Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

مسئلہ ١٤١٠ :       اصغر علی خاں بریلی بانس منڈی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جمعہ میں کوئی سورہ کلام مجید کی  چھوٹی پڑھی جائے یا بڑی ، اور چھوٹی پڑھی جائے تو کس قدر اور بڑی پڑھی جائے تو کس قدر ، بدیں وجہ کہ مسجد کی یہ حالت ہے کہ کچھ نمازی اندر سایہ کے اور کچھ باہر فرش پر جہاں بالکل دُھوپ اور فرش  بھی گرم ہوتا ہے۔

الجواب :

جمعہ میں حضور اقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   سے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ ، دوسری رکعت میں سورہ منافقون ، اور کبھی پہلی میں  سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱) [1]اوردوسری میں  هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ(۱) [2] ثابت ہے ، اور حسبِ حاجت ومصلحت کمی بیشی کا اختیار ہے ، اور اگر مقتدیوں پر تکلیف وناگواری ہو تو اختصار لازم ہے مگر حتی الامکان قدرِ مسنون سے کمی نہ کرے کہ قدرِ مسنون کا محض کسل کی وجہ سے ناگوار ہو نا ان کا قصور ہے جس میں نہ وُہ مستحق رعایت نہ اُس کے سبب ترك سنّت کی اجازت ، ہاں اگر مثلًا کوئی مریض یا ضعیف ایسا ہوکہ بقدر سنت پڑھنابھی اُس کے لئے باعثِ تکلیف ہوگا تو اُ س کی رعایت واجب ہے اگر چہ نمازِ جمعہ کوثرو اخلاص سے پڑھانا ہو ، واﷲ تعالٰی اعلم

_________________

اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ

(اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم 

مسئلہ ۱۴۱۱ : از ملك بنگالہ موضع شاکو چپل ضلع سہلٹ ڈاکخانہ جگدیش پور مرسلہ مولوی ممتاز الدین صاحب ۱۱ ذی الحجہ١٣٢٠ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان ، مسجد کے اندر دینا کیسا ہے ، جمعہ کی اذانِ ثانی خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے بعد جو دی جاتی ہے آیا وہ اذان ، مسجد کے اندر خطیب کے سامنے کھڑا ہوکر کہے یا مسجد کے ، اوربرتقدیر اول بلاکراہت جائز ہے یا نہیں ، بعض لوگ کہتے ہیں یہ بلاکراہت سب علماء کے نزدیك جائز ہے اور سلف صالحین سے لے کر اس زمانہ تك کل امصار ودیار میں اسی طریقہ مسنون پر باتفاق علمائے کرام جاری ودائر ہے ، شامی میں ہے کہ مؤذن اذان خطیب کے سامنے کہے ، ہدایہ میں ہے منبر کے سامنے کہے ، اور اسی پر علما کا عمل ہے ، اور رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کے زمانے میں نہیں تھا مگر یہ اذان ، اور درمختار میں ہے خطیب کے سامنے کہے ، ان عبارات سے ہویدا ہُواکہ روبروخطیب کے مسجد کے اندر کہے اور باہر مسجد یاصحن مسجد میں کھڑا ہوکر اذان کہنا خلاف کُتبِ فقہ وسلف صالحین کا ہے انتہی ، اور بعض لوگ کہتے ہیں جمعے کی اذان ثانی مسجد کےاندر منبر کے سامنے کھڑے ہوکر مکروہ نہیں ہے ، اگرچہ جہاں تك اطلاق بین یدیہ آتا ہے

سب جگہ درست ہے انتہی ، ان میں کون سا قول صحیح ہے؟ بینوا توجروا

الجواب :

ہمارے علمائے کرام نےفتاوٰی  قاضی خان وفتاوٰی  خلاصہ و فتح القدیر و نظم و شرح نقایہ  برجندی وبحرالرائق و فتاوٰی  ہندیہ وطحطاوی وعلی مراقی الفلاح وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے فتاوٰی  خانیہ میں ہے :

ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجد [3]۔

یعنی اذان منارے پر یا مسجد کے باہر چاہئے مسجد میں اذان نہ کہی جائے ۔

بعینہ یہی عبارت فتاوٰی  خلاصہ و فتاوٰی  عالمگیریہ میں ہے۔ فتح القدیر میں ہے :

الاقامۃ فی المسجد لابد واماالاذان فعلی المئذنۃ فان لم یکن ففی فناء المسجد وقالولایؤذن فی المسجد[4]۔

یعنی تکبیر تو ضرور مسجد میں ہوگی ، رہی اذان وہ منارے پر ہو۔ منارہ نہ ہو تو بیرونِ مسجد زمین متعلق مسجد میں ہو ۔ علمافرماتے ہیں مسجد میں اذان نہ ہو۔

نیز خودباب الجمعہ میں فرمایا :

ھوذکراﷲ فی المسجد ای فی حدودہ لکراھۃ الاذان فی داخلہ[5]۔

وُہ اﷲ تعالٰی  کاذکر ہے مسجد میں یعنی حوالیِ مسجد کے اندر ، اس لئے کہ خود مسجد کے اندر اذان دینی مکروہ ہے۔

شرح مختصرالوقایہ للعلامۃ عبدالعلی میں ہے :

 



[1]    القرآن  ۸۷ /  ۱

[2]    القرآن  ۸۸ /  ۱

[3]    فتاوٰی  قاضی خاں مسائل الاذان  مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ١ /  ٣٧

[4]    فتح القدیر باب الاذان  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /  ۲۱۵

[5]    فتح القدیر باب الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /  ۲۹



Total Pages: 262

Go To