Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

ترك بجا کیا اور اگر تھوڑے آدمی تھے تو بے جا اور سخت بے جا، اور وہ ناقص نماز ہوئی ظہرکا اعادہ کریں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واکرم

مسئلہ ١٢١٩: دو رکعت تراویح کی نیت کی قعدہ اولٰی بھول گیا تین پڑھ کر بیٹھا اور سجدہ کیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ اور ان رکعتوں میں جو قرآن شریف پڑھا اس کا اعادہ ہوا یا نہیں؟ اور چار پڑھ لیں تو یہ چاروں تراویح ہوئیں یا نہیں؟ بینوا توجروا 

الجواب:

صورت اولٰی میں مذہب اصح پر نماز نہ ہوئی، اور قرآن عظیم جس قدر اس میں پڑھا گیا اعادہ کیا جائے،

فی ردالمحتار لو تطوع بثلاث بقعدۃ واحدۃ کان ینبغی الجواز، اعتبار ابصلوۃ المغرب لکن الاصح عدمہ لانہ قد فسدما اتصلت بہ القعدۃ و ھوا لرکعۃ الاخیرۃ لان التنفل بالرکعۃ الواحدۃ غیرمشروع فیفسد ماقبلھا۔[1]

ردالمحتار میں ہے اگر کسی نے تین نوافل ایك قعدہ كے ساتھ ادا کئے تو مغرب کی نماز پر قیاس کرتے ہوئے ان کو جائز کہنا چاہئے مگر اصح یہ ہے کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ وہ رکعت ( آخری) باطل ہوجائے گی جس کے ساتھ قعدہ نہیں کیونکہ ایك نفل مشروع نہیں لہٰذا پہلے بھی فاسد ہوں گے۔ (ت)

اور چار پڑھ لیں اور قعدہ اولٰی نہ کیا تو مذہب مفتی بہ پر یہ چاروں دو ہی رکعت کے قائم مقام گنی جائیں گی باقی اور پڑھ لے کما صرح بہ فی ردالمحتار عن النھر الفائق عن الزاھدی ( جیسا کہ ردالمحتار میں نہر الفائق سے زاہدی کے حوالے سے ہے۔ ت) اور دونوں قعدے کئے تو قطعًا چاروں رکعتیں ہوگئیں ولاکراھۃ ایضا کمایفیدہ التعلیل المذکور فی ردالمحتار نعم الافضل فیھا مثنی مثنی کما لایخفی ( اب بھی کراہت نہیں جیسے کہ ردالمحتار میں مذکور علت اسی کا فائدہ دیتی ہے البتہ دو رکعات افضل ہیں جیسا کہ واضح ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢٢٠:            اگر امام پر سہوا ہوا اور سجدہ نہ کرے تو مقتدیوں کی نماز صحیح اور ان پر سے سجدہ سہو ساقط ہوجائیگا یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

بیشك ۔ فی التنویر یجب ( ای سجدۃ السھو) علی منفرد و مقتد بسھو امام ان

تنویر میں ہے ( سجدہ سہو) تنہا نماز والے پر بھی واجب ، اور امام کی سہو کی وجہ سے مقتدی پر بھی

 

 



[1] ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٥١٢



Total Pages: 673

Go To