Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

اپنی صفیں خوب گھنی اور پاس پاس کرو اور گردنیں ایك سیدھ میں رکھو کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے بیشك میں شیاطین کو رخنہ صف میں داخل ہوتے دیکھتاہوں گویا وہ بھیڑکے بچے ہیں ۔

ابوداؤد طیالسی کی روایت میں یوں ہے :

اقیموا صفوفکم وتراصوا فوالذی نفسی بیدہ انی لاری الشیاطین بین صفوفکم کانھا غنم عفر[1]۔

اپنی صفیں سیدھی کرو اور ایك دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہو قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشك میں شیاطین کو تمہاری صفوں میں دیکھتاہوں گویا وہ بکریاں ہیں بھکسے رنگ کی۔

فائدہ : بھیڑبکری کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اکثردیکھا ہے کہ جہاں چندآدمی کھڑے دیکھے اور دوشخصوں کے بیچ میں کچھ فاصلہ پایا وہ اس فرجہ میں داخل ہوکر اِدھر سے اُدھر نکلتے ہین یوں ہی شیطان جب صف میں جگہ خالی پاتاہے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کو آگھستا ہے اور بھکسے رنگ کی تخصیص شاید اس لئے ہے کہ حجاز کی بکریاں اکثر اسی رنگ کی ہیں یاشیاطین اس وقت اسی شکل پرمتشکل ہوئے۔ چوتھی حدیث میں اس تاکید شدید سے ارشاد فرمایا :

اقیموا الصفوف فانما تصفون بصفوف الملٰئکۃ وحاذوابین المناکب وسدوالخلل ولینوا فی ایدی اخوانکم ولاتذروا فرجات للشیاطین ومن وصل صفا وصلہ الله ومن قطع صفاقطعہا للّٰہ[2] ۔  رواہ الامام احمد وابوداؤد والطبرانی فی الکبیر و الحاکم و ابن خزیمۃ وصححاہ عن ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہما وعند النسائی والحاکم عنہ بسند صحیح الفصل الاخیراعنی من قولہ من وصل[3] الحدیث ۔                        

یعنی صفیں درست کرو کہ تمہیں توملائکہ کی سی صف بندی چاہئے اور اپنے شانے سب ایك سیدھ میں رکھو اور صف کے رخنے بند کرو اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور صف میں شیطان کے لئے کھڑکیاں نہ چھوڑو اور جو صف کو وصل کرے الله اسے وصل کرے اور جو صف کو قطع کرے الله اسے قطع کرے۔ اسے امام احمد ، ابوداؤد ، طبرانی نے المعجم الکبیر میں ، حاکم اور ابن خزیمہ حضرت عبدالله بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کیا اور ان دونوں نے اسے صحیح قراردیا۔ نسائی اور حاکم نے انہی سے سند صحیح کے ساتھ آخری جملہ من وصل صفًا کوفصل کرکے روایت کیاہے الحدیث۔

ملائکہ کی صف بندی کا دوسری حدیث میں خود بیان آیا :

خرج علینا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فقال الاتصفون کما تصف الملٰئِکۃ عن ربھا فقلنا یارسول الله کیف تصف الملٰئِکۃ عند ربھا قال یتمون الصف الاول ویتراصّون فی الصف [4]۔   اخرجہ احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن جابر بن سمرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔

سید عالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے باہر تشریف لاکر ارشاد فرمایا : ایسے صف کیوں نہیں باندھتے جیسے ملائکہ اپنے رب کے سامنے صف بستہ ہوتے ہیں۔ ہم نے عرض کی : یارسول الله ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) ملائکہ اپنے رب کے حضور کیسی صف باندھتے ہیں : فرمایا : اگلی صف کو پورا کرتے ہیں اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اسے امام احمد ، مسلم ، ابوداؤد ، نسائی اور ا بن ماجہ نے حضرت جابر بن سمرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے۔

اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجانایہ کہ اگر اگلی صف میں کچھ فرجہ رہ گیا اور نیتیں باندھ لیں اب کوئی مسلمان آیا وہ اس فرجہ میں کھڑا ہونا چاہتاہے مقتدیوں پرہاتھ رکھ کر اشارہ کرے تو انہیں حکم ہے کہ دب جائیں اور جگہ دے دیں تاکہ صف بھر جائے۔ فتح القدیر و بحرالرائق و مراقی الفلاح و درمختار وغیرہا میں ہے :

واللفظ للشرنبلالی قال بعد ایراد الحدیث الرابع وبھذا یعلم جھل من یستمسك عند دخول احد بجنبہ فی الصف یظن انہ ریاء بل ھوا عانۃ علی ماامربہ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم[5] ۔

علامہ شرنبلالی نے چوتھی حدیث ذکرکرنے کے بعد یہ الفاط کہے کہ اس حدیث سے اس شخص کی جہالت واضح ہوجاتی ہے جوریاکاری کاتصور کرتے ہوئے صف میں اپنی کسی جانب نمازی کوشامل ہونے سے روکتاہو بلکہ یہ حضورنبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حکم کی بجاآوری پردوسرے کی مدد کرناہے۔ (ت)

اور نہایت یہ کہ اگراگلی صف والوں نے فرجہ چھوڑا اور صف دوم نے بھی اس کا خیال نہ کیا مگر اپنی صف گھنی کرلی اور نیتیں بندھ گئیں حالانکہ ان پرلازم تھا کہ صف اول والوں نے بے اعتدالی کی تھی تویہ پہلے اس کی تکمیل کرکے دوسری صف باندھتے ، اب ایك شخص آیا اور اس نے صف اول کارخنہ دیکھا اسے اجازت ہے کہ اس دوسری صف کو چیرکرجائے اور فرجہ بھردے کہ صف دوم بے خیالی کرکے آپ تقصیروار ہے اوراس کا چیرنا روا۔ قنیہ و بحرالرائق و شرح نورالایضاح و درمختار وغیرہ میں ہے :

واللفظ لشرح التنویر لووجد فرجۃ فی الاول لاالثانی ،  لہ خرق الثانی لتقصیر ھم [6]۔

شرح تنویر کے الفاظ یہ ہیں اگر کسی نے صف اول میں رخنہ پایا حالانکہ دوسری میں نہ تھا تو اس کے لئے دوسری صف والوں کی کوتاہی کی وجہ سے دوسری صف کو چیرناجائز ہوگا۔ (ت)۔

بحر میں : لاحرمۃ لہ لتقصیرھم[7] (دوسری صف والوں کی کوتاہی کی وجہ سے بعد میں آنے والے کو دوسری صف چیرناجائز ہے)یونہی اس رخنہ بندی کے لئے پچھلی صف کے نمازیوں کے آگے گزرنا جائز ہے کہ انہوں نے خود اس امرعظیم میں بے پروائی کرکے جس کا شرع میں اس درجہ اہتمام تھا اپنی حرمت ساقط کردی۔ قنیہ میں ہے :

قام فی اخرالصف فی المسجد وبینہ وبین الصفوف مواضع خالیۃ فللداخل ان یمربین یدیہ لیصل الصفوف لانہ اسقط حرمۃ نفسہ فلایاثم الماربین یدیہ[8]۔

ایك آدمی آخری صف میں کھڑاہوگیا حالانکہ اس کے اور دوسری صفوں کے درمیان خالی جگہیں تھیں تو آنے والے نمازی کو اجازت ہے کہ وہ اس کے آگے سے گزرکر صف مکمل کرے کیونکہ آخر میں کھڑے ہونے والے نے اپنا احترام خود ختم کیا ہے لہٰذا اس کے سامنے سے گزرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔ (ت)

حدیث میں ہے :

من نظر الی فرجۃ فی صف فلیسدھا بنفسہ فان لم یفعل فمرمارفلیتخط علی رقبتہ فانہ لاحرمۃ لہ[9]۔  اخرجہ الدیلمی

 



[1]   مسند ابوداؤد الطیالسی حدیث ۲۱۰۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ص۲۸۲

[2]   سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷ ، مسند احمد بن حنبل از مسند عبداللہ بن عمرو مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۹۸

[3]   المستدرک علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ من وصل صفا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۱۳ ، سنن النسائی کتاب الامامۃمن وصل صفا  مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۴

[4]   صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ ، حدیث ۱۱۹ باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۸۱ ، مسند احمد بن حنبل حدیث جابربن سمرہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۱۰۱ ، سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷ ، سنن نسائی حث الامام علی رص الصفوف الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۳

[5]   مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، فصل فی بیان احق بالامامۃ

Total Pages: 215

Go To