Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

اور بھی شیخ جلال الدین سیوطی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   علیہ نے کتنے اوقات اجابت دعا سے شمار فرمائے ہیں ایك اُن میں سے جلسہ کرنے خطیب کو درمیان خطبتین تحریر کیا ،

العاشر ما بین خروج الامام الی ان تقام الصلٰوۃ الحادی عشر مابین ان یجلس الامام علی المنبر الی ان تقضی الصلٰوۃ الثانی عشرمابین اول الخطبۃ والفراغ منھا الثالث عشر عند الجلوس بین الخطبتین [1]۔

دسواں امام کے نکلنے اور اقامتِ نماز تك ہے ، گیارھواں امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر اختتام نماز تك ہے ، بارھواں شروع خطبہ سے لے کر اس سے فراغت تك ہے ، تیرھواں دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کے وقت ہے۔ (ت)

اور وقت جلسۂ خطیب کے کلام کرنا نزدیك امام ابو یوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کے درست ہے تاتارخانیہ میں نقلًا عن العتابیہ مرقوم ہے :

ولوسکت الخطیب حین جلس ساعۃ قال ابو یوسف یباح لہ التکلم فی تلك الساعۃ [2]۔

امام منبر پر بیٹھ کر ایك ساعت خاموش رہا تو امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ اس وقت گفتگو مباح ہے ۔ (ت)

اور درمختار میں مثل ا سکے مرقوم ہے ، اور صحیح بخاری شریف میں کہ اصح الکتب بعد کتاب اﷲ کے ہے بیچ باب رفع الیدین فی الخطبہ کے عین حالت خطبہ میں دعا مانگنا آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   سے منقول ، اور ثابت ہے کہ آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   روز جمعہ کے خطبہ فرماتے تھے کہ ایك شخص آیا پس کہا اے رسول  اﷲ کے ! ہلاك ہوئے جاتے ہیں چارپائے اور ہلاك ہوئے جاتے ہیں شاۃ (بکریاں ) پس دعا فرماؤ اﷲ سے یہ کہ تر کرے ہم کو ، پس دراز کئے آپ نے ہاتھ مبارك اپنے اور درخواست دعا کی کی :

حدثنا مسدد ثنا حماد بن زید عن عبدالعزیز عن انس وعن یونس عن ثابت عن انس قال بینما النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یخطب یوم الجمعۃ اذقام رجل فقال یارسول اﷲ ھلك الکراع وھلك الشاۃ فادع اﷲ ان یسقینا فمد یدیہ ودعا [3]۔                                                 

ہمیں مسدد نے انھیں حماد بن زید نے انھیں عبد العزیز نے حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے اور یونس سے ثابت نے اور انھوں نے حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا کہ ہم حاضر تھے رسالتمآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ ایك شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اﷲ ! چارپائے ہلاك ہورہے ہیں بکریاں ہلاك ہورہی ہیں اﷲ تعالٰی  سے دُعا کیجئے کہ اﷲ تعالٰی  ہمیں بارش عطافرمائے تو آپ نے اﷲ تعالٰی  کے حضور ہاتھ پھیلادئے اور دعا کی ۔ (ت)

جبکہ کلام کرنا اس وقت میں کلام مجتہدسے ثابت ہو اور دعا مانگنا دُعا کا عین حالتِ خطبہ میں آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   سے ثابت اور متحقق ہے ، پس مانگنا دُعا کا افضل العبادات سے ہے نزدیك حق تعالٰی  جل وعلاکے ، اوروہ وقت قبولیت دعا کا ہے موافق مرقومۂ بالا کے اور اکثر روایات معتبرہ کے ، اور مانع کلام وغیرہ کا پڑھنا خطیب کا تھاوہ بھی اُس وقت میں نہیں ہے کمال مستحسن ہوگا ، اور بھی بیچ مفتاح الصلٰوۃ کے دعامانگنا ہاتھ اٹھا کے درست فرمایا اور مقدار جلسہ کی بقدر سہ(۳) آیات کے مجتبٰی  سے اور سند اجابت دعا کی صحیح مسلم وشارح صحیح مسلم امام نووی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   علیہ سے ساتھ لفظ صواب کے نقل کی ، مفتاح الصلٰوۃ میں مرقوم ہے :

درمیان دوخطبہ کہ امام بنشیند دعا بطریق اولٰی  جائز خواہد بودعلی الخصوص دراحادیث آمدہ کہ ساعۃ الاجابۃ مابین ان یجلس الامام فی الخطبۃ الی ان تقضی الصلٰوۃ کما صح فی صحیح مسلم وجزم الامام النووی فی شرح مسلم وقال ھو الصواب پس باید          

دو خطبوں کے درمیان جب امام بیٹھتا ہے تو اس وقت دُعا کرنا خصوصًا بطریقِ اولٰی  جائز ہونی چاہئے کیونکہ احادیث میں آیاہے کہ قبولیت کی ساعت اما م کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر اختتام ِ نماز تك ہوتی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے اور امام نووی نے شرح مسلم میں اسی پر جزم کرتے ہوئے فرمایا یہی

کہ دروق جلوس کہ درظاہر الروایۃ مقدار سہ۳   آیت وارد ست کما فی المجتبی وغیرہ ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاٰخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار خواند کہ عمل بر ظاہر الروایہ واحادیث صحیحہ واقع گردد واگر دست برداشتہ بخواند موافق طریقۂ دعا کہ دراحادیث ست واقع گردد وعمل بزرگان نیز ہست [4]۔    

صواب ہے لہذا امام کے بیٹھنے کے وقت ، جو ظاہر الروایۃ کے مطابق تین۳  آیات کی مقدار ہے جیسا کہ مجتبٰی  وغیرہ میں ہے ، یہ دعا پڑھ لی جائے اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بہتری اور نیکی عطافرما اور آخرت میں بھی بہتری عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے تاکہ ظاہر الروایت اور احادیث صحیحہ پر عمل ہوجائے اور اگر دعامیں ہاتھ اٹھائے تویہ بھی اس طریقہ دعا کے موافق ہے جو احادیث میں آیا ہے اور اسلاف کا بھی عمل ہے ۔ (ت)

اور ایسا ہی بیچ فتوح الارواد کے مرقوم ہے اور بیچ حصن حصین کے ایك آداب دعامیں رفع یدین کو بسندِ حدیث تحریر کیا ہے ، ورفعھما ع وان یکون رفعھما حذوالمنکیبین [5] دامس ، یعنی آدابِ دعاسے ہے اُٹھانادونوں ہاتھوں کا طرف آسمان کے ، نقل کی یہ صحاح ستّہ میں ، اور یہ کہ ہووے ہاتھ اٹھانا برابر مونڈھوں کے ، نقل کی سنن ابوداؤد و احمد وحاکم نے اس سے خوب واضح ہو اکہ دعا مانگنا ساتھ رفع یدین کے چاہئے ، البتہ خالی ہاتھ اٹھانا بغیر دُعا کے عبث اور بے فائدہ ہے اور یہ بھی واضح و لائح ہُوا کہ د'عا مانگنا اور ہاتھ نہ اٹھانا ، آداب دعا کے ، سے دور ہونا ہے واﷲ اعلم بالصواب و الیہ المرجع الماٰب۔

احمد حسین بیگ غفر اﷲ لہ۔ محمد رضاعلی خاں ۔ سید یعقوب علی رضوی ، خویدیم اطلبہ سید محمود علی سیّد محمد ذاکر عفی عنہ علمائے بریلی   رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی   کا فتوٰی  یہ ہے اور عمل وہ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم

 



[1]    حرز ثمین شرح حصن حصین للسیوطی

[2]    فتاوٰی تاتار خانیۃ کتاب الصلٰوۃ  ،  شرائط الجمعۃ  مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ کراچی ۲ /  ۶۹

[3]    صحیح البخاری باب رفع الیدین فی الخطبۃ  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /  ۱۲۷

[4]    مفتاح الصلٰوۃ

[5]    حصن حصین  آداب الدعاء مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ص۱۷



Total Pages: 262

Go To