Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

ردالمحتار میں ہے :

ای کان ذلك من شعار ھم فی الزمن السابق ثم انفصل وانقطع فی ھذہ الازمان فلا ینھٰی عنہ کیفما کان [1]۔

یعنی وہ گزشتہ زمانے میں ان کا شعار تھا پھر ان زمانوں میں نہ رہا اور ختم ہوگیا تواب اس سے ممانعت نہ ہوگی ، جیسے بھی ہو ۔ (ت)

اب تو بحمد اﷲ سب شکوك کا ازالہ ہوگیا ، فاحفظ واحمد وکن من الشاکرین والحمد ﷲ ربّ العلمین ( تو اسے یاد رکھو اور حمد کرو اور شکر گزار بنو اور ساری تعریف اﷲ کے لئے ہے جو سارے جہانو ں کا پروردگار ہے۔ ت)

ہفتم : سخت افسوس کامقام ہے کہ عبارتِ مرقات کی نقل میں بہت تقصیر واقع ہوئی ، مرقاۃ شریف میں اُس عبارت کے بعد یہ الفاظ تھے :

نعم لو دخل احد فی المسجد والناس فی الصلٰوۃ اوعلٰی ارادۃ الشروع فیھا فبعد الفراغ لوصافحھم لکن بشرف سبق السلام علی المصافحۃ فھذا من جملۃ المصافحۃ المسنونۃ بلاشبھۃ [2]۔

ہاں اگر کوئی مسجد میں داخل ہو اور لوگ نماز میں ، یا نماز شروع کرنے والے ہیں ، تو فارغ ہونے کے بعد اگران سے مصافحہ کرے بشرطیکہ مصافحہ سے پہلے سلام ہولے تو بلاشبہہ مصافحہ مسنونہ ہی کے مجموعہ میں شامل ہوگا۔ (ت)

ان میں صاف تصریح تھی کہ وہ کراہت صرف اس صورت میں ہے کہ نماز سے پہلے مل لئے ، باتیں کرچکے ، ملاقات ہوئی ، اُس وقت مصافحہ نہ ہوا نہ کچھ اور ، اب بعد سلام آپس میں مصافحہ کرنے لگے اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ یہی وقت ابتدائے لقاکا ہو کہ یہ اس وقت آیا کہ نماز شروع ہوگئی تھی یا شروع کا ارادہ تھا ، اب بعد سلام مصافحہ کرے تو یہ یقینا مصافحہ مسنونہ ہے کہ خاص اول لقا پرواقع ہوا ، ظاہر ہے کہ جماعاتِ عید میں اکثر لوگوں کی باہم یہی حالت ہوتی ہے کہ بعد سلام ان کی لقا اول ہوتی ہے ، تو مرقاۃ کے طور پر بھی انھیں معانقہ سے اصلًا ممانعت نہیں ہوسکتی ، پھر معانقہ عید شرکائے جماعت واحدہ ہی سے خاص نہیں بلکہ تمام احباب جنھوں نے مختلف مساجد میں نمازیں پڑھیں اس دن بلکہ اس دن بکہ دوسرے دن تك اولِ ملاقات بعد الصلوٰۃپر باہم معانقہ کرتے ہیں ، یہ معانقے تو یقنا ابتدائے پر ہوتے ہیں ، جو عبارت مرقات سے برسبیل قیاس جناب اور عبارت فتاوٰی لکھنؤ سے صراحۃ ٹھیك موقع پر درست وبجا واقع ہیں ، حالانکہ مانعین زمانہ کا منع مصافحہ بعد نماز اور معانقہ عید دونوں میں سب صورتوں کوعام ومطلق اوروہ آپ ہی کی عبارات مستندہ کی رو سے باطل وناحق ، پس اگر انھیں عبارتوں پر عمل فرمادیجئے کہ نماز عید سے پہلے جو لوگ مل لیتے ہیں صرف وہ بعد نماز معانقہ نہ کریں ، اور جو ہنوز نہیں ملے انھیں معانقہ بلاکراہت جائز و مباح ہے ، یوں ہی ایك دوسرے کے پاس جو ملنے جاتے یا راہ میں ملتے ہیں وہ بھی بلا تامّل معانقہ کریں خواہ پیش از نماز یا بعد از نماز مل لئے ہوں یا نہ ملے ہوں کہ اس وقت تو ابتدائے لقا ہے ، ان سب صورتوں کا جواز آپ ہی کے مُسْتَنَدات سے ثابت ۔ لاجرم آپ کو اس کی تصریح کر نا ہوگی ، اس کے بعد دیکھئے کہ حضرات مانعین آپ کو کیا کہتے ہیں ، واﷲ المُستعانُ علٰی جھالاتِ الزمان ( اور اﷲ ہی وہ ہے جس سے زمانے کی جہالتوں کے خلاف مدد طلبی ہے۔ ت)

ہشتم : ا س سے زیادہ عجیب تر یہ ہے کہ ان لفظوں کے متصل ہی مرقات میں اور تحقیق جلیل ونافع ،  خیالات مانعین پر سیف قاطع تھی وہ بھی نقل میں نہ آئی ، فرماتے ہیں :

ومع ھذا اذا مَدَّمسلم یدہ للمصافحۃ فلاینبغی الاعراض عنہ بجذب الیدلما یترتّب علیہ من اَذًی یزید علی مُراعاۃ الادب فحاصلہ ان لاابتداء بالمصافحۃ حینئذ علی الوجہ المشروع مکروہ لا المجاذبۃ وان کان قدیقال فیہ نوعُ معاونہ علی البدعۃ [3] ۔  واﷲ تعالٰی اعلم

یعنی بآنکہ اُس صورت خاصّہ میں کہ ملاقات پیش از نماز کرچکیں ، اور مصافحہ تحیت بعد نماز کریں ، کراہت مانی جاتی ہے ، پھر بھی اگر کوئی مسلمان مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے تو ہاتھ نہ کھینچنا چا ہئے بلکہ مصافحہ کرلیا جائے ، اگر چہ اسے مُعاونتِ بدعت کہا جائے کہ اس حالت میں مصافحہ نہ کرنا صرف ایك ادب و اَوْلٰی تھا ، اور اب اس کے ترك میں مسلمان کی ایذا ہے کہ وہ تو ہاتھ بڑھائے اور ہم ہاتھ کھینچ لیں ، مسلمان کی خاطر داری اُس ادب کی مراعات پر مقدم ہے ف١ ، لہذا اس صورت میں کراہت نہیں بلکہ مصافحہ کرنا ہی چاہئے (ت)

ﷲانصاف ! اس منصفانہ کلام کو مانعین زمانہ کے خیالات سے کتنا بُعد ہے ، یہ حضرات تو خواہی نخواہی اپنی مَشِیخَت بنانے اور شہرت پیداکرنے کے لئے جماعات کی مخالفت کو ذریعہ فخر اور غایت تَشْرُّعْ سمجھے ہوئے ہیں مگر علمائے محققین مسلمان کا دل رکھنے کو رعایت آداب اور ترك مکروہات پر بھی مقدم جانتے اور ان کے رسوم وعادات میں مخالفت کو مکروہ وباعث شہرت مانتے ہیں ، ولہذا تصریح فرماتے ہیں کہ جب تك کوئی نہی صریح ، غیر قابل تاویل نہ آئی ہو ، عادات اُناس میں موافقت ہی کرکے ان کا دل خوش کیا چاہے اگر چہ وہ فعل بدعت ہو ، عین العلم میں ارشاد ہوا :

اَلْاِسْرَارُ بِالْمُسَاعَدَۃِ فِیْمَا لَمْ یَنْہُ وَصَارَ مُعْتَادًا فَیْ عَصْرِھِمْ                           اُن امور میں لوگوں کی موافقت کرکے انھیں خوش کرنا اچھا ہے جن ( امور) سے شریعت میں ممانعت نہیں ہے ۔

 

ف١ : یعنی ادب و اَولٰی چھوڑنے سے مسلمانوں کی خاطرداری ہوتی ہے تو ادب واَولٰی کی رعایت نہ کرے ، دل مسلم کی رعایت کرے ، دل مسلم کو تکلیف پہنچانا اور اسے شکستہ کرنا ترك اولٰی ومخالف ادب سے زیادہ بُرا ہے ، البتہ جہاں رعایت ادب و اَولٰی اور مومن کا پاس خاطر دونوں جمع ہوسکتے ہیں وہاں بلاشبہہ ترك ادب کا حکم نہیں ، ہاں ا گر کسی امر سے صراحۃً ممانعت آئی ہے تو محض مسلمان کی خاطر داری کے لئے اُس امرِ ممنوع کاارتکاب نہ کرے۔ ( مترجم)

حَسَن وَّاِنْ کَانَ بِدْعَۃً [4]۔

اور لوگوں کے عہد میں وہ رائج ہو چکے ہیں خواہ بدعت اور نوایجاد ہی ہوں ۔ (ت)

اما حُجۃ الاسلام محمد غزالی قُدِّسَ سَرُّہُ الْعَالی اِحْیاءُ العلوم شریف میں فرماتے ہیں :

 



[1]    ردالمحتار کتاب الحظرو الاباحۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ /  ٣٦١

[2]    مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المصافحۃ والمعانقہ مطبوعہ امدادیہ ملتان ۹ /  ۷۴

[3]    مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المصافحہ والمعانقۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ٩ /  ٧٤

[4]    عین العلم الباب التاسع فی الصمت الخ مطبوعہ امرت پریس ، لاہور ص٤١٢



Total Pages: 262

Go To