Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

مسئلہ ١٢١٧:            ٢٣جمادی الاخری ١٣٠٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام جمعہ کی نماز میں دوسری رکعت میں بعد فاتحہ کے واذکر فی الکتٰب موسٰی سے ووھبنالہ تك کہ تین آیات قصار ہوگئیں پڑھ کر بند ہوگیا کسی قدر تامل کرکے پھر دوبارہ واذکر سے ووھبنالہ تك پڑھا پھر سہ بارہ یہی تك پڑھ کر کچھ تامل کیا جب آگے نہ چلا رکوع کردیا، اس صورت میں امام پر سجدہ سہوہ آیا یا نہیں؟ اگر آیا اور نہ کیا تو فاسد ہوئی یا کیسی ؟ بینوا تو جروا

الجواب:

اگر ایك بار بھی بقدرادائے رکن مع سنت یعنی تین بار سبحان اﷲ کہنے کی مقدار تك تامل کیا سجدہ سہو واجب ہوا، ردالمحتار میں ہے:

التفکرالموجب للسھو مالزم منہ تاخیرالواجب اوالرکن عن محلہ بان قطع الاشتغال بالرکن اوالواجب قدر اداء رکن وھو الاصح [1]۔

ہر وہ تفکر سہوکا موجب ہے جو واجب یا رکن کو اپنے مقام سے مؤخر کردے مثلًا اداء رکن کی مقدار کسی رکن یا واجب سے اعراض کرلیا جائے یہی اصح ہے۔ (ت)

اگر نہ کیا نماز مکروہ تحریمی ہوئی جس کا اعادہ واجب ، درمختار میں ہے:

تعاد وجوبا فی العمد والسھو ان لم یسجد لہ [2]۔

دانستہ یا نادانستہ سجدہ سہو نہ کیا تو نماز کا لوٹانا واجب ہے ۔ (ت)

اصل حکم یہ ہے مگر علماء نے جمعہ وعیدین میں جبکہ جمع عظیم کے ساتھ اداکئے جائیں بخوف فتنہ سجدہ سہو کا ترك اولٰی رکھا ہے ۔

درمختار میں ہے:

السھو فی صلوٰۃ العید والجمعۃ والمکتوبۃ التطوع سواء والمختار عند المتاخرین عدمہ فی الاولیین لدفع الفتنۃ کما فی جمعۃ البحر واقرہ المصنف وبہ جزم فی الدرر [3]۔

سہو نماز عید جمعہ فرض اور نوافل میں برابر ہے، متاخرین کے نزدیك پہلی دو نماز ( نماز جمعہ وعید) میں دفع فتنہ کی وجہ سے سجدہ سہو نہ کرنا مختار ہے ، جیسا کہ بحر کے باب الجمعہ میں ہے۔ مصنف نے اسے ثابت رکھا اور درر میں اسی پر جزم ہے۔ (ت)

 

 



[1] ردالمحتار باب سجودالسہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٥٥٨

[2] درمختار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٧١

[3] درمختار باب سجود السہو مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/١٠٣



Total Pages: 673

Go To