفہ اور صاحبین ومتاخرین فقہاء کاکسی مسئلے میں اختلاف ہوجائے تو اس صورت میں کس کے قول پر فتوٰی ہوگا؟ امام صاحب کے؟ صاحبین ودیگرفقہاء کے؟ یابعض معمولات میں امام صاحب کے قول پر اوربعض صاحبین ودیگرفقہاء کی رائے پر؟ اس مسئلے کی توضیح کے لئے امام احمد رضانے جو رسالہ لکہا اس کے نام سے ہی ان کی تحقیق واضح ہوجاتی ہے۔

اجلی الاعلام ،  ان الفتوی مطلقا علی قول الامام

(واضح اعلان کہ فتوٰی بہرصورت امام ابوحنیفہ کے قول پرہے)

(ب) کون سی نیند ناقض وضو ہے اور کون سی نہیں ۔ اس کی تفصیلات سے قوم کوآگاہ کرنے کے لئے جو رسالہ لکھا اس کانام ہے :

نبہ القوم ،  ان الوضوء من ای نوم

(قوم کوآگاہ کرنا کہ کون سی نیند کے بعد وضوء ہے)

(ج) حالت جنابت میں قرأت جائزہے یانہیں ؟ اگرجائزہے تو کن کن صورتوں میں ؟ ان مسائل سے پردہ اٹھانے والے رسالے کانام ہے؟

ارتفاع الحجب ،  عن وجوہ قرأۃ الجنب

(پردوں کااُٹھ جانا ، ان تمام صورتوں سے جو جنبی کی قرأ ت سے متعلق ہیں )

تینوں رسائل کے نام مندرجہ بالاچاروں خصوصیات کے جامع ہیں جن میں سے پہلی تین تو واضح طورپرنظرآرہی ہیں ؛ البتہ چوتھی خصوصیت یعنی نام کا تاریخی ہونا ، استخراج کاتقاضاکرتی ہے۔ نبہ القوم کااستخراج درج ذیل ہے کیونکہ یہ نام تینوں میں مختصرہے ، باقیوں کو اس پرقیاس کرلیجئے۔

نبہ القوم  ن ،  ب ،  ہ ،  ا ،  ل ،  ق ،  و ،  م
 ٥٠+٢+٥+١+٣
۰+١٠٠+٦+٤٠_______________________= ٢٣٤
ان الوضوء من ای نوم ا ،  ن ،  ا ،  ل ،  و ،  ض ،  و ،  م ،  ن ،  ا ،  ی ،  ن ،  و ،  م + ١+٥٠+١+٣٠+٦+٨٠٠+٦+٤٠+٥٠+۱+١٠+٥٠+٦+٤٠ = ١٠٩۱     ١٣٢٥

١٣٢٥اس کامجموعہ اعداد ہے اور یہی سن تاریخ ہے۔

امام احمدرضا کے سوا ایسے عمدہ ، اعلٰی ، دلنشنین اور فکروفن کے شہکار نام کون رکھ سکتاہے! تاریخ میں کسی ایك فاضل کانام بتادیجئے جس نے اتنے رسالے لکھے ہوں اور ان کے ایسے خوبصورت نام رکھے ہوں !

بلاشبہ امام احمدرضا متنبی کے اس شعر کاحقیقی مصداق ہیں ؛  ؎

مضت الدھور ومااتین بمثلہ
ولقد اتی فعجزن عن نظرائہ
وصلی اﷲ علی سیّدنا ومولٰینا محمد وعلٰی اٰلہ واصحابہ وذریاتہ اجمعین

 



Total Pages: 262

Go To