Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

مسئلہ ۹۸۱ : ازشہرممباسہ ضلع شرقی افریقہ دکان حاجی قاسم اینڈسنز مسؤلہ حاجی عبداﷲ حاجی یعقوب ۲۶ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کو جاگتے میں کچھ غفلت ہوئی یانماز پڑھتے میں کچھ شیطانی خیال آیا اور آنکھوں کے سامنے عورت کی فرج کودیکھا اور اپناذکرسامنے کیا لیکن دخول نہ کیا ایك منٹ کے بعد اس خیال کو دور کیا اور نماز تمام کی اب اس نے نہ دخول کیا اور نہ ذکرکھڑا ہواتھا اور نہ منی یامذی نکلی ہے ایك ذرا سا یہ خیال اس کو تھا لیکن پیشاب اس کو لگا ہے غسل کرنا ہوگایانہیں ؟ اور اس کی نماز کیسی ہوئی؟ اس کا خیال ہے کہ مجھ پرغسل نہیں اور نمازیں پڑھتاہے قرآن مجید پڑھتاہے اب نمازیں پڑھنا یاقرآن مجید اور درودشریف پڑھنا سب کیساہے؟ بیّنواتوجروا

الجواب :

جب نہ اس نے دخول کیا نہ منی نکلی ، توغسل واجب نہ ہوا ، قرآن مجید کی تلاوت کرسکتاہے اور سوائے قرآن مجید اور اذکارمثل کلمہ طیبہ وتسبیح وتہلیل ودرودشریف وغیرہا توحالت جنابت میں بھی پڑھ سکتاہے اور جبکہ صورت مذکورہ میں مذی بھی نہ نکلی تونماز بھی ہوگئی بشرطیکہ اس کابرہنہ عضو عورت کی برہنہ شرمگاہ سے ملانہ ہو ورنہ وضوجاتارہا اور نماز نہ ہوئی ، باقی نماز میں ایساخیال بہت بد ہے اگرچہ فرض اداہوجائے گا نمازسخت مکروہ ہوگی اور اگربرہنگی ایسی ہو جس سے دوسرے کی نظر سے حجاب نہ ہو تو اسی قدر سے نمازجاتی رہے گی جبکہ چہارم عضو کی قدر برہنہ کرے اگرچہ وضو نہ جائے گا جبکہ برہنہ شرمگاہ زن سے ملنا نہ ہو یہ سب اسی صورت میں ہے کہ واقعی کوئی عورت موجود ہو ورنہ مجردخیال سے نہ وضوجائے گا جب تك مذی نہ نکلے نہ غسل واجب ہوگا جب تك منی نہ نکلے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۹۸۲ :           ازجمشید پور ڈاکخانہ خاص ضلع سنگھ بھوم آفس کارکیسے مسؤلہ حمیداﷲ                  ۹ شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ پتلون پہن کرنماز درست ہے یانہیں جبکہ اس میں نشست وبرخاست

پوری طور سے ہوتاہے بیّنوا توجروا

الجواب :

پتلون پہننا مکروہ ہے اور مکروہ کپڑے سے نمازبھی مکروہ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۹۸۳ : گلوبند یاپگڑی یارومال سے پیشانی چھپی ہے توسجدہ درست ہوگایانہیں ؟

الجواب :

سجدہ درست ہے اور نماز مکروہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۸۴ :           مرزا اصغرعلی خاں بانس منڈی ، بریلی

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثرجماعت میں امام مسجد کے درمیں اور مقتدی باہرکھڑے ہوکرنمازپڑھتے ہیں اس میں کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔

الجواب :

امام کادرمیں کھڑاہونا مکروہ ہے کما فی رد المحتار عن معراج الدرایۃ عن سیدنا الامام رضی اﷲ تعالٰی عنہ[1] (ردالمحتار میں معراج الدرایہ کے حوالے سے سیدنا امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے منقول ہے۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم

مسئلہ ۹۸۵ : جرابیں پہن کرپاؤں میں نماز پڑھنادرست ہے یانہیں ؟ زید کہتاہے کہ جبکہ ان کے پہننے سے ٹخنے بند ہوگئے تونماز مکروہ ہوگی۔ بیّنوا توجروا

الجواب :

زیدکاقول غلط ہے ، موزے پہن کرنمازپڑھنا بہترہے واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۸۶ :            ازسرکار پاك پٹن شریف ضلع منٹگمری درگاہ اقدس مرسلہ امام علی شاہ صاحب ۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۱ھ

حق ، حق ، حق ، جناب مولٰنا! السلام علیکم ، مکلف ہوں کہ اس مسئلہ میں آپ کیافرماتے ہیں کہ کسی بزرگ کے آستانہ پاك میں اسی بزرگ صاحب مزار کے روضہ منورہ کے دروازے کوبند کرکے روضہ کے آگے ہی اگرنماز پڑھ لی جائے توشرعًا جائز ہے یانہیں ؟ یہ مسئلہ اخبار دبدبہ سکندری میں لکھ دیاجائے تاکہ سب لوگ دیکھ لیں ۔ زیادہ نیازالمکلف فقیر محمد امام علی شاہ اولاد باباصاحب   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ازدرگاہ حضرت جناب بابا صاحب   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  گنج شکر قطب عالم اغیاث ہند پاك پٹن شریف ضلع منٹگمری

الجواب :

جناب شاہ صاحب وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، ، صورت مذکورہ میں نمازجائز اور بلاکراہت جائز ، اور قرب مزار محبوباں کردگار کے باعث زیادہ مثمر برکات وانوار و مورد رحمت جلیلہ غفار۔ خلاصہ و ذخیرہ و محیط و ہندیہ وغیرہا میں ہے :

واللفظ لھذین قال محمد اکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی المخرج والحمام والقبر[2] (الی قولہ اعنی المحیط) ھذا کلہ اذا لم یکن بین المصلی وبین ھذہ المواضع حائط اوسترۃ امااذاکان لایکرہ ویصیر الحائط فاصلا[3]۔

ان دونوں کی عبارت یہ ہے امام محمد   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ میں مسجد کے قبلہ کابیت الخلا ، حمام اور قبر کی طرف ہونامکروہ جانتاہوں (محیط کے قول تک) یہ اس وقت ہے جب نمازی اور ان کے درمیان کوئی دیواریاسُترہ نہ ہو لیکن اگردرمیان کوئی چیز ہے  ومکروہ نہیں اب دیوار ان کے درمیان فاصل ہوجائے گی۔ (ت)

سرکاراعظم مدینہ طیبہ صلی اﷲ تعالٰی علٰی من طیبہا وآلہٖ وسلم میں روضہ انور حضوراقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کے سامنے نمازیوں کی صفیں ہوتی ہین جن کاسجدہ خاص روضہ انور کی طرف ہوتاہے مگرنیت استقبال قبلہ کی ہے ، نہ استقبال روضہ اطہر کی۔ لہٰذا ہمیشہ علمائے کرام نے اسے جائز رکھا ہاں بلامجبوری مزاراقدس کوپیٹھ کرنے سے منع فرمایا اگرچہ نماز میں ہو ، منسك متوسط اور اس کی شرح مسلك متقسط ملاعلی قاری میں ہے :

(لایستدبر القبر المقدس) ای فی صلاۃ ولاغیرھا الالضرورۃ ملجئۃ الیہ[4]۔

(مزاراقدس کی طرف پشت نہ کرے) نماز اور غیرنماز میں البتہ جب کوئی مجبوری وضرورت ہو تو کوئی حرج نہیں (ت)

نیز شرح مذکور میں ہے :

 



[1]   ردالمحتار باب مکروہات الصلوٰۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸

[2]   فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس فی آداب المسجد الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۱۹

[3]   فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس فی آداب المسجد الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۲۰

[4]   مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب زیارت سیدالمرسلین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ص۳۴۲



Total Pages: 215

Go To