Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

اقول : (میں کہتاہوں ) یہ توجیہ اس توجیہ کی ساقط ہوگی جو انحراف کے وقت اسقاطًاکی گئی ہے ، ہاں اسے مقید رناضروری ہے اور وہ بعید نہیں کیونکہ عدم رعایت ترتیب یاعدم غسل منی یااس کاکھرچناتمام مقیدہیں جیسا کہ ہم نے اس پرتنبیہ کردی ہے تو یہ بات ان کے اسقاط کاسبب نہیں ہوسکتی تو یہاں (انحراف) میں بھی یہی معاملہ ہے اور اسی سے پانچویں بحث ظاہر ہے اور وہ قلتین پانی سے وضو کاعدم اسقاط ہے اگرچہ یہاں

یفرق بالغالب والنادر والخفی والمتبادر ولنرجع الی ماکنافیہ من الکلام فماکان الامن تجاذب القلم عنان الرقم لمناسبۃ المقام۔

مناسب اس کا مقید کرنا ہے مگر غالب ونادر اور خفی ومتبادرمیں فرق کیاجاتاہے اب ہم سابقہ گفتگو کی طرف لوٹتے ہیں یہ تومناسبت مقام کی وجہ سے قلم سے مجبورًا تحریرصادرہوگئی (ت)

نیز بحر میں ہے :

فصار الحاصل ان الاقتداء بالشافعی علی ثلثۃ اقسام الاول ان یعلم منہ الاحتیاط فی مذھب الحنفی فلاکراھۃ فی الاقتداء بہ الثانی ان یعلم منہ عدمہ فلاصحۃ لکن اختلفوا ھل یشترط ان یعلم منہ عدمہ فی خصوص مایقتدی بہ اوفی الجملۃ صحح فی النھایۃ الاول وغیرہ اختاراالثانی و فی فتاوی الزاھدی الاصح انہ یصح وحسن الظن بہ اولی الثالث ان لایعلم شیئًا فالکراھۃ[1] (ملخصًا                  

حاصل یہ ہے کہ شافعی کی اقتداء تین طرح کی ہے ، اول یہ کہ اس امام کا مسلك حنفی کی احتیاط ورعایت کرنامعلوم ہو تواب اس کی اقتداء میں کراہت نہ ہوگی۔ ثانی یہ کہ اس امام کا رعایت نہ کرنا معلوم ہو تو اب اقتداء صحیح نہ ہوگی لیکن اختلاف اس بارے میں ہے کہ کیابالخصوص اسی نماز میں جس میں اقتداء مطلوب ہے عدم احتیاط کاعلم ضروری ہے ۔ یافی الجملہ عدم احتیاط کاعلم ضروری ہے ۔ نہایہ میں پہلے کو صحیح کہا اور دوسرے لوگوں نے دوسرے کو مختار قراردیا۔ فتاوٰی زاہدی میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ اقتداء صحیح ہے اور اس کے ساتھ حسن ظن رکھنا اولٰی ہے۔ ثالث یہ کہ اس کے بارے میں علم نہیں کہ وہ رعایت کرتاہے یانہیں (یعنی مشکوك صورت ہے) تو اب اقتداء مکروہ ہوگی۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

نقل الشیخ خیرالدین عن الرملی الشافعی انہ مشی علی کراھۃ الاقتداء

شیخ خیرالدین نے رملی الشافعی سے نقل کیا ہے کہ وہ مخالف کی اقتداء کو اس وقت مکروہ جانتے جب

بالمخالف حیث امکنہ غیرہ ومع ذلك ھی افضل من الانفراد یحصل لہ فضل الجماعۃ وبہ افتی الرملی الکبیر واعتمدہ السبکی والاسنوی وغیرھما قال والحاصل ان عندھم فی ذلك اختلافا وقد سمعت مااعتمدہ الرملی وافتی بہ والفقیر اقول مثل قولہ فیما یتعلق باقتداء الحنفی بالشافعی والفقیہ المنصف یسلم ذلك وانارملی فقہ الحنفی÷ لامرابعد اتفاق العالمین÷ ١ھ ملخصا یعنی بہ نفسہ ورملی الشافعیۃ رحمھمااﷲ تعالٰی فتحصل ان القتداء بالمخالف المراعی فی الفرائض افضل من الافراد اذا لم یجد غیرہ والافالاقتداء بالموافق افضل [2]۔                                 

غیر کی اقتداء ممکن ہو ، اور اس کے باوجود اقتداء تنہانماز سے افضل ہے اور ایسی صورت میں جماعت کاثواب مل جائے گا۔ اسی پر رملی کبیر نے فتوٰی دیا ، سبکی اور اسنوی وغیرہما نے بھی اسی پر اعتماد کیا ہے کہا حاصل یہ ہے کہ ان (فقہاء) کے ہاں اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور میں نے وہ سن رکھا ہے جس پر رملی نے اعتماد کرتے ہوئے فتوٰی دیا اور فقیر انہی کے مطابق کہتاہے اس اقتداء میں جو حنفی کی شافعی کے ساتھ ہو اور منصف فقیہ اسے تسلیم کرے گا۔ میں رملی ہوں فقہ حنفی رکھتاہوں دوعالموں کے اتفاق کے بعد کوئی شك نہیں ہے تلخیصًا یہاں انہوں نے اناسے اپنی ذات اور رملی سے شافعی مراد لیا ہے تو خلاصہ یہ ہوا کہ اس مخالف کی اقتداء جورعایت کرتاہو فرائض میں تنہا نمازپڑھنے سے افضل ہے جبکہ اس کے علاوہ کوئی امام موجود نہ ہو ورنہ موافق ملنے کی صورت میں اس کی اقتداء افضل ہوگی۔ (ت)

اسی میں مولٰنا علی قاری علیہ رحمۃ الباری سے ہے :

لوکان لکل مذھب امام کما فی زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم اوتاخر علی مااستحسنہ عامۃ المسلمین وعمل بہ جمہور المؤمنین من اھل الحرمین والقدس ومصر و

اگرہرمذہب کاامام ہو جیسا کہ ہمارے دور میں ہے توموافق کی ابتداء افضل ہوگی خواہ وہ پہلے امامت کرے یابعد میں ، اسے ہی عامۃ المسلمین نے مستحسن جاناہے اور اہل حرمین ، بیت المقدس ، مصر اور شام کے جمہور مسلمان اسی پرعمل پیراہیں ان

الشام ولاعبرۃ بمن شذ منھم[3] ھ۔

سے جو کوئی اِکّادُکّا اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں ، ان کا کوئی اعتبارنہیں (ت)

پھرخود فرمایا :

والذی یمیل الیہ القلب عدم کراھۃ الاقتداء بالمخالف مالم یکن غیرمراع فی الفرائض وانہ لوانتظر امام مذھبہ بعید اعن الصفوف لم یکن اعراضا عن الجماعۃ للعلم بانہ یرید جماعۃ اکمل من ھذہ الجماعۃ[4]۔

جس بات کی طرف دل مائل ہورہاہے وہ یہ ہے کہ جومخالف فرائض میں رعایت کرنے والا ہو اس مخالف کی اقتداء مکروہ نہ ہوگی ، اوراگرکوئی شخص جماعت کی صفوں سے دور اپنے مذہب کے امام کاانتظار کرتاہے تویہ جماعت سے اعراض نہ ہوگا کیونکہ وہ یقینی طور پر اس جماعت سے اکمل جماعت کے انتظار میں ہے(ت)

اسی میں زیرمسئلہ امامت عبدواعرابی وغیرہما تبعاللبحر(بحر کی اتباع میں ) ہے :

یکرہ الاقتداء بھم تنزیھا فان امکن الصلاۃ خلف غیرھم فھو افضل والافالاقتداء اولی من الانفراد[5]۔

ان کی اقتداء مکروہ تنزیہی ہے اگر ان کے علاوہ کوئی امام میسر ہو تواس کی اقتداء افضل ہے ورنہ تنہا اداکرنے سے ان کی اقتدابہترہوگی۔ (ت)

اسی میں ہے :

فی المعراج قال اصحابنا لاینبغی ان یقتدی بالفاسق الافی الجمعۃ لانہ فی غیرھا یجداماما غیرہ[6]۔

معراج میں ہے کہ ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ جمعہ کے علاوہ میں فاسق کی اقتداء جائزنہیں کیونکہ جمعہ کے علاوہ نمازوں میں دوسرے امام کی اقتداء ممکن ہوتی ہے(ت)

بلکہ اسی میں ہے :

 



[1]   بحرالرائق باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۶ ، ۴۷

[2]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶

[3]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷

[4]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷

[5]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۳

[6]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴



Total Pages: 215

Go To