Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے یہ خبرنہیں دی کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاکہ یہ سورۃ فاتحہ کی ایك آیۃ ہے جبکہ محض سورۃ فاتحہ سے پہلے پڑھنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی اور جب صرف حضور کاپڑھنا ہی ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی دلیل ہوتو یہ محل نزاع یعنی فاتحہ کاجز ہونے پردلیل نہیں ہوسکتی ، لہٰذا یہ روایت ہمارے صحیح ثا بت شدہ دلائل کے مقابل نہیں ہو سکتی اھ (ت)

افادہ سادسہ : جزئیت بسم اﷲ شریف کوقطعی کہنامحض جہالت اورتصریحات ائمہ کرام ، علمائے عظام ، سے غفلت ہے بلکہ جزئیت سورت درکنار جزئیت قرآن بھی خبرًا متواترنہیں ،

ولذا انکرھا الامام الاوزاعی والامام مالك و بعض مشایخنا ونسب للمتقدمین بل وقع فی التلویح وحواشی الکشاف وغیرھما انہ المشہور من مذھب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ[1]  قال القھستانی ان ھذالم یوجد[2]  قال الشامی فی ردالمحتار ای بل ھو قول ضعیف عندنا [3] ۔                                           

بسم اﷲ کے قرآن کاجز ہونے کاامام اوزاعی ، امام مالك اور ہمارے بعض مشائخ نے انکار کیاہے۔ متقدمین کی طرف منسوب بلکہ تلویح میں اور کشاف کے حواشی وغیرہ میں ہے کہ یہی امام ابوحنیفہ کامشہور مذہب ہے ، امام قہستانی نے فرمایا اس قول کاوجود نہیں ہے ، علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمایا ہے بلکہ یہ قول ضعیف ہے۔ (ت)

علامہ حسن چلپی حاشیہ تلویح میں فرماتے ہیں :

قال الجد المحقق فی تفسیر الفاتحۃ قال ابوحنیفۃ ومالك رحمھما اﷲ تعالٰی المعتبر التواتر فی قراٰنیتھا لافی نقلہ فقط وھو الحق

بزرگ محقق نے سورہ فاتحہ کی تفسیر میں فرمایا کہ امام ابوحنیفہ اور امام مالك نے فرمایا ہے بسم اﷲ کے قرآن ہونے کیلئے صرف نقل متواتر نہیں بلکہ اس کاقرآن ہونا متواتر چاہئے اور یہی معتبراور حق ہے

اذمن الظاھر ان النقل اذالم یکن علی انہ قراٰن لایفید القراٰنیۃ والتواتر فی نقل البسامل لیس علی انہ قراٰن والالم یخالف فیہ بل کتب فی المصاحف للفصل والتبرك بھا [4] الخ

کیونکہ ظاہربات ہے کہ اگر قرآن ہونا منقول نہ ہو توپھر بسم اﷲ کاقرآن ہوناثابت نہیں ہوگا ، اور بسم اﷲ کے نقل میں جوتواتر ہے وہ اس کے قرآن ہونے کا تواترنہیں ورنہ اس میں اختلاف نہ ہوتابلکہ بسم اﷲ کو قرآن میں سورتوں کے فصل اور تبرك کے لئے لکھا گیاہے الخ(ت)

ہمارے ائمہ کہ اثبات فرماتے ہیں ، بوجہ اثبات فی المصاحف وامربالتجرید ، دلیل عقلی قائم فرماتے ہیں نہ تواتر سمعی ، بالجملہ حق یہ کہ بسم اﷲ شریف کاجزء قرآن عظیم ہونا توہمارے نزدیك دلیل قطعی سے ثابت ہے مگرجز سور ہوناہرگزنقلًا عقلًا کسی طرح قطعی نہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام اسے دلیل قطعی سے باطل ، اور بعض اخباراحاد کو ، کہ موہم جزئیت واقع ہوئے ، مخالف قاطع کے سبب نامقبول ومضمحل بتاتے ہیں ، نہایت یہ کہ علمائے شافعیہ   رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی   کہ قائلین جزئیت ہیں خود منکر قطعیت ہیں ، امام نووی شافعی فرماتے ہیں : یہی صحیح ہے۔ امام عبدالعزیز بن احمدبخاری تحقیق میں فرماتے ہیں :

النقل المتواتر لمالم یثبت انھا من السورۃ لم یثبت ذلک[5]۔

جب نقل متواتر بسم اﷲ کوسورت کاجز ہوناثابت نہیں کرتا تو اس کاجز ہونا ثابت نہ ہوگا۔ (ت)

علامہ بہاری مسلم الثبوت اور علامہ بحر فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :

(لم یتواتر انھا جزء منھا) فلاتثبت الجزئیۃ اذقد سبق ان تواتر الجزئیۃ شرط لاثباتہا[6]۔

اس کاجز ہونا تواترسے ثابت نہیں ، لہٰذا جزئیت ثابت نہ ہوگی کیونکہ پہلے معلوم ہوچکا ہے جزئیت کے اثبات کے لئے جزئیت کاتواتر شرط ہے۔ (ت)

اُنہیں میں ہے :

(عارضہ القاطع) وھوعدم تواتر الجزئیۃ الدال علی عدمھا فی الواقع فیضمحل المظنون

بسم اﷲ کے جزہونے کو ایك قطعی دلیل معارض ہے اور وہ جزئیت کے تواتر کانہ ہونا جوکہ فی الواقع جزنہ ہونے

وھذا ھوالجواب عن الاخبار الاحاد التی توھم الجزئیۃ بل یجب ان تکون ھذہ الاخبار مقطوع السھو والالتواترات [7] الخ

کی دلیل ہے پس ظنی امرکمزور قرارپائے گا ، یہ جزئیت کاوہم پیدا کرنے والی اخباراحاد کاجواب ہے لہٰذا ان اخبار کا سہوقطعی ہے ورنہ اگر بسم اﷲ سورۃ کاجز ہوتی توتواتر سے ثا بت ہوتی۔ (ت)

علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :

لایثبت کونھا اٰیۃ من کل سورۃ من السور بلادلیل قطعی کمافی سائر الاٰیات واجماع الصحابۃ علی اثباتھا فی المصحف لایلزم منہ انھا اٰیۃ من کل سورۃ بل اللازم منہ مع الامر بالتجرید عن غیرالقراٰن انھا من القراٰن وبہ نقول انھا اٰیۃ منہ نزلت للفصل بین السور[8] ۔  

قطعی دلیل کے بغیر اس کا تمام سورتوں میں سے کسی کاجزہونا اور آیت ہوناثابت نہیں ہوسکتا ، جس طرح باقی آیات کے بارے میں ہے ، اور صحابہ کرام کا اس کو مصحف میں لکھنے پراجماع ہونااس بات کومستلزم نہیں کہ یہ کسی سورۃ کی آیت ہے بلکہ قرآن کوغیر سے مبرّا رکھنے کے حکم سے اتنالازم آتاہے کہ یہ بسم اﷲ قرآن کی آیت ہے جوکہ فصل کے لئے نازل کی گئی ہے۔ (ت)

علامہ بحرالفقہ زین بن نجیم مصری شرح منار پھر علامہ سید محمدآفندی شامی منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق میں فرماتے ہیں :  

ھی قراٰن لتواتر فی محلھا ولاکفر لعدم تواترکونھا فی الاوائل قراٰنا[9] ۔

بسم اﷲ قرآن ہے کیونکہ تواتر سے قرآن میں شامل چلی آرہی ہے لیکن سورتوں کی ابتدائی آیت ہونے کے انکار سے کفرلازم نہیں آئے گا کیونکہ یہ بات تواتر سے ثابت نہیں ۔

 



[1]   التوضیح والتلویح مع حاشیہ چلپی  بیان ادلہ اربعہ  مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۵۰

[2]   جامع الرموز فصل صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۵۱

[3]   ردالمحتار  مطلب قرأۃ البسملۃ بین الفاتحۃ والسورۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹۱

[4]   تتمہ حاشیہ چلپی علی التوضیح والتلویح بیان ادلہ اربعہ حاشیہ ۲۶ متعلق ص۵۰  مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۵۵

[5]   کتاب التحقیق شرح الحسامی مقدمہ الکتاب مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۶

[6]   فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت  بذیل المستصفی مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبعۃ امیریۃ بولاق مصر ۲ / ۱۴

[7]   فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت  بذیل المستصفی ،