Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

سبحان اﷲ، کیا دلپذیر حمدہے!

یعنی فیضان الٰہی کے اضافے اور زیادات موتیوں کی طرح شفاف اور روشن پیشانیوں کی طرح تابناك ہیں۔ اب آپ خود ہی سوچئے کہ جس فیض کے اضافے اور زیادات اس قدرمنزہ اور روشن ہوں اس فیض کی اپنی شفافیت وتابندگی کاکیاعالم ہوگا! پھر صاحب فیض جل وعلا کی تابانی ودرخشانی کی توبات ہی نہ پوچھئے کہ وہ انسانی فہم و ادراك سے ماوراہے اور زبان وبیان اس کی

ترجمانی سے قاصرہیں۔ بقول شیخ سعدی ؒ:  ؎

                 اے برتر ازخیال وقیاس وگمان ووہم             وزہرچہ گفتہ اندوشنیدیم وخواندہ ایم
                  دفترتمام گشت وبپایاں رسیدعمر                    ماہمچناں دراول وصف توماندہ ایم
جزاك اﷲ، اے امام احمد رضا! کیا البیلی اور انوکھی حمد بیان کی ہے آپ نے، اﷲ رب العٰلمین کی!
لیکن واضح رہے سامعین وقارئین کرام! کہ حمد کا یہ پہلو ضمنی ہے، جبکہ امام احمد رضا درحقیقت یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا۔ یعنی ع:

حمدِ بیحد مرخدائے پاك را

لیکن محض"حمدبے حد"کہہ دینے سے وہ بات نہیں بنتی جو امام احمد رضاکہناچاہتے ہیں۔ وہ اﷲ تعالٰی کے فیض مبسوط کا ذکرکرتے ہیں۔ اور ظاہرہے کہ اﷲ کے فیض کی کوئی انتہانہیں۔ اور غیرمتناہی فیض کی زیادات، غیرمتناہی درغیرمتناہی ہوں گی اور جو حمد ان زیادات کی جامع ہوگی وہ غیرمتناہی درغیرمتناہی ہوگی، اور امام احمد رضا اﷲ تعالٰی کی ایسی ہی حمد کرناچاہتے ہیں۔ الجامع لزیادات فیضہ___________
  کیاکمال درجے کا اغراق فی المبالغہ ہے!"حمدبے حد"یا"بے انتہاتعریف"میں اس مبالغے کا عشرعشیر بھی نہیں پایاجاتا۔

صلوٰۃ وسلام اور اس کے ضمن میں حضورپرنور صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل کابیان

بارگاہ رسالت میں صلوٰۃ وسلام پیش کرتے ہوئے امام احمدرضانے پہلے توائمہ فقہ کے ناموں اورمعروف القاب کو اس طرح ترتیب دیا کہ کچھ ان میں سے سرورعالم کے نام بن گئے اور کچھ ان کی صفات۔ اس کے بعد اسماء کتب سے آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل بیان کئے ہیں البتہ صلوٰۃ وسلام پیش کرنے کے دوران امام احمدرضا نے مندرجہ بالاتمام محاسن و لطائف کے علاوہ ایك اورخوبی کااضافہ کیاہے، یعنی سرورکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں اپنے عقیدے کی بھی وضاحت کردی ہے اور یوں اہلسنت کی ترجمانی کافریضہ بھی انجام دے دیاہے۔


 

 



Total Pages: 673

Go To