Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

ردالمحتار میں ہے:

فی جمعۃ حاشیۃ ابی السعود عن العزمیۃ انہ لیس المراد عدم جوازہ بل الاولی ترکہ لئلا یقع الناس فی فتنہ۔ [1]

حاشیۃ ابوالسعود کے باب الجمعہ میں عزمیہ کے حوالے سے ہے کہ اس سے مراد سجدہ سہو کا عدم جواز نہیں بلکہ اس لئے اولی ہے تاکہ لوگ فتنہ میں مبتلا نہ ہوں ۔(ت)

بس جہاں جمعہ بھی جماعت عظیم سے نہ ہوتا ہو بلاشبہ سجدہ کرے، اگر نہ کیا اعادہ کرے، اگر وقت نکل گیا ظہر پڑھ لیں۔ ردالمحتار میں ہے:

قیدہ الوافی بما اذا حضر جمع کثیرو الا فلا داعی الی الترک۔ [2]

وافی نے اس بات کے ساتھ مقید کردیا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب حاضرین کثرت کے ساتھ ہوں ، اور اگر اتنا کثیر اجتماع نہیں تو پھر سجدہ سہو کے ترك کی ضرورت نہیں۔(ت)

اسی میں ہے :

المرجح وجوب الاعادۃ فی الوقت وبعدہ [3]۔

ترجیح یہی ہے کہ وقت کے اندر یا وقت کے بعد نماز کو لوٹایا جائے۔ (ت)

مسئلہ ١٢١٨: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نماز جمعہ رکعت اول میں بقدر ما یجوز بہ الصلوٰۃ کے پڑھ کر ایك منٹ سے زیادہ ساکت رہا اور تمام کرنے نماز کے سجدہ بھی نہ کیا جب لوگوں نے کہا تم نے سجدہ سہو نہیں کہا تو جواب دیا کہ مسئلہ اسی طرح ہے جیسا کہ میں نے کیا، آیا یہ قولِ زید صحیح ہے یا غلط؟ اور وہ نماز کامل ہوئی یا ناقص؟ بینوا توجروا

الجوا ب:

ایك منٹ تو بہت ہوتا ہے اگر بقدر تین تسبیح کے بھی ساکت رہا تو سجدہ سہو لازم ہے، اصل حکم یہی ہے، ردالمحتار میں خاص اس کی تصریح ہے مگر نماز جمعہ میں جبکہ ہجومِ نمازیاں کثیر ہو سجدہ سہو ساقط کردیاگیا ہے کما فی ردالمحتار ایضا (جیسا کہ ردالمحتار میں بھی ہے۔ ت) پس اس نماز میں ہجوم کثیر تھا زید نے سجدہ سہو کا


 

 



[1] ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٥٥٦

[2] ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٥٥٦

[3] ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٣٦



Total Pages: 673

Go To