Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

فی ایرادالمئذنۃ اشعاربان السنۃ فی الاذان ان یکون فی موضع عال بخلاف الاقامۃ فان السنۃ فیھا ان تکون فی الارض وایضافیہ اشعاربانہ لایؤذن فی المسجد فقد ذکرفی الخلاصۃ انہ ینبغی الخ[1] ۔ اھ

یعنی صدر الشریعۃ قدس سرہ ، نے اذان کےلئے منارے کا جو ذکر فرمایا اس میں تنبیہ ہے اس پر کہ اذان میں سنّت یہ ہے کہ بلند جگہ پر ہو بخلاف تکبیر کہ اس میں سنت یہ ہے کہ زمین پر ہو ، نیز اس میں تنبیہ ہے ، کہ اس مسجد میں نہ دی جائے ، خلاصہ میں اس کی ممانعت کی تصریح ہے الخ اھ باختصار۔

بحرالرائق میں ہے :

فی القنیۃ یسن الاذان فی موضع عال والاقامۃ علی الارض وفی المغرب اختلاف المشائخ اھ والظاھر انہ یسن المکان العالی فی اذان المغرب کما سیأتی وفی السراج الوھاج ینبغی ان یؤذن فی موضع یکون اسمع للجیران وفی الخلاصۃ ولایؤذن فی المسجد  [2] اھ مختصرا۔      

یعنی قنیہ میں ہے کہ اذان بلندی پر اور تکبیر زمین پر ہونا سنّت ہے اور مغرب کی اذان میں مشائخ کا اختلاف ہے وُہ بھی بلندی پر ہونا مسنون ہے یا نہیں اورظاہر یہ ہے کہ مغرب میں بھی اذان بلندی پر ہونا سنّت ہے اور سراج الوہاج میں ہے اذان وہاں ہونی چاہئے جہاں سے ہمسایوں کو خوب آواز پہنچے ، اور خلاصہ میں فرمایا کہ مسجد میں اذان نہ دےاھ مختصرا۔

اسی میں بعدچند ورق کے ہے :

السنۃ ان یکون الاذان فی المنارۃ والاقامۃ فی المسجد[3]۔

سنّت یہ ہے کہ اذان منارے پر ہو اورتکبیر مسجد میں ۔

حاشیہ طحطاوی میں ہے :

یکرہ ان یؤذن فی المسجد کما فی القھستانی عن النظم  ، فان لم یکن ثمہ ،  مکان مرتفع للاذان یؤذن فی فناء المسجد کما فی الفتح[4]۔

یعنی مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی میں نظم سے منقول ہے تو اگر وہاں اذان کے لئے کوئی بلند مکان نہ بنا ہوتومسجد کے آس پاس اُس کے متعلق زمین میں اذان دے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔

یہ تمام ارشادات صاف صاف مطلق بلا قید ہیں جن میں جمعہ وغیرہا کسی کی تخصیص نہیں ، مدعی تخصیص پر لازم کہ ایسے ہی کلماتِ صریحہ معتمدہ میں اذانِ ثانی جمعہ کا استثناء دکھائے مگر ہرگز نہ دکھا سکے گا ، رہا لفظ بین یدی الامام(امام کے سامنے۔ ت) یا بین یدی المنبر(منبر کے سامنے۔ ت)سے استدلال مذکور فی السوال وہ محض ناواقفی ہے ، ان عبارات کا حاصل صرف اس قدر کہ اذان ثانی خطیب کے سامنے منبرکے آگے مواجہہ میں ہو ، اس سے یہ کہاں کہ امام کی گودمیں منبر کی کگر پر ہو جس سے داخلِ مسجد ہونا استنباط کیا جائے بین یدی(یعنی سامنے۔ ت) سمت مقابل میں منتہائے جہت تك صادق ہے جو وقت طلوع مواجہہ مشرق یا ہنگام غروب مستقبل مغرب کھڑاہو وہ ضرور کہے گاکہ آفتاب میرے سامنے ہے۔ یا فارسی میں مہر روبروئے من است(سورج میرے چہرے کے سامنے ہے۔ ت)یا عربی میں الشمس بین یدی(سورج میرے سامنے ہے۔ ت) حالانکہ آفتاب اس سے تین ہزار برس کی راہ سے زیادہ دور ہے ، اﷲعزّوجل فرماتا ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ [5]اﷲ سبحانہ ، جانتا ہے جو کچھ اس کے سامنے ہے یعنی آگے آنے والا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے گزر گیا۔ یہ ہرگز ماضی ومستقبل سے مخصوص نہیں بلکہ ازل تا ابدسب اُس میں داخل ہے۔ یونہی ملائکہ کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کا قول کہ قرآن عظیم نے ذکرفرمایا :

لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ- [6]۔      باﷲ ہی کاہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جوکچھ ہمارے پیچھے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔

 تمام ماضی ومستقبل وحال سب کو شامل ہے ، ہاں ایسی جگہ عرفًا بنظرِ قرآن حالیہ ایك نوع قرب ہرشَے کے لائق مستفاد ہوتا ہے نہ اتصال حقیقی کہ خواہی نخواہی وقوع فی المسجد پر دلیل ہو ، قال اﷲ تعالٰی :

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ [7] الآیۃ۔

اﷲ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں خوشی کی خبر لاتیں بارانِ رحمت کے آگے یہاں تك کہ جب انہوں نے اُبھارے بوجھل بادل ، ہم نے اس رواں کیا کسی مردہ شہر کی طرف تواتارا اُس سے پانی۔

بین یدی(یعنی آگے۔ ت) نے قربِ مطر کی طرف اشارہ فرمایا مگر یہ نہیں کہ ہوا مَیں چلتے ہی پانی معًا اُترے بلکہ چلیں اوربادل اُٹھے اور بوجھل پڑے اور کسی شہر کو چلے وہاں پہنچ کر برسے۔ وقال اﷲ تعالٰی (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :

اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ(۴۶) [8]۔

 



[1]    شرح النقایہ للبرجندی باب الاذان مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ١ /  ٨٤

[2]    بحرالرائق باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /  ۲۵۵

[3]    بحرالرائق باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /  ۲۶۱

[4]    حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الاذان مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۰۷

[5]    القرآن ۲۰ /  ۱۱۰

[6]    القرآن ١٩ /  ٦٤

[7]    القرآن ٧ /  ٥٧

[8]    القرآن ۳۴ /  ۴۶



Total Pages: 262

Go To