Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

مجلس میلاد مبارك کہ روایات صحیحہ سے ہو اور اشعار کہ پڑھے جائیں مطابق شرع مطہر ہوں اور الحان سے پڑھنے والے مرد غیر امرد ہوں ، مسجد میں بھی جائز ہے کہ مساجد ذکر الہٰی کے لئے بنیں اور نبی   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ذکر بھی ذکر الہٰی ہے ، حدیث میں ہے رب عز وجل نے کریمہ ورفعنا لك ذکرك كے نزول کے بعد کہ ہم نے بلند کیا تمھارے لئے تمھارا ذکر ، جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدمت اقدس حضور سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں بھیج کر ارشاد فرمایا : اتدری کیف رفعت لك ذکرک[1]جانتے ہو میں نے تمھارا ذکر تمھارے لئے کیونکر بلند فرمایا؟ حضور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے عرض کی : تو خوب جانتاہے ۔ فرمایا : جعلتك ذکر امن ذکری فمن ذکرك فقد ذکرنی [2] میں تمھیں اپنے ذکر میں سے ایك ذکر بنایا تو جو نے تمھارا ذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا۔ قادیانی مرتدین ہیں ان کی بات پر کان لگانا جائز نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١١٧٨ : مسجد میں مسائل کا بطور وعظ کے قبل نماز کے کوئی نفل پڑھتا ہو کوئی سنتیں بیان کرنا چاہئے یا نہیں ، یا بعد نماز کے ؟

الجواب :

مسائل قبل نماز خواہ بعد نماز ، ایسے وقت بیان كئے جائے كہ لوگ سننے كے لئے فارغ ہو ، نمازیوں كی نماز میں خلل نہ آئے ۔ واﷲ تعالی اعلم

مسئلہ ١١٧٩ :       از جاورہ مرسلہ مولوی حافط مصاحب علی صاحب    یکم رجب ١٣٣٨ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں اگر نماز کے واسطے صفیں باندھ کر منتظر جماعت یا خطبہ بیٹھے ہوں اور مشغول ذکر الہٰی ہوں اس صورت میں کسی حاکم یا مشائخ یا رئیس یا بادشاہ یا خود امام مسجد کے آجانے پر کسی شخص کو یا عام لوگوں کو تعظیم کے لئے کھڑا ہونا یا استقبال کو بڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجوا ب :

جبکہ لوگ جماعت یا خطبہ کے انتظار میں نہ ہوں اور ابھی امام خطبہ کے ہئے نہیں گیا تو باپ یا پیر یا استاذ علم دین کے لئے ہر شخص قیام کرسکتا ہے ، اور اگر عالم دین کا تشریف لانا ہو تو تمام مسجد قیام کرے ، ان کی تعظیم بعینہٖ اﷲ و رسول کی تعظیم ہے جل و علاو  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ، باقی صرف دینوی عزت یا تو انگر رکھنے والے کے لئے بلا ضرورت و مجبور جائز نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١١٨٠ :       غرہ محرم الحرام ١٣١٤ھ

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس مقام پر بہت قبریں ہوں اس مقام کو پاٹ کر اس پر مسجد بنائی جائے اس میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب :

سائل مظہر ہے کہ قبرستان عامہ مسلمین کے خاص موضع قبور پر مٹی ڈال کر چبوترہ بنایا اور اس پر عمارت قائم کرکے اسے مسجد ٹھہرایا یہ قطعًا نا جائز وباطل ہے ، نہ وہ مسجد مسجد ہوسکتی ہے فان الوقف لایملك فلا یوقف مرۃ اخری علٰی جھۃ اخر ی ( کیونکہ وقف کسی کی ملکیت نہیں رہتا لہٰذا دوبارہ کسی دوسرے پر وقف نہیں کیا جاسکتا۔ ت) نہ اس میں نماز مباح لان القبر لا یخرج عن القبریۃ باضافۃ تراب علیہ فھی صلوٰۃ علی القبر ثم ھو تصرف فی الوقف بما لیس لہ و تغییرلہ عما قد کان لہ فلا یجوز (کیو نکہ قبر پر مٹی زیادہ ڈالنے سے قبر ، قبریت سے خارج نہیں ہوسکتی لہٰذا یہ نماز قبر پر ہوگی پھر یہ وقف میں ایسا تصرف و تبدیلی ہے جو اس کے لئے جائز نہیں ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١١٨٤تا ١١٨١ : از میٹرتا علاقہ جودھپور متصل مسجد جامع چوٹھ کی گلی مرسلہ مولوی عبدالرحمان صاحب وکیل کچامن٨ ذی الحجہ یوم چہار شنبہ ١٣١٤ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثر اﷲ جما عتہم سوالات مستفسرۃ ذیل کے جوابات میں :

(١) ہمارے ادھر ایك قوم ہے جس کا پیشہ شراب کشید کرنے کا ہے اور مذہبًا مسلمان ہے اس قوم میں کچھ آدمیوں نے دوچار پشت سے شراب کی کشید موقف کردی ہے اور دوسرے پیشے مثلًا پیشہ بساطیاور معماری وغیرہ وغیرہ جن سے اکل حلال میسر ہوسکتا ہے اختیار کر لئے ہیں ان لوگوں نے ایك مسجد بنائی ہے اس میں ہم لوگوں کی نماز ہوسکتی ہے یا نہیں ؟

(٢) مذکورہ بالاقوم کے بعض مسلمان ابھی تك شراب کشید کرتے ہیں مگر وہ نماز اور روزہ کے پابند ہیں ، یہ لوگ اس مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں اسی میں وضو بناتے ہیں مگر مسجد میں جب داخل ہوتے ہیں اس وقت شراب سے بدن کو ملوث نہیں رکھتے بلکہ کپڑوں سے اور بدن کی طہارت سے داخل ہوتے ہیں اس صورت میں ان کو مسجد میں آنے دینا چاہئے یا نہیں اور وضو کرنے دیں یا منع کیا جائے اور جماعت مین شریك کریں یا نہ کریں ؟

(٣) وہ مسلمان جنھوں نے شراب ترك کردی ہے ان کے یہاں کی دعوت قبول کی جائے یا نہیں اور ان کی بنا کردہ مسجد میں امامت کرنے والے کے حق میں شریعت سے کیا حکم ہے؟

(٤) قوال یعنی بڑھ مچھے اور طوائف بڑھیا کو مسجد میں آنے دینا چاہئے یا نہیں اور ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

وہ مسجد کہ ان لوگوں نے بعد توبہ مال حلال سے بنائی ہے بیشك مسجد شرعی ہے اور اس میں نماز فقط ہوسکتی ہی نہیں بلکہ اس کے قرب وجوار والوں اہل محلہ پر اس کا آباد رکھنا واجب ہے ، اس میں اذان و اقامت و جماعت و امامت کرنا ضرور ہے اگر ایسا نہ کریں گے گنہگار ہوں گے ، اور جو اس میں نماز سے روکے گا وہ ان سخت ظالموں میں داخل ہوگا جن کی نسبت اﷲ عزوجل فرماتا ہے :

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ- [3]

اس سے بڑھ کر كون ظالم جو اﷲ کی مسجد وں سے روکے ان میں خدا کا ذکر ہونے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔

 



[1]    کتاب الشفاء لاباب الاول فی ثناء اﷲ تعالٰی فصل اول مطبوعہ شرکت صحافیۃ ترکی ١ /  ١٥ ، تفسیر درمنشور آیۃ ورفعنا لك ذکرك کے تحت مذکور ہے منشورات مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ٦ /  ٣٦٤

[2]    کتاب الشفاء الباب الاول فی ثناء اﷲ تعالٰی فصل اول مطبوعہ شرکت صحافیہ فی البلاد العثمانہ ترکی ١ /  ١٥

  [3] القرآن ٢ /  ١١٤



Total Pages: 262

Go To