Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

کیدسیزدہم آنست کہ گویند عثمان ابن عفان بلکہ ابوبکروعمرنیز   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   قرآن را تحریف کردند وآیات فضائل اہلبیت اسقاط نمودند ازاں جملہ وجعلنا علیا صھرك کہ در الم نشرح بود  [1] “ ۔ ملخصًا          

تیرہواں مکریہ ہے کہ کہتے ہیں عثمان ابن عفان بلکہ ابوبکر اور عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   نے قرآن میں تحریف کردی ہے ، اور انہوں نے فضائل اہل بیت کی آیات کو ساقط کردیا ہے اور ان میں سے ایك “ الم نشرح “ میں یہ آیت تھی کہ علی کو ہم نے تیرا داماد بنایا ہے۔ (ت)

 ایك سنی نے اس پر ظرافۃً کہا ہاں اس کے بعد ایك آیت اور تھی وہ رافضیوں نے گھٹادی یعنی وعلی الروافض قھرك (رافضیوں پرتیرا قہر ہے۔ ت) تتمہ باب چہارم میں اُن اشقیا کازعم نقل کیا :

“ صحابہ بجائے من المرافق الی المرافق ساختند وبجائے ائمۃ ھی ازکی من ائمتکم ،  امۃ ھی اربی من امۃ نوشتند وعلٰی ہذا القیاس “ [2]

صحابہ نے من المرافق کی بجائے الی المرافق کردیا اور ائمۃ ھی ازکٰی من ائمتکم کی بجائے امۃ ھی اربی من امۃ کردیا  (یعنی تمہارے اماموں سے زیادہ پاکیزہ امام “ کی جگہ “ امت یہ دوسری امت سے بڑی “ کردیا) علٰی ہذاالقیاس۔ (ت)

شرح حدیث الثقلین میں ذکرکیا کلینی رافضی نے کافی میں کہ روافض کے نزدیك اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے روایت کی کسی نے امام جعفرصادق کے حضور قرآن کے کچھ لفظ ایسے پڑھے کہ لوگوں کی قراء ت میں نہ تھے امام نے فرمایا کیا ہے ان الفاظ کو نہ پڑھ جیسالوگ پڑھ رہے ہیں اسی طرح پڑھ ، یہاں تك کہ مہدی آکر قرآن کو ٹھیك ٹھیك پڑھیں [3]۔ اسی میں روایت ہے امام زین العابدین نے یہ آیت یوں پڑھی : وما ارسلنا من قبلك من رسول ولانبی ولامحدث (نہ بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہ نبی نہ محدث جس سے فرشتے باتیں کریں ) اور فرمایا مولٰی علی محدث تھے[4]۔ اسی میں روایت ہے امام جعفر صادق نے فرمایا : امۃ ھی اربی من امۃ  (یہ اُمت دوسری امت سے بڑی۔ ت) کلام اﷲ نہیں اس میں تحریف ہوئی اﷲتعالٰی نے یوں اتارا تھا

ائمۃ ھی ازکی من ائمتکم[5]

(یہ ائمہ تمہارے ائمہ سے زیادہ پاکیزہ۔ ت)

یہیں شاہ صاحب نے ان ملاعنہ کازعم نقل فرمایا کہ :

لفظ ویلك قبل از لاتحزن ان اﷲ معنا نیز ساقط کردہ اند ولفظ عن ولایۃ علی بعدازیں آیت وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَۙ(۲۴)

ویملکہ بنوامیۃ بعد خیرمن الف شھر وبعلی بن ابی طالب بعد وکفی اﷲ المؤمنین القتال واٰل محمد ازیں لفظ وسیعلم الذین ظلموا ،  اٰل محمد منقلب ینقلبون ولفظ علی بعد از ولکل قوم ھاد ،  وذکر کل ذلك ابن شھر اٰشوب المازندرانی فی کتاب المثالب لہ و علی ھذا القیاس کلمات بسیار وآیات بے شمار راکردہ اند[6] ۔ ملخصًا

“ نہ ڈر اﷲتعالٰی ہمارے ساتھ ہے “ سے پہلے لفظ “ ویلک “ (تجھے ہلاکت ہو) ساقط کردیا۔ “ ان کوکھڑا کرو ان سے سوال کیاجائے گا “ کے بعد “ عن ولایۃ علی “ (علی کی ولایت کے بارے میں ) ساقط کردیا۔ “ اوربنوامیہ بادشاہ نہیں بنیں گے “ کو “ خیرمن الف شھر “ (ہزارمہینوں سے بہتر) کے بعد بڑھادیا ہے اور “ کفی اﷲ المؤمنین القتال “ کے بعد “ بعلی بن ابی طالب “ بڑھایا ، یعنی “ اﷲ تعالٰی مومنوں کوجنگ میں کافی “ کے بعد رافضیوں نے “ علی کی وجہ سے “ بڑھادیا۔ اور “ سیعلم الذین ظلموا کے بعد “ اٰل محمد “ کالفظ انہوں نے بڑھادیا ، یعنی “ عنقریب اﷲتعالٰی اپنے علم کوظالموں کے بارے میں ظاہرفرمائے گا “ کے بعد “ آل محمد پرظلم کرنے والے “ بڑھادیا۔ اور “ ہرقوم کے لئے ہادی “ کے بعد لفظ “ علی “ بڑھادیا۔ یہ سب کچھ ابن شہرآشوب المازندرانی نے اپنی کتاب “ المثالب “ میں ذکرکیا ، اور اسی طرح انہوں نے بہت سے کلمات اور بہت سی آیات بڑھادیں۔ (ت)

نیز کلینی نے امام جعفرصادق سے روایت کی انہوں نے امۃ ھی اربی کی جگہ ائمۃ ھی ازکی پڑھا۔ راوی کہتاہے میں نے عرض کی میں آپ پرقربان جاؤں کیا ائمۃ ہے ، فرمایا ہاں خدا کی قسم ، میں نے کہا لوگ تو اربی پڑھتے ہیں ، حقارت سے ہاتھ جھٹك کرفرمایا اربی کیا۔ [7]

دہم : آپ کے زعم میں بسم اﷲ شریف کاجزءِ ہرسورت ہونا نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے روایۃً صحیح ہوچکا اور آپ تصریح کرتے ہیں کہ باتفاق مذاہب اربعہ یہاں صرف صحت روایت پرمدار ہے ، ائمہ حنفیہ کاحال توافادہ ۸ میں ظاہرہولیاکہ انہوں نے کیونکر آپ کے اس مدار کادمارنکالا ، مالکیہ سے پوچھئے وہ کیافرماتے ہیں ، ہمارے یہاں توباوصف جہرسور اخفا ہی کاحکم تھا امام مالك   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کامذہب مشہوریہ کہ فرضوں میں بسم اﷲ ہرگزپڑھے ہی نہیں ، نہ آواز سے نہ آہستہ ، روایت اباحت ضعیف ہے ، پڑھے گا تونمازمکروہ ہوگی ، ہاں نفلوں میں اختیارہے کیاانہیں اپنے شہرمبارك مدینہ طیبہ کے امام قراء ت حضرت نافع کاحال معلوم نہ تھا کہ بروایت قالون بسم اﷲ پڑھتے ہیں ، علامہ زرقانی مالکی شرح موطائے امام مالك میں فرماتے ہیں :

المشھور من مذھب مالك کراھتھا فی الفرض[8]۔

امام مالك   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کامشہور مذہب یہ ہے کہ فرضوں میں یہ مکروہ ہے۔ (ت)

مقدمہ عشماویہ علامہ عبدالباری منوفی رفاعی مالکی میں ہے :

المشھور فی البسملۃ والتعوذ الکراھۃ فی الفریضۃ دون النافلۃ وعن مالك القول بالاباحۃ [9] ۔

بسم اﷲ اور اعوذباﷲ کے بارے میں مشہورہے کہ ان کاپڑھنا فرضوں میں مکروہ ہے نفلوں میں مکروہ نہیں ، اور امام مالك سے ایك قول میں مباح ہے۔ (ت)

عمدۃ القاری میں ہے :

قال ابوعمر قال مالك لاتقرؤالبسملۃ فی الفرض سرا ولاجھرا وفی النافلۃ ان شاء فعل وان شاء ترک[10]۔

ابوعمرنے کہاکہ امام مالك نے فرمایا بسم اﷲ کوفرضوں میں نہ بلندآواز سے پڑھو نہ پست آواز سے ، اور نفلوں میں پڑھنے نہ پڑھنے کااختیارہے۔ (ت)

 



[1]   تحفہ اثنا عشریہ فصل دوم ازباب دوم کیدسیزدہم