Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

 

 

 

 

 

باب قضاء الفوائت
 ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)

 

مسئلہ ١١٩١:                              ٢٨ محرم ١٣٠٨ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے فوت جماعت کے خوف سے سنتیں فجر کی ترك کیں اور جماعت میں شامل ہوگیا اب وہ ان سنتوں کو فرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے یا بعد ؟بینوا توجروا

الجواب:

جبکہ فرض فجر پڑھ چکا تو سنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے، ہمارے سب ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا اس پر اجماع ہے بلکہ پڑھے تو سورج بلند ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پڑھ لے ، نہ اس کے بعد پڑھے نہ اس سے پہلے ۔ ردالمحتار میں ہے:

اذا فاتت وحدھا فلا تقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع الکراھۃ النفل بعدا لصبح وامابعد طلوع الشمس فکذلك عندھما، وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی ز وال کما فی الدرر [1]۔

جب فجر کی سنتیں تنہا فوت ہوجائیں تو بالاتفاق طلوعآفتابسے پہلے ادا نہ کی جائیں کیونکہ نماز فجر کے بعد نوافل مکروہ ہیں، رہا معاملہ طلوع فجر کے بعد کا ، تو شیخین کے نزدیك قضا نہیں، اور امام محمد نے فرمایا کہ زوال تك سنتیں قضا کر لینا میرے نزدیك پسندیدہ ہیں جیسا کہ درر میں ہے۔ (ت)

 


 

 



[1] ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١/٥٣٠



Total Pages: 673

Go To