Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

قنیہ کے لفظ یہ ہیں :

من لایحضرھا لاستغراق اوقاتہ فی تکریر الفقہ [1] الخ ۔

جوجمیع اوقات میں تکرار فقہ کی وجہ سے حاضر جماعت نہیں ہوسکتا الخ(ت)

علامہ شامی نے فرمایا :

ثم اشتغال لابغیر الفقہ فی بعض من الاوقات عذر معتبر[2] ۔  والله تعالٰی اعلم ۔

بعض اوقات میں وہ اشتغال جوفقہ کے علاوہ میں ہو معتبر عذرنہیں ہے۔ (ت)

مسئلہ ۸۴۹ :           ازپٹنہ عظیم آباد مرسلہ جناب مرزا غلام قادربیگ صاحب                                 ۲۶ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرصف اول کے مقتدی امام کے ایسے متصل کھڑ ے ہوں کہ ان کے پنجے امام کی ایڑی کے برابرہوں یاایك بالشت امام کی ایڑی سے پیچھے ہوں اس غرض سے کہ دوسری صف بھی مسجد کے اندرہوجائے حالانکہ صحن میں جگہ ہے اور صف اول کاکوئی مقتدی امام کے پیچھے نہ ہو اس صورت میں کراہت ہوگی یانہیں ؟ اگرہوگی تو کیسی کراہت ہوگی؟ بینوا توجروا ۔

الجواب :

صورت مستفسرہ میں بیشك کراہت تحریمی ہوگی اور ایسے امر کے مرتکب آثم وگنہگار کہ امام کا صف پرمقدم ہونا سنت دائمہ ہے جس پر حضورسیدعالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ مواظبت فرمائی اور مواظبت دائمہ دلیل وجوب ہے اور ترك واجب مکروہ تحریمی ، اور مکروہ تحریمی کاارتکاب گناہ۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :

ترك التقدم لامام الرجال محرم وکذا صرح الشارح وسماہ فی الکافی مکروھا وھوالحق ای کراھۃ تحریم لان مقتضی المواظبۃ علی التقدم منہ علیہ الصلاۃ والسلام بلاترك الوجوب فلعدمہ کراھۃ التحریم [3]۔

مردوں کے امام کے لئے تقدیم کاترك حرام ہے ، شارح نے بھی اسی کی تصریح کی ہے ، کافی میں اسے مکروہ کا نام دیا اور یہی حق ہے ، اور مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہے کیونکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہمیشہ آگے کھڑاہونا اور اسے کبھی ترك نہ کرنا وجوب پردلالت کرتاہے اور وجوب کاترك کراہت تحریمی ہوتاہے۔ (ت)

اسی میں ہے :

مقتضی فعلہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم التقدم علی الکثیر من غیر ترك الوجوب[4]۔

مقتدی کثیر ہونے کی صورت میں حضورعلیہ السلام کا ہمیشہ آگے کھڑا ہونااور کبھی ترك نہ فرمانا وجوب کا تقاضا کرتاہے۔ (ت)

بحرالرائق میں ہے :

التقدم واجب علی الامام للمواظبۃ من النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وترك الواجب موجب لکراھۃ التحریم المقتضیۃ للاثم[5]۔

امام کا مقدم ہونا واجب ہے کیونکہ اسی پرنبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مواظبت فرمائی اور واجب کاترك کراہت تحریمی کاموجب ہے جوگناہ کا مقتضی ہے۔ (ت)

اقول : وبالله التوفیق ظاہر ہے کہ حضور سیدعالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کایہ تقدم ہمیشہ یونہی تھا کہ صف کے لئے پوری جگہ عطافرماتے نہ وہ ناقص وقاصرتقدم جوسوال میں مذکور ہوا۔ دلیل واضح اس پریہ ہے کہ حضوراقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تکمیل صف کانہایت اہتمام فرماتے اور اس میں کسی جگہ فرجہ چھوڑنےکو سخت ناپسندفرماتے۔ صحابہ کرام  رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کوارشاد ہوتا :

اقیموا صفوفکم وتراصوا فانی ارٰکم من وراء ظھری[6]  اخرجہ البخاری والنسائی

اپنی صفیں سیدھی کرو اور ایك دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوکہ بیشك میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے

عن انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ و مسلم بلفظ اتمواالصفوف فانی ارٰکم خلف ظھری[7] ۔

دیکھتاہوں ۔ اسے بخاری اور نسائی نے حضرت انس بن مالك  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے اور مسلم شریف میں ان الفاظ سے ہے : اپنی صفیں مکمل کرو کیونکہ میں اپنی پشت کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ (ت)

دوسری حدیث میں ہے :

سدوالخلل فان الشیطان یدخل فیما بینکم بمنزلۃ الحذف[8]۔  رواہ الامام احمد عن امامۃ الباھلی رضی الله تعالٰی عنہ۔

یعنی صف چھدری نہ رکھو کہ شیطان بھیڑکے بچے کی وضع پراس چھوٹی ہوئی جگہ میں داخل ہوتاہے۔ اسے امام احمد نے حضرت ابوامامہ باہلی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے۔

اور یہ مضمون حدیث انس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بالفاظ عدیدہ مروی ہوا امام احمد بسند صحیح ان سے راوی سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

راصوا الصفوف فان الشیاطین تقوم فی الخلل[9]۔

یعنی صفیں خوب گھنی رکھو جیسے رانگ سے درزیں بھردیتے ہیں کہ فرجہ رہتاہے تو اس میں شیطان کھڑاہوتاہے۔

نسائی کی روایت صحیحہ میں ہے :

راصّوا صفوفکم وقاربوا بینھا وحاذوابالاعناق فوالذی نفس محمد بیدہ انی لاری الشٰیطین تدخل من خلل الصف کانھا الحذف[10]۔

 



[1]   ردالمحتار بحوالہ القنیہ ،  باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۱

[2]   ردالمحتار ،  باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۲

[3]   فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر   ۱ / ۳۰۶

[4]   فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۹

[5]   بحرالرائق ، باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۵۱

[6]   صحیح البخاری باب الزاق لمنکب بالمنکب الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۰۰ ، سنن النسائی  احث الامام علی رص الصفوف والمقاربۃ بینہا مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور