Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

یعنی جسے صف میں فرجہ نظرآئے وہ خود وہاں کھڑا ہوکر اسے بند کردے اگر اس نے نہ کیا اور دوسرا آیا تو وہ اس کی گردن پرقدم رکھ کر چلاجائے کہ اس کے لئے

عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما

کوئی حرمت نہ رہی۔ اسے دیلمی نے حضرت عبدالله ابن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کیاہے۔

یونہی اگرصف دوم میں کوئی شخص نیت باندھ چکا اس کے بعد اسے صف اول کا رخنہ نظرآیا تو اجازت ہے کہ عین نماز کی حالت میں چلے اور جاکر فرجہ بند کردے کہ یہ مشی قلیل حکم شرع کے امتثال کوواقع ہوئی ، ہاں دوصف کے فاصلہ سے نہ جائے کہ مشی کثیرہوجائے گی۔ علامہ ابن امیر الحاج حلیہ میں ذخیرہ سے ناقل :

ان کان فی الصف الثانی فرأی فرجۃ فی الاول فمشی الیھا لم تفسد صلاتہ لانہ ماموربالمراصّۃ قال علیہ الصلاۃ والسلام تراصّوا فی الصّفوف ولوکان فی الصف الثالث تفسد[1]۔

اگر کوئی آدمی دوسری صف میں کھڑاتھا کہ اس نے پہلی میں رخنہ دیکھا اور وہ اسے پر کرنے کے لئے چلا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ نماز میں مل کر کھڑا ہونا حکم شرعی ہے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : صفوں میں خوب مل کر کھڑا ہواکرو۔ اور اگر نمازی تیسری صف میں تھا تو اب نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ت)

علامہ ابن عابدین ردالمحتارمیں فرماتے ہیں :

ظاھر التعلیل بامر انہ یطلب منہ المشی الیھا تامل[2]۔

امر کے ساتھ علت بیان کرنابتارہاہے کہ اس نمازی سے رخنہ پرکرنے کامطالبہ ہے تامل۔ (ت)

ثم اقول :  وبالله التوفیق یہ احکام فقہ وحدیث باعلٰی ندامنادی کہ وصل صفوف اور ان کی رخنہ بندی اہم ضروریات سے ہے اور ترك فرجہ ممنوع وناجائز ، یہاں تك کہ اس کے دفع کو نمازی کے سامنے گزرجانے کی اجازت ہوئی جس کی بابت حدیثوں میں سخت نہی وارد تھی سید عالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :

لویعلم الماربین یدی المصلی ماذا علیہ لکان ان یقف اربعین خیرالہ من ان یمربین یدیہ[3] ۔  اخرجہ الائمۃ احمد و الستۃ عن ابی جھیم رضی الله تعالٰی عنہ قال الحافظ فی بلوغ المرام و وقع

اگرنمازی کے سامنے گزرنے والا جانتاکہ اس پرکتنا گناہ ہے توچالیس برس کھڑارہنا اس گزرجانے سے اس کے حق میں بہترتھا۔ ۔ اسے امام احمد اور ائمہ ستّہ نے حضرت ابوجہیم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے۔ حافظ نے بلوغ المرام میں کہا کہ مسند بزار

فی البزار من وجہ اٰخر اربعین خریفا [4]  قلت والاحادیث یفسر بعضھا بعضا

میں ایك اورسند سے مروی الفاظ یہ ہیں : چالیس سال ، میں کہتاہوں احادیث آپس میں ایك دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں ۔

اور فرماتے ہیں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم :

لویعلم احدکم مالہ فی ان یمربین یدی اخیہ معترضا فی الصلاۃ کان لان یقیم مائۃ عام مخیرلہ من الخطوۃ التی خطاھا[5] ۔ رواہ احمد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔

اگرتم میں سے کوئی جان لے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے پر کیاگناہ ہوتاہے تو وہ اس ایك قدم چلنے سے سوسال تك کھڑے رہنے کو بہتر سمجھے گا۔ اسے امام احمد اور ا بن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے۔ (ت)

اس میں سو برس کھڑا رہنا اس ایك قدم رکھنے سے بہترفرمایا۔ امام طحطاوی فرماتے ہیں : پہلے چالیس ارشاد ہوئے تھے پھر زیادہ تعظیم کے لئے سو۱۰۰(سال) فرمائے گئے۔ تیسری حدیث میں ہے :

لویعلم المار بین یدی المصلی لاحب ان ینکسر فخذہ ولایمر بین یدیہ[6]۔ رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن عبدالحمید بن عبد الرحمٰن منقطعا۔ اگرنمازی کے آگے گزرنے والا دانش رکھتا ہو توچاہتا اس کی ران ٹوٹ جائے مگرنمازی کے سامنے سے نہ گزرے۔ اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے مصنف میں شیخ عبدالحمید بن عبدالرحمن سے منقطع طور پر روایت کیاہے۔

چوتھی حدیث میں ارشاد فرمایا  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم :

اذا صلی احدکم الی شیئ یستُرہ من الناس فاراد احد ان یجتاز بین یدیہ فلیدفعہ فان ابٰی فلیقاتلہ فانما ھو شیطان[7]۔  اخرجہ

جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کی طرف نماز پڑھتا ہو اور کوئی سامنے سے گزرنا چاہے تو اسے دفع کرے اگرنہ مانے تو اس سے قتال کرے کہ وہ شیطان ہے

احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالٰی عنہ۔

اسے احمد ، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوسعید خدری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے۔

ظاہر ہے کہ ایسا شدید امر جس پریہ تشدیدیں اور سخت تہدیدیں ہیں اسی وقت روارکھاگیاہے جب دوسرا اس سے زیادہ اشد اور افسد تھا کما لایخفٰی (جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)

ایك دلیل :  اس وجوب اور فرجہ رکھنے کی کراہت تحریمی پریہ ہے۔

دلیل دوم : احادیث کثیرہ میں صیغہ امر کا وارد ہونا کما سمعت وما ترکت لیس باقل مما سردت (جیسا کہ تونے سن لیا اور جن روایات کو میں نے ترك کردیا ہے وہ بیان کردہ سے کم نہیں ہیں ۔ ت) اس لئے ذخیرہ وحلیہ میں فرمایا : انہ ،  مامور بالمر اصّۃ [8] (کیونکہ مل کر کھڑے ہونے کا حکم ہے۔ ت)فتح القدیر و بحرالرائق وغیرہما میں فرمایا : سدالفرجات المأمور بھا فی الصف[9] (صف کے درمیانی رخنہ کو پرکرنے کا حکم ہے۔ ت)اور اصول میں مبرہن ہوچکا ہے امر مفید وجوب ہے الا ان یصرف عنہ صارف (مگر اس صورت میں جب اس کے خلاف کوئی قرینہ ہو۔ ت)

دلیل سوم : علماء تصریح فرماتے ہیں کہ صف میں جگہ چھوٹی ہو تو اور مقام پرکھڑا ہونا مکروہ ہے۔

 



[1]   ردالمحتار بحوالہ الحلیہ ، باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۱

[2]   ردالمحتار بحوالہ الحلیہ ،  باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۱

[3]   صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ  باب اثم المار بین یدی المصلی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۳

[4]   ببلوغ المرام مع مسک الختام باب سترۃ المصلی مطبوعہ مطبع نظامی کانپور(انڈیا) ۱ / ۱۷۵

[5]   سنن ابن ماجہ باب المرور بین یدی المصلی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۶۸

[6]   مصنف ابن ابی شیبہ من کان یکرہ ان یمرالرجل الخ مطبوعہ ادارۃُ القرآن کراچی ۱ / ۲۸۲

[7]   صحیح البخاری ، باب لیردّ المصلی من مرّبین یدیہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱

Total Pages: 215

Go To