Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

سے دھوکا اور بھی ضعیف تر ہے فان المسجد ظرف الادراك دون الاذان(کیونکہ مسجد ادراك کے لئے ظرف ہے اذان کے لئے نہیں ۔ ت)ولہذا علامہ منادی نے تیسیر میں اس حدیث کی یوں تشریح فرمائی :

(من ادرك الاذان) وھو(فی المسجد) [1]الخ

(جس نے اذان کو پایا)یعنی اذان کو سنا ، حالانکہ وہ (مسجد میں تھا) الخ (ت)

بلکہ خود حدیث شرحِ حدیث کوبس ہے :

احمد بسند صحیح عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذاکنتم فی المسجد فنودی بالصلٰوۃ فلا یخرج

امام احمد نے سندِ صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا کہ ہمیں رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حکم دیاکہ جب تم مسجد میں ہو اور اذان دی جائے تو نماز ادا کئے بغیر

احدکم حتی یصلی[2]۔

کوئی مسجد سے نہ نکلے۔ (ت)

بالجملہ جہاں ایسے الفاظ واقع ہوں انہیں دو٢ نکتوں سے ایك پر محمول ہیں ۔

اقول وبہ ینجلی مافی الجلابی انہ یؤذن فی المسجد اومافی حکمہ لا فی البعید منہ[3] اھ ای یؤذن فی حدود المسجد وفنائہ کما فسربہ الامام المحقق علی الاطلاق اوفی نفس المسجد ان کان ثمہ موضع اعدلہ من قبل اویؤذن فیما ھو حکمہ لقربہ منہ بحیث یعدالاذان فیہ اذاناللمسجد کما فعل عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث احدث الاذان الاول علی الزوراء دارٍ فی السوق ولایؤذن للمسجد اذاکان غربی البلد مثلًا واذن شرقیہ بل اذن لمسجد حیّ اٰخر لایعدذلك اذانالہ کمالایخفی ،  فلااستدراك بکلام الجلابی علی کلام النظم کمازعم القھستانی  ، وباﷲ التوفیق وبماقدمنامن تحقیق مفادبین یدیہ وانہ یستدعی بقرینۃ الحال قربانیاسب المقام لاالاتصال وضح بحمداﷲ ماقال القھستانی تحت قول النقایہ اذاجلس علی المنبر اذن ثانیا بین یدیہ مانصہ  ،  ای                                                                                   

اقول : اس سے جلابی کی یہ عبارت بھی واضح ہوگئی کہ مسجد میں یا اس جگہ میں اذان دی جائے جوحکمِ مسجد میں ہو ، مسجد سے دُور اور جگہ میں نہ دی جائے اھ یعنی مسجد کے حدود اور فنائے مسجد میں اذان دی جائے جیسا کہ اس کی تفسیر امام محقق علی الاطلاق نے کی ہے ، یا مسجد کے اندر بشرطیکہ وہاں پہلے سے جگہ بنائی گئی ہو یا اس جگہ دی جائے جو قرب کی وجہ سے مسجد کا حکم رکھتی ہو کیونکہ وہاں کی اذان کو مسجد کی ہی اذان شمار کیا جائے گاجیسا کہ حضرت عثمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے کیا کہ اذانِ اوّل بازار میں مقامِ زوراء پر دینے کاحکم دیا ، مسجد سے دُور اذان نہ دی جائے مثلًا جب مسجد غربی البلاد ہو اور اذان شرقی میں دی جائے تو اب یہ اذان دوسرے محلہ کی ہوگی اس مسجد کی اذان اسے شمار نہیں کیا جائیگا جیسا کہ واضح ہے ، کلامِ جلابی کلامِ نظم پر استدراك نہیں جیسا کہ قہستانی نے گمان کیا۔ اﷲ تعالٰی کی توفیق سے جو کچھ ہم نے گفتگو کی اور “ سامنے امام “ کا معنٰی بیان کیا اس سے واضح ہوگیا کہ “ بین یدیہ “ کے الفاظ مقام کے مناسب قُرب کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ اتصال کا ، بحمد اﷲنقایہ کی عبارت “ جب امام منبرپر بیٹھے تواس کے سامنے دوسری اذان

بین الجھتین المسامتین لیمین المنبر والامام ویسارہ قریبًا منہ ووسطھما بالسکون فیشتمل ما اذا اذن فی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ اومنفرجۃ حادثہ من خطین خارجین من ھا تین الجھتین فلیس القرب منکرا ولابالاتصال مشعرا وانما اراد بہ اخراج البعد الذی لایعد بہ الاذان اذانافی ذلك المسجد کما ذکرناہ فی کلام الجلابی۔ [4]اھ              

دی جائے “  کہ تحت قہستانی نے جو کہا وہ بھی واضح ہوگیا کہ اذان یمینِ منبر وامام اس کے بائیں جانب اس کے قریب ہو یا ان دونوں کے وسط میں ہو ، یہ ان صورتوں کو شامل ہے جب اذان زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ میں ہوئی جو ان دوخطوط مذکورہ کی دو٢ جہات سے پیداہوا اھ تو یہاں قرب کا انکار نہیں اوراتصال پر دلالت نہیں ، اس سے ان کا مقصد اس بُعد کا دُور کرنا ہے جس میں اذان کو اس مسجد کی اذان تصور نہ کیا جائے جیساکہ ہم نے اسے جلابی کے کلام میں ذکر کیا۔ (ت)

غرض عامہ کتب معتمدہ مذہب کے خلاف اگر ایك آدھ غریب ونامتداول کتاب میں کوئی تصریح بھی ہوتی عقلًا و عرفًا وشرعًا قبول نہ ہوتی۔

الا تری ان العلامۃ الطحطاوی کیف اقتصر فی الحکم علی حکایۃ مافی القھستانی عن النطم ولم یعرج علی استدراکہ اصلاعلما منہ ان الاستدرك مستدرك لاینبغی نقلا۔

کیا آپ نے نہ دیکھا علامہ طحطاوی نے کس طرح اکتفا کیا اس حکم پر جوقہستانی نے نظم سے نقل کیا تھا اوراس کے استدراك کے بالکل درپے نہ ہوئے ، انہیں علم تھا کہ استدراك فالتو ہے لہذا اس کا نقل کرنا مناسب نہیں ۔ (ت)

نہ کہ کوئی لفظ محتمل نہ صریح ، صاف صاف لائق توجیہ وتصحیح ہو ،

کما لایخفی علی ذی عقل نجیح ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ سبحانہ ولی التوفیق والحمدﷲ رب العٰلمین وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین ۔  اٰمین ۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

جیسا کہ ہر عاقل پر مخفی نہیں ، تحقیق کا حق یہی تھا ، اﷲ سبحٰنہ توفیق کا مالك ہے ، الحمدﷲرب العالمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیّدنا ومولٰنا محمد وآلہٖ وصحبہ اجمعین ۔ آمین۔ واﷲاعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)

________________

 



[1]    التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث من ادرک الاذان کے تحت مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ٢ /  ٣٩٢

[2]    مسنداحمد بن حنبل مروی ازابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مطبوعہ دارالفکر بیروت ٢ /  ٥٣٧

[3]    جامع الرموز بحوالہ الجلابی فصل فی الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ /  ۱۲۳

[4]    جامع الرموز فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ /  ٢٦٨



Total Pages: 262

Go To