Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

(اور صلوٰۃ والسلام ہو رسولوں کے سب سے بڑے امام پر ، جو میرے مالك ہیں اور میرے لئے شفاعت کرنے والے ہیں ، ان کانام احمد ہے ، بہت ہی عزت والے ہیں ، امام اعظم ، امام مالک ، امام شافعی ، امام احمد)

ائمہ مذاہب اربعہ کے معروف القاب واسماء مذکور ہیں ، انہی کے ساتھ رسول   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تعریف کی جارہی ہے اور ساتھ ساتھ اپنا عقیدہ بیان کیاجارہاہے۔
تھوڑاآگے بڑھئے اور اہل سنت کے ایك اورعقیدے کی ترجمانی کاانداز دیکھئے۔ اہل سنت کاعقیدہ ہے کہ رسول
اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تمام کائنات کی اصل اور مبدأ ہیں   ؎

تو اصلِ وجود آمدی ازنخست
وگرہرچہ موجود شد فرعِ تست

یہی عقیدہ امام احمدرضاکاہے :  ؎

اصل ہربودوبہبود ، تخمِ وجود
قاسم کنزنعمت پہ لاکھوں سلام

اس عقیدے کے اظہار کے لئے آپ نے امام اعظم کے تین مشہورشاگردوں یعنی امام محمد ، امام حسن ابن زیاد اور امام قاضی ابویوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  م اجمعین کے ناموں کاانتخاب کیا اور انہیں اس طرح یکجاکیا کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اسم گرامی کابھی اظہار ہوگیا ، آپ کے حسن وجمال کابھی بیان ہوگیا ، اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ

حسن یوسف پرتوحسن مصطفی ہے ، بلکہ خود یوسف علیہ السلام فرع مصطفی اور ابن مصطفی ہیں   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ۔ چنانچہ فرماتے ہیں :  ؎

یقول الحسن بلاتوقف

محمد الحسن ابو یوسف

آپ کے جمال بے مثال کو دیکھ کرخود حسن بغیرکسی توقف کے پکار اٹھتاہے کہ حسن والے محمد  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  درحقیقت یوسف علیہ السلام کے 'اَبْ' ، اور اصل ہیں ۔

ایك یوسف علیہ السلام پر ہی کیاموقوف۔ جب رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تمام مخلوقات کی اصل ٹھہرے توظاہری وجود میں جو آپ کے جدِّامجد ہیں ، یعنی ابوالبشرآدم علیہ السلام ، وہ بھی حقیقت کے اعتبارسے آپ کے پسرقرارپاتے ہیں ۔ “ حدائق بخشش “ میں اس حقیقت کویوں واضح کیا : ؎

ان کی نبوت ، ان کی ابوّت ہے سب کو عام  اُمّ البشر عروس انہی کے پسرکی ہے
 “ ظاہر میں میرے پھول ، درحقیقت میں میرے نخل “ اس گل کی یاد میں یہ صدابوالبشرکی ہے

اوریوسف علیہ السلام کے حسن پرہی کیامنحصر۔ اہل سنت کے نزدیك توتمام انبیاء ورسل کے جملہ کمالات بارگاہ مصطفوی کافیضان وعطاہے۔ امام بوصیری فرماتے ہیں : ؎

وَکُلُّھُمْ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ مُلْتَمِس
   غُرْفًامِّنَ الْبَحْرِاَوْ رَشْفًا مِّنَ الدِّیَمٖ

(تمام انبیاء رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بحرکرم سے ایك چُلُّو کے یا آپ کی باران رحمت سے ایك چھینٹے کے طلبگارہیں )

اورامام احمدرضایوں نغماسراہوتے ہیں : ؎

لاورب العرش! جس کو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول
اﷲ کی

اسی عقیدے کو' فتاوٰی رضویہ' کے خطبے میں تلمیح کے اندازمیں بیان کیاہے :

اَلْبَحْرُ الرَّائق ÷ مِنْہُ یَسْتَمِدُّ کُلُّ نَھْرٍ فَائِق۔

 “ البحرالرائق “ اور “ النہر الفائق “ “ کنزالدقائق “ کی دوشرحیں ہیں ۔ اعلٰیحضرت نے “ منہ یستمد کل “ کااضافہ کرکے کیاایمان افروزمعنی پیداکئے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وہ حیران کن سمندر ہیں کہ ہرفوقیت رکھنے والا دریااورنہرانہی سے مددلیتی ہے۔

گویا رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فضل وکمال کے بحرذخّار ہیں اور باقی انبیاء ورسل فوقیت رکھنے والے دریااورنہریں ۔ ظاہرہے کہ دریاؤں اورنہروں میں وہ پانی بہتاہے جوبھاپ بن کرسمندر سے اٹھتاہے اور کہیں بارش بن کربرستاہے ، کہیں برف بن کرگرتاہے۔

 منقبت
اگرکسی مسئلے میں امام ابوحنیفہ اور قاضی ابویوسف متفق ہوں توفقہاء ان کو “ شیخین “ کہتے ہیں اوراگرقاضی ابویوسف اور امام محمد کااتفاق ہوتو ان کو “ صاحبین “ کہاجاتاہے اور اگر امام ابوحنیفہ اور امام محمد کی ایك رائے ہوتو ان کو “ طرفین “ کالقب دیا جاتاہے۔ اب امام احمدرضاکاکمال دیکھئے کہ انہوں نے ان تینوں فقہی اصطلاحات کو صدیق اکبراور فاروق اعظم (
  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  ) پرمنطبق کردیا اورفرمایا :

لَاسَیِّمَا الشَّیْخَیْنِ الصَّاحِبَیْن ÷ اَلْاٰخِذَیْنِ مِنَ الشَّرِیْعَۃِ وَالْحَقِیْقَۃِ بِکَلَاالطَّرْفَیْن۔

(خصوصًا رسول اﷲ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے وہ بزرگ ساتھی جو شریعت وحقیقت کے دونوں کناروں کوتھامنے والے ہیں )

 



Total Pages: 262

Go To