Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

 

 

 

 

باب سجود التلاوۃ

(سجدۂ  تلاوت کا بیان )

 

مسئلہ ١٢٤٩:           از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ جناب سيد محمد ابراہیم صاحب ہشتم                  ربیع الاول ١٣٠٦ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر کتب نظم ونثر میں آیات سجدہ لکھی ہوتی ہےان کا کیا حکم ہے آیا سجدہ کرنا چاہئے یا نہیں؟ جیسے منقبت میں جناب مولوی عبدالقادر صاحب خصصہم اﷲ بالمواہب کا شعر ہے :  ؎

راہ حق میں کردیا سجدہ میں قربان اپنا سر

ایسی واسجد واقترب کی کس نے کی تفسیر ہے

بینوا توجروا۔

الجواب:

وجوب سجدہ تلاوت ، تلاوت کلمات معینہ قرآن مجید سے منوط ہے۔ وہ کلمات جب تلاوت کئے جائیں گے سجدہ تالی وسامع پر واجب ہوگا کسی نظم یا نثر کے ضمن میں آنے سے غایت یہ ہے کہ اول وآخر کچھ غیر عبارت مذکور ہوئی جسے ایجاب سجدہ میں دخل نہ تھا ، نہ یہ کہ حکم سجدہ کی رافع ومزیل ہو اُس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوا جس طرح حرف اسی قدر کلمات تلاوت کریں اور اول وآخر کچھ نہ کہیں سجدہ تلاوت واجب ہوگا، ایسے ہی یہاں بھی کہ جس عبارت کا عدم وجودیکساں ہے وہ نظر سے ساقط اور حکم سکوت میں ہے وھذا ظاھر جدا (اور یہ نہایت واضح ہے ۔ت) ہاں قابل غور یہ بات ہے کہ سجدہ تلاوت کس قدر قرأت سے ہوتا ہے اصل مذہب وظاہرالروایہ میں ہے کہ ساری آیت بتما مہااس کا سبب ہے یہاں تك کہ اگر ایك حرف باقی رہ جائے گا سجدہ نہ آئے گا مثلًا اگر حج میں الم تر ان اﷲ سے ان اﷲ 


 

 



Total Pages: 673

Go To