Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

وضومکروہ ہے مگر اس جگہ میں جو اس کے لئے تیار کی گئی ہو ملخصًا(ت)

ردالمحتار میں ہے :

لان ماء ہ مستقذر طبعا ،  فیجب تنزیہ المسجد عنہ کمایجب تنزیھہاعن المخاط والبلغم بدائع[1]۔

کیونکہ وضو کا پانی طبعًا ناپسند ہے لہذا اس سے مسجد کو بچانا ضروری ہے جیسے مسجد کو ناك اور بلغم سے محفوظ رکھنا ضروری ہے ، بدائع ۔ (ت)

فقیر نے اس پر تعلیق کی :

ھذا تعلیل علی مذھب محمد ن المفتی بہ اماعلی قول الامام بنجاسۃ الماء المستعمل  ، فظاھر[2]۔

یہ امام محمد کے مفتٰی بہ قول کی دلیل ہے۔ رہا معاملہ امام اعظم کے قول کا ۔ وہ ظاہر ہے کیونکہ وہ ماءِ مستعمل کو ناپاك کہتے ہیں ۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

قولہ الا فیما اعدلذلك انظر ھل یشترط اعداد ذلك من الواقف ام لا [3]

ان کا قول “ مگر اس جگہ جو وضو کے لئے تیار کردہ ہو “ دیکھئے کیا اس جگہ کا وضو کے لئے بنانا واقف سے شرط ہے یا نہیں ؟(ت)

فقیر نے اس پر تعلیق کی :

اقول :  نعم وشئ اخرفوق ذلك وھی ان یکون الاعداد قبل تمام المسجدیۃفان بعدہ لیس لہ ولا لغیرہ تعریضہ للمستقذرات

اقول : ہاں ایك اور شئ اس کے اوپر ہے وہ یہ کہ یہ وضو کے لئے رکھنا تمام مسجدیت سے پہلے ہو کیونکہ اگراس کے بعد ہو تو اب واقف اور دوسروں

ولا فعل شئ یخل بحرمتہ اخذتہ مما یاتی فی الوقف من ان الواقف لوبنی فوق سطح المسجد بیتاسکنی الامام قبل تمام المسجدیۃ جازلانہ من مصالحہ امابعد فلا یجوز ویجب الھدم۔

کے لئے یہ جائز نہیں کہ مسجد کے کسی حصہ کو گندگی کے لئے بنائیں بلکہ ہر وہ فعل جائزنہیں جو مسجد کی عزّت کے منافی ہو ، یہ اصول اس مسئلہ سے مستنبط ہے جو وقف میں آتاہے کہ مسجد کے اوپر واقف نے تمام مسجدیت سے پہلے رہائش بنادی تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد سے ہے البتہ تمام مسجد کے بعد یہ جائز نہیں اور اسکا گرانا ضروری ہے(ت)

اسی طرح اگر منارہ یا مئذنہ بیرونِ مسجد فنائے مسجد میں تھا بعدہ ، مسجد بڑھا ئی گئی ہو اور زمین متعلقِ مسجد مسجد میں لے لی کہ اب مئذنہ اندرونِ مسجد ہوگیا اس پر بھی اذان میں حرج نہ ہو گا کہ یہ بھی وہی صورت ہے کہ اس زمین کی مسجدیت سے پہلے اس میں یہ محل اذان کے لئے مصنوع ہوچکا تھاکما لا یخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)ہاں اگر داخلِ مسجد کوئی شخص اگر چہ خود بانی مسجد نیا مکان اذان کے لئے مستثنٰی کرنا چاہے تواُس کی اجازت نہ ہونی چاہئے کہ بعد تمامی مسجد کسی کو اُس سے استثناء یا فعل مکروہ کے لئے بناکا اختیار نہیں ، دُرمختار میں ہے :

لو بنی فوقہ بیتاللامام لا یضرلانہ من المصالح امالو تمت المسجدیت ثم اراداالبناء منع ،  ولوقال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیہ فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد [4]۔

اگر مسجدکے اوپر امام کے لئے جگہ بنائی تو ضرر نہیں کیونکہ یہ ضروریاتِ مسجد میں سے ہے اگر مسجد مکمل ہوگئی اور پھر رہائش بنانا چا ہتے تو اب منع ہے اور اگر واقف کہے کہ میرا ارادہ یہی تھا تواس کی تصدیق نہیں کی جائے گی تاتارخانیہ ، جب واقف کا یہ حال ہے تو غیر کیسے بناسکتا ہے ، لہذا اس کا گرانا ضروری ہے اگر چہ وہ دیوار مسجد پر ہو۔ (ت)

دوم متعلقاتِ مسجد میں مسجد کے لئے اذان ہونے کو عرف میں یونہی تعبیر کرتے ہیں کہ فلاں مسجد میں اذان ہوئی مثلًا منارہ بیرونِ مسجد زمین خاص مسجدسے کئی گزکے فاصلے پر ہو اوراُس پر اذان کہی جائے تو ہرشخص یہی کہے گا مسجد میں اذان ہوگئی نماز کو چلو ، یُوں کوئی نہیں کہتا کہ مسجد کے باہر اذان ہوئی نماز کواٹھویہ عرف عام شائع ہے جس سے کسی کو مجالِ انکار نہیں ، و لہذا امام محقق علی الاطلاق نے ھوذکراﷲ فی المسجد [5]۔ (یہ مسجد میں ذکر الہٰی ہے۔ ت)کی وہ تفسیر فرمادی کہ ای فی حدودہ(یعنی مسجد کے حدود میں ۔ ت) اور اس کی دلیل وہی ارشاد فرمائی کہ لکراہۃ الاذان فی داخلہ (کیونکہ مسجد کے اندر اذان مکروہ ہے۔ ت)یہ نکتہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ کوئی سخن ناشناس نظائرحدیث مسلم :

عن ابن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ وقفاان من سنن الھدی الصلٰوۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ[6]۔

حضرت ابن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے موقوفًا مروی ہے کہ سُنن ہدٰی میں سے ہے کہ اس مسجد میں نماز پڑھی جائے جس میں اذان ہو۔ (ت)

وامثال عبارت کرہ خروج من لم یصل من مسجداذن فیہ (اس مسجد سے نکلنا مکروہ جس میں اذان دی گئی ہو۔ ت)ہے دھوکا نہ کھائے اوراشباہ حدیث ابن ماجہ :

عن امیرالمؤمنین عثمٰن الغنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من ادرك الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجتہ وھولایرید الرجعۃ فھومنافق [7]۔

امیرالمومنین حضرت عثمان غنی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے بیان کرتے ہیں جس نے مسجد میں اذان کو پایا اور بغیر مجبوری کے مسجد سے نکلا اورواپسی کا ارادہ بھی نہ تھا تو وہ منافق ہے۔ (ت)

 



[1]    ردالمحتار باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٤٨٨

[2]    جدالممتار علی ردالمحتار باب احکام المساجد مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارکپور ، انڈیا ١ /  ٣١٦

[3]    ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مایکروفیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٩٤

[4]    درمختار کتاب الوقف مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۳۷۹

[5]    فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ /  ٢٩

[6]    صحیح مسلم باب فضلِ جماعۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ٢٣٢

[7]    سُنن بن ماجہ باب اذا اذان وانت فی المسجد مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٥٤



Total Pages: 262

Go To