Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

عذ ر کے بغیر نماز عید الاضحی کو ایام نحر کے آخر تك مؤخر کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے اور عذرکی صورت میں بغیر کراہت کے جائز ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ١٤٤٥ :      از کانپور محلہ نئی سڑك مرسلہ حاجی فہیم بخش عرف چھٹن                   ١٣ صفر المظفر ١٣٣٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں عمرو نے نماز عید الاضحی اپنی امامت سے کثیرالتعداد مقتدیوں کے ساتھ ادا کی ، نماز خطبہ کے بعد عمرو نے بوجہ اختلاف رؤیت قربانی کے لئے بخیال مزید احتیاط ممانعت کی ، بکر نے دوسرے روز نماز عید الاضحی مع قلیل التعداد مقتدیوں کے شہر کی ایك مسجد میں پڑھی عمرو نے جو ہنگام ادائے نماز وہاں موجود تہا بکر کی اقتداء میں تکرار نماز کی ، پس ایسی صورت میں عمرو کی کون سی نماز واجب اور کون سی نفل ہوگی؟بینوا توجروا

الجواب : پہلے دن اگر عمر کو روز عید ہونے میں شك تھا یا بلاثبوت شرعی عید مان کر نماز عید پڑھی تھی تو وہ نماز ہی نہ ہوئی یہ دوسری ہی واجب واقع ہوئی اور اگریہ ثبوت شرعی بلا تردد پہلے دن پڑھی تو وہی واجب تھی دوسری بلاوجہ رہی۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١٤٤٦ :      از ملك بنگالہ ضلع کمرلہ موضع چاند پور مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب غرہ           ١٣ صفر ١٣٢٠ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نماز عید الاضحی کی نیت میں عیدالاضحی کہے یعنی یوں کہے نویت ان اصلیﷲ تعالٰی رکعتی صلٰوۃ العید الاضحی الخ (میں نے نیت کی کہ میں اﷲ تعالٰی کو ر اضی کرنے کے لئے نماز عید الاضحی پڑھ رہا ہوں الخ ۔ ت) تو نماز اس کی صحیح ہوگی یانہیں ؟ بینوا توجروا عند اﷲ۔

الجواب :

اگر چہ یہ لفظ غلط ہے صحیح صلوٰۃ عید الاضحی ہے مگر نہ نیت زبانی کی نماز میں حاجت ہے نہ وہ نماز کے اندر ہے نہ اس میں فساد معنٰی ہے ، تو اس غلطی کاصحتِ نماز پر اصلًا اثر نہیں ہوسکتا ، دل میں عیدالاضحی ہی کا قصد ہے اگرچہ نام میں غلطی کی بلکہ دل میں نماز عید الاضحی کا ارادہ کرتا اور زبان سے عید الفطر بلکہ مثلًا نماز تروایح کا نام نکلتا جسے اس نما زسے کوئی مناسبت ہی نہیں ، جب بھی صحت نماز میں شبہ نہ تھا کہ نیت فعل قلب ہے۔ جب قلب کا ارادہ ہے زبان کا کچھ اعتبار نہیں ، درمختار میں ہے :

المعتبر فیھا عمل القلب اللازم للارادۃ فلا عبرۃ للذکر باللسان ان خالف القلب لانہ کلام لانیۃ[1]۔

یہاں اعتبار فعل دل کا ہے جو ارادہ کو لازم ہے لہذا زبان کے ذکر کا کوئی اعتبار نہیں اگر چہ اس نے دل کی مخالفت کردی ہو کیونکہ وہ تو کلام والفاظ ہیں نیت نہیں ۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

فلو قصد الظھر وتلفظ بالعصر سھوًا اجزأہ کما فی الزاھدی قھستانی[2]۔  واﷲ تعالٰی اعلم ۔

اگر ارادہ ظہر کا تھا مگر سہوًا عصر کہہ دیا تو نماز ہوجائیگی جیسا کہ زاہدی میں ہے قہستانی ، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ١٤٤٧ :      از شہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ منشی ہدایت یا رخاں صاحب قیس            ٨ محرم الحرام١٣٣٩ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عیدگاہ مثل مساجد قابل حرمت و وقعت ہے یانہیں ؟ اس کا حکم حکمِ مسجد ہے یا نہیں ؟ اس احاطہ کے اند رغیر قومیں جوتے پہنے ہوئے جاسکتی ہے یا نہیں ؟ا ور اس چاردیواری کے اندر خرید وفروخت ہوسکتی ہے ؟ خطبہ کے وقت دکانداروں یا خوانچہ والوں کا گشت اس میں جائز ہوسکتا ہے یانہیں ؟ بالتشریع اس کا جواب مرحمت فرمایا جائے۔

الجواب :

عیدگاہ ایك زمین ہے کہ مسلمانوں نے نمازِ عید کے لئے خاص کی ، امام تاج الشریعۃ نے فرمایا صحیح یہ ہے کہ وہ مسجد ہے اس پر تمام احکام احکام مسجد ہیں نہایہ میں اگر چہ مختار للفتوی یہ رکھا کہ وہ عین مسجد نہیں ، مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ اس کی تنظیف وتطہیر ضروری نہیں ، غیر وقت نماز و خطبہ میں اس میں خرید وفروخت قولِ اول پر مطلقًا حرام ہے اور خرید فروخت کے لئے اس متعین کرنا بالاتفاق حرام ہے۔

اذ لا یجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فضلا عن ضیعتہ کما فی الھندیۃ وغیرھا[3]۔

وقف کی ہیئت وحالت میں تبدیلی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے ضائع کرنا جائز ہو ہندیہ وغیرہ ۔ (ت)

اور یوں کہ اتفاقًا غیر وقت نماز خطبہ میں ایك کے پاس کوئی شے ہو وہ دوسرے کے ہاتھ بیع کرے ، قول دوم پر اس میں حرج نہیں ، وقت نماز یا خطبہ میں خوانچہ والوں کا گشت بلا شبہ ممنوع و واجب الانسداد ہے کہ مخل استماع وناقض ہے اور ان کے غیر اوقات میں وہی اختلاف قولین ، یونہی کفار کی آمد و رفت خصوصًا جوتا پہنے کہ یہ نجاست سے خالی نہیں ہوتے نہ وہ جنابت سے کما حققہ فی الحلیۃ و بیناہ فی فتاوٰنا ( جیساکہ اس کی تحقیق حلیہ میں ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے تفصیلًا بیان کیا ہے ۔ ت) درمختار میں ہے :

اماالمتخذ لصلٰوۃ جنازۃ اوعید فھو مسجد فی حق جوا زالاقتداء وان انفصل الصفوف رفقا بالناس لا فی حق غیرہ بہ یفتی نھایۃ [4]

لوگوں کی سہولت کی وجہ سے عیدگاہ او رجنازہ گاہ جواز اقتداء کے حق میں مسجد ہے اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں ، ہا ں اس کے علاوہ میں یہ حکم نہیں ، اسی پر فتوٰی ہے ۔ نہایہ ۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

 



[1]    درمختار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٦

[2]    ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مصطفی البابی مصر ١ /  ٣٠٥

 [3]   فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشرفی المتفرقات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٢ /  ٤٩٠

[4]    درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٩٣



Total Pages: 262

Go To