Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

قولہ “ اگرکسی نے اذنِ خطیب کے بغیر نماز پڑھائی تو جائزنہیں “ اس کا ظاہر بتارہا ہے کہ خطیب نے خود خطبہ دیا مگر نماز اس کی اجازت کے بغیر دوسرے نے پڑھادی اور اسی کی مثل وہ صورت ہے جب بلااجازتِ خطیب کسی نے خطبہ دے دیا ، کیونکہ خانیہ وغیرہ میں ہے کہ اگر کسی نے بغیر اجازتِ امام خطبہ دیا اور امام حاضر تھا تویہ جائزنہیں اھ (ت)

ہاں اس صورت میں اگر عامہ مسلمین جیسے آج تك تقرر زید پر متفق رہے اب بوجہ شرعی معزولی زید پر متفق ہوجائیں اور دوسرے شخص کو قائم کردیں تو اس صورت زید معزول اور دوسرے کا تعین صحیح ومقبول ہوگا صرف عورت کی جاہلانہ حرکت یا حاکم سلطنت غیر اسلامی کی شرکت واعانت محض بیکار وبے سود ہے کہ کسی منصب سے معزول کرنے کا اسی کو اختیار ہوتا ہے جسے مقرر کرنے کا اختیار تھا وہ اصالۃً سلطانِ اسلام ہے اور ضرورۃً جماعاتِ مسلمین نہ کہ عورت یا حکامِ سلطنت غیر اسلام کما لایخفی علی من لہ بالفقہ ادنی الالمام ( جیسا کہ یہ ہر اس شخص پر واضح ہو جو فقہ میں ادنٰی  سا درك رکھتا ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ١٤٠٧ : از بنارس محلہ کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب جمادی الاولی ١٣١٣ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بروز جمعہ نیت چار رکعت سنت کی باندھی ، بعدہ ، امام نے خطبہ شروع کیا اب وہ دورکعت پڑھ کر سلام کرے یا چار رکعت پوری پڑھے اس میں جو کچھ اختلاف درمیان علمائے حنفیہ سے ہے وہ جناب پر ظاہر ہے لیکن بطور نمونہ قدرے درج ذیل ہے :

فی الدرالمختار فی باب الجمعۃ ولو خرج و ھو فی السنۃ اوبعد قیامہ لثالثۃ النفل یتم فی الاصح ویخفف القراءۃ  [1] وایضا فیہ فی باب ادراك الفریضۃ وکذا سنۃ الظھر

درمختار کے باب الجمعہ میں ہے کہ اگرامام آگیا اور نمازی سنن اداکررہا تھا یا نفل کی تیسری رکعت کی طرف کھڑا ہو تو اصح قول کے مطابق اسے مکمل کرلے اورقراءت میں تخفیف کرے ، اس کے باب ادراك الفریضہ میں بھی یہی ہے

وسنۃ الجمعۃ اذا اقیمت اما خطب الامام یتمھا اربعا علی القول الراجع لانہا صلٰوۃ واحد لیس القطع للاکمال ، بل للا بطال خلا فالما رجحہ الکمال [2]۔   وفی العلمگیریۃ ولوکان فی السنۃ قبل الظھر والجمعۃ فاقیم اوخطب یقطع علی راس الرکعتین یروی ذلك عنہ ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی  وقد قیل یتمھا کذافی الھدایۃ ،  وھو الاصح کذافی محیط السرخسی ،  وھو الصحیح ھکذا فی السراج الوھاج[3]۔  فی الصغیری شرح منیۃ اذا صعدالامام المنبر یجب علی الناس ترك الصلٰوۃ [4] الٰی  اٰخرہ فی حاشیۃ ردالمحتار علی الدرالمختار متعلق ،  لمارجحہ الکمال حیث قال وقیلك یقطع علی رأس الرکعتین وھوالراجح لانہ یتمکن فی قضائھا بعدالفرض ولا ابطال فی التسلیم علی الرکعتین فلا یفوت فرض الاستماع والاداء علی الوجہ الاکمل بلاسبب اھ۔   اقول :  وظاھر الھدایۃ اختیارہ و علیہ مشی فی الملتقی  ونور الایضاح والمواھب و                                               

اور اسی طرح سنتِ ظہر اور سنتِ جمعہ میں اگر تکبیر کہی جائے یا امام خطبہ شروع کردے تو قولِ راجح کے مطابق وہ چار رکعت مکمل کرے کیونکہ یہ ایك ہی نماز کے حکم میں ہے یہاں انقطاع ، اکمال نہیں بلکہ ابطال ہوگا ، اس کے خلاف ہے جسے کمال نے ترجیح دی۔ اور عالمگیری میں ہے اگر کوئی شخص ظہر اور جمعہ کی پہلی سنتوں میں تھا تکبیر کہی گئی یا خطبہ شروع ہوگیا تو دو رکعات ادا کرکے ختم کردے یہ امام ابویوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   سے مروی ہے اور بعض نے کہا کہ تمام کرے اسی طرح ہدایہ میں ہے اور یہی اصح ہے ، محیط سرخسی میں یہی ہے اور یہی صحیح ہے ، اسی طرح سراج الوہاج میں ہے ، صغیری شرح منیہ میں ہے جب امام منبر پر چڑھے تو لوگوں میں نماز کا ترك کردینا لازم ہے الخ حاشیہ ردالمحتار علی الدرالمختار میں کمال کی ترجیح کے بارے میں ہے کہ بعض نے کہا دو رکعتوں پر اختتا م کردے یہی راجح ہے کیونکہ فرائض کے بعد ان کی قضا ممکن ہے اور دو رکعات پر سلام ان کا ابطال بھی نہیں ، پس اب خطبہ کا سننا جو فرض ہے وہ بھی فوت نہ ہوگا اور کامل طریقہ پر سنن کی ادائیگی بھی ہوجائے گی۔ اقول : ہدایہ کا ظاہر یہی کہ یہ ان کامختار ہے ، اس پر ملتقی ، نورالایضاح ، المواہب ، جمعۃ الدرر اور فیض میں ہے شرنبلالیہ میں

جمعۃ الدرر والفیض وعزاہ فی الشرنبلالیۃ الی البرھان  وذکر فی الفتح انہ حکی عن السغدی انہ  رجع الیہ لما راہ  فی النوادر عن ابی حنیفۃ وانہ مال  الیہ السرخسی والبقالی وفی البزازیۃ انہ رجع الیہ القاضی النسفی و ظاھر کلام  المقدسی المیل  الیہ ونقل فی الحلیۃ کلام شیخہ الکمال ثم قال وھو  کما قال ھذا[5] الخ فی شرح الوقایۃ اذا خرج الامام حرم الصلٰوۃ [6] وفی عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ لمولٰنا واستاذنا مولوی عبدالحی صاحب مرحوم ومغفور واخرج اسحق بن راھویۃ فی مسندہ عن السائب کنا نصلی فی زمن عمر یوم الجمعۃ فاذا خرج عمر وجلس علی المنبر قطعنا الصلٰوۃ[7] الخ     

اسے برہان کی طرف منسوب کیا گیا ہے ، فتح میں ہے سغدی سے منقول ہے کہ اس کی طرف رجوع اس لئے کیا کہ نوادر میں امام ابوحنیفہ سے اسی طرح مروی ہے ، اوراسی کی طرف سرخسی اور بقالی نے میلان کیا ہے او ربزازیہ میں ہے کہ اس کی طرف قاضی نسفی نے رجوع کیا ، کلام مقدسی سے ظاہرًا اسی طرف میلان معلوم ہوتا ہے ، حلیہ میں کمال کا کلام نقل کر کے کہا کہ وہ اسی طرح ہے جو یہ کہا گیا ہے الخ شرح وقایہ میں ہے جب امام آجائے تو نماز حرام ہوجاتی ہے. عمدۃ الرعایہ حاشیہ شرح وقایہ جو ہمارے استاذ مولوی عبدالحی کا ہے میں لکھا ہے کہ اسحاق بن راہویہ نے مسند میں حضرت سائب سے روایت کیا کہ ہم حضرت عمر فاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے دور میں نماز پڑھتے تھے توجب حضرت عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  منبر پر بیٹھتے تو ہم نماز ختم کردیتے تھے الخ (ت)

الجواب :

 



[1]    درمختار باب الجمعۃ  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٣

[2]    درمختار باب ادراک الفریضۃ  مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ /  ٩٩

[3]    فتاوٰی  ہندیۃ الباب العاشرفی ادراک الفریضۃ  مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ /  ١٢٠

[4]    صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ٢٨۰

[5]    ردالمحتار باب ادراک الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥٢٧

[6]    شرح الوقایہ  باب الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ١١ /  ٢٤٤

[7]    عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ١ /  ٢٤٤



Total Pages: 262

Go To