Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

کوئی حدیث موافق نہ تھی اور ثانیہ میں حدیث برخلاف تھی با یہنمہ امور ادب میں عرف شاہد کا اعتبار فرمایا تو جہاں خود حدیث بھی موافق ہی موجود ہے ادب معروف کا لحاظ نہ کرنا کس درجہ گستاخی وبیباکی ہے معہذا حدیث نے مسجد میں چلاّ نے سے بھی منع فرمایا ہے ، بحرالرائق وردالمحتار میں ہے :

اخرج المنذری مرفوعا جنبوا مساجد کم صبیانکم ومجانینکم وبیعکم وشرائکم ورفع اصولاتکم[1]۔   قلت رواہ ابن ماجۃ عن واثلۃ ابن الاسقع رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعبدالرازاق فی مصنفہ بسند اسلم عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ

امام منذری نے مرفوعًا روایت کیاہے کہ ( رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا) اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں اور دیوانو اور خرید وفروخت اور آواز بلند کرنے سے بچاؤ ، میں کہتا ہوں اسے ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن اسقع   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اور امام عبدالرزاق نے مصنف میں محفوظ سند سے

عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔

حضرت معاذبن جبل   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے اور انھوں نے نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   سے روایت کیا ہے (ت)

تو اس ادب کی طرف خود حدیث میں ارشاد موجود ہے اور علماء نے اس ممانعت کوذکر کے لئے بھی عام ہونے کی تصریح فرمائی ، درمختار میں ہے :

یحرم فیہ ( ای فی المسجد) السوال ویکرہ الاعطاء ورفع صورت بذکر الاللمتفقھۃ [2]۔

( مسجد میں ) سوال کرنا حرام ہے اور دینا مکروہ ہے اور ذکر کے لئے آوازکو بلند کرنا بھی ، البتہ دین پڑھانے اور سمجھا نے والا آواز بلند کرسکتا ہے۔ (ت)

تو اصل منع ہے جب تك ثبوت نہ ہو جیسے اقامت وقرائتِ نماز لیکن یہاں شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اندرون مسجد اذان کا ہرگز ثبوت نہیں ، تو اگر کچھ اور دلیل نہ ہوتی اسی قدر اس کے بے ادبی وممنوع ہونے کو بس تھا بلکہ شرع مطہر نے مسجد کو ہر ایسی آواز سے بچانے کا حکم فرمایا ہے جس کے لئے مساجد کی بنا نہ ہو ، صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا اﷲ علیك فان المساجد لم تبن لھذا [3]۔

جو گمی ہوئی چیز کو مسجد میں دریافت کرے اس سے کہو اﷲ تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں ۔ (ت)

حدیث میں حکم عام ہے اور فقہ نے بھی عام رکھا ، درمختار وغیرہ میں ہے : کرہ انشاد ضالۃ( گمشدہ شئ کا (مسجد میں )اعلان کرنا مکروہ ہے ۔ ت) تو اگر کسی کا مصحف شریف گم گیا اور وہ تلاوت کے لئے مسجد میں پوچھتا ہے اُسے بھی یہی جواب ہوگا کہ مسجدیں اس لئے نہ بنیں ، اگر اذان دینے کے لئے اس کی بنا ہوئی تو ضرور حضور اقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   مسجد کے اندر ہی اذان دلواتے یا کبھی کبھی تواس کا حکم فرماتے ، مسجد جس کےلئے بنی زمانہ اقدس میں اسی کا مسجد میں ہونا کبھی ثابت نہ ہو یہ کیونکر معقول ، تووجہ وہی ہے کہ اذان حاضری دربار پکارنے کو ہے اور خود دربار حاضری پکارنے کو نہیں بنتا ، ہمارے بھائی اگر گردنیں عظمتِ الہٰی  کے حضور جھکا کر آنکھیں بند کرکے براہ انصاف نظر فرمائیں تو جو بات ایك منصف یا جنٹ کی کچہری میں نہیں کر سکتے احکم الحاکمین عزجلالہ کے دربار کو اُس سے محفوظ رکھنا لازم جانیں نہ کہ حدیث کا وہ ارشاد پھر کتب معتمدہ فقہ کی یہ صریح تصریحات کہ مسجد میں اذان منع ہے سب کچھ دیکھیں اور ایك رواج پراڑے رہے ہیں ، ذی انصاف بھائیو! یہ آپ کی شان نہیں ۔

ثالثًا محاذات خطیب ایك اختلافی سنت ہے ، رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   سے یہاں نقل مختلف ہے بکثرت ائمہ مالکیہ اذانِ ثانی جمعہ کے رُوئےبروئے خطیب ہونے ہی کو بدعت بتاتے ہیں ،  وہ فرماتے ہیں یہ اذان بھی منارہ ہی پر ہوتی تھی جیسے پنجگانہ کی اذان ، علامہ خلیل ابن اسحٰق مالکی توضیح فرماتے ہیں :

اختلف النقل ھل کان یؤذون بین یدیہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اوعلی المنار الذی نقلہ اصحابنا انہ کان علی المنار[4] ۔   نقلہ ابن القاسم عن مالك فی المجموعۃ ونقل ابن عبدالبر فی کافیہ عن مالك ان الاذان بین یدی الامام لیس من الامر القدیم  [5]۔              

نقل میں اختلاف ہے کہ کیا اذان نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کے سامنے دی جاتی تھی یا اس منار پر جس کے بارے میں ہمارے اصحاب نے نقل کیا کہ اذان منار پر ہوتی تھی ، اسے ابن القاسم نے “ مجموعہ “ میں امام مالك سے نقل کیا اور شیخ ابن عبدالبر نے کافی میں امام مالك سے نقل کیا کہ امام کے سامنے اذان دینا امر قدیم نہیں ہے۔ ت)

امام ابن الحاج مکی مالکی مدخل میں فرماتے ہیں :

ان السنۃ فی اذان الجمعۃ اذاصعد الامام علی المنبر ان یکون المؤذن علی المنار کذلك کان علی عھد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر و عمر و صدرامن خلافۃ عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہم ثم زاد عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذانًا اٰخر بالزوراء وھو موضع بالسوق وابقی الاذان الذی کان علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی                  

 



[1]    ردالمحتار  مطلب فی احکام المساجد  مطبوعہ  مصطفی البابی مصر ١ /  ٤٨٦

[2]    درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۹۳

[3]    صحیح مسلم باب نہی من اکل ثوما الخ  مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی  ۱ /  ۲۱۰

[4]    المختصر فی فروع المالکیۃ

[5]    کافی فروع المالکیۃ



Total Pages: 262

Go To