Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

امام کے لئے سنت متوارثہ کہ زمانہ اقدس رسالت سے اب تك معہود وسط مسجد میں قیام ہے کہ صف پوری ہو توامام وسط صف میں ہو اور یہی جگہ محراب حقیقی ومتورث ہے ، محراب صوری کہ طاق نماایك خلا وسط دیوار قبلہ میں بنانا حادث ہے اُسی محراب حقیقی کی علامت ہے ، یہ علامت اگر غلطی سے غیروسط میں بنائی جائے اس کا اتباع نہ ہوگا مگرمراعات توسط ضروری ہوگی کہ اتباع سنت وانتفائے کراہت وامتثال ارشاد حدیث توسطوا الامام (امام درمیان میں کھڑا ہو۔ ت) ، جس مسجد میں مسقف حصہ نہ ہو وہاں یہ محراب صوری ہوتی ہی نہیں جیسے افضل المساجد مسجد الحرام شریف ، اور اس میں ہرمسجد کاصحن داخل ہے کہ باختلاف موسم مسجد مستقل ہے فقہائے کرام درجہ مسقفہ کو مسجد شتوی کہتے ہیں اور غیرمسقف کو مسجد صیفی جب ان کے وسط متطابق نہ ہوں تو ہرمسجد کے لئے اس کا اپنا وسط معتبر ہے پس صورت مستفسرہ میں جبکہ مسجد صیفی مسجد شتوی سے سولہ فٹ جانب راست زائد ہے توامام محراب صوری اندرونی کی محاذات سے آٹھ فٹ جانب راست ہٹ کر صحن میں کھڑاہو کہ اس مسجد کی محراب میں قیام حاصل ہو۔ درمختار میں ہے : یصف الامام ویقف وسطا[1] (امام صف بنوائے اور درمیان میں کھڑاہو۔ ت)درایہ شرح ہدایہ میں ہے :

السنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف الاتری ان المحاریب مانصبت الاوسط المساجد وھی قد عینت لمقام الامام مبسوط[2]۔

سنت یہ ہے کہ امام صف کے محاذی درمیان میں کھڑا ہو ، کیا تم نے ملاحظہ نہیں کیا  تمام محرابیں مساجد کے وسط میں بنائی گئی ہیں اور وہ مقام امام کا تعین کررہی ہیں ، مبسوط۔ (ت)

امام بکرخواہرزادہ میں ہے :

لوقام فی احد جانبی الصف یکرہ ولوکان المسجد الصیفی بجنب الشتوی وامتلاَ المسجد یقوم الامام فی جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیہ [3] الخ اثرھما ش۔  والله تعالٰی اعلم۔

اگرامام صف کی دونوں جانبوں میں سے کسی ایك طرف کھڑاہوا تو یہ مکروہ ہے ، اگرمسجد صیفی شتوی کے پہلو میں ہو اور مسجد بھری ہو تو امام دیوار کی جانب کھڑاہو تاکہ امام کی دونوں طرف لوگ برابر ہوں الخ ان دونوں عبارتوں کو شامی نے نقل کیاہے والله تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۱۸۴۷ : از اروہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنبرہ ضلع آگرہ مسؤلہ مرسلہ محمدصادق علی خاں صاحب رمضان شریف ۱۳۳۰ہجری

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے باہر درمیں جومشرق کی جانب ہوتاہے اس میں تنہا امام کوکھڑے ہوکر نماز پڑھانی کیسی ہے اور اکثرمساجد میں باہر کاصحن اندر کے صحن سے بہت نیچاہوتاہے بینوا توجروا۔

الجواب :

امام کو در میں کھڑا ہونا مکروہ ہے۔

فی رد المحتار عن معراج الدرایۃ عن

ردالمحتار میں معراج الدرایہ کے حوالے سے ہے کہ

سیدنا الامام الاعظم رضی الله تعالٰی عنہ انی اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین[4]۔

سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا میں اس بات کو مکروہ جانتاہوں کہ امام دوستونوں کے درمیان کھڑا ہو۔ (ت)

پھرامام ومقتدیان کادرجہ بدلا ہونا کہ امام درجہ مسقف میں ہے اور سب مقتدی صحن میں ، یہ دوسری کراہت ہے [5] کما فی جامع الرموز(جیسا کہ جامع الرموزمیں ہے۔ ت)پھر اگر در کی کرسی صحن سے بقدر امتیاز بلند ہوئی تو یہ تیسری کراہت ہے[6]  کما فی الدرالمختار والتفصیل فی فتاوٰنا (جیسا کہ درمختار میں ہے اور اس کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۸۴۸ :          ازڈھاکہ بنگالہ                             ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طالب علم پرجوطلب علم دین کرتاہے جماعت نمازپنجگانہ واجب ہے یانہیں ؟ بیّنوا تؤجروا۔

الجواب :

علماء نے طالب ومشتغل علم کو احیانًا ترك جماعت میں معذور رکھا ہے بچند شرائط ، اس کا اشتغال خاص علم فقہ سے ہو کہ مقصود اصلی ہے نہ نحو وصرف ولغت ومعانی وبیان وبدیع وغیرہا اگرچہ بوجہ آلیت داخل علم دین ہیں ، اور وہ اشتغال بدرجہ استغراق ہو جس کے سبب فرصت نہ پائے نہ یہ کہ اشتغال فقہ کابہانہ کرکے جماعت تو ترك کرے اور اپناوقت بطالت وفضولیات میں گزارے جیسا کہ بہت طلبائے زمانہ کا انداز ہے ، یاحالت ایسی ہو کہ کسی وقت اہتمام جماعت کے سبب اس کے کام میں حرج واقع ہو جس کا بندوبست نہ کرسکے نہ دوسرا وقت اس کا بدل سکتاہو مثلًا ایك مجمع طلبہ کے ساتھ فقہ کادرس رکھتاہے اگر اس جماعت کوجائے یہ جماعت نہ پائے ، پھر بایں ہمہ کسل نفس کے لئے اس مسئلہ کو حیلہ بناکر ترك جماعت پرمداومت نہ کرے بلکہ احیانا واقع ہو ورنہ معذور نہ ہوگا بلکہ مستحق تعزیر ٹھہرے گا ، درمختار میں دربارہ اعذار ترك جماعت لکھا۔

کذا اشتغالہ بالفقہ لابغیرہ کذاجزم بہ الباقانی تبعا للبھنسی ای الااذاواظب

اسی طرح جوطالبعلم فقہ میں مشغول ہو نہ کہ کسی دوسرے فن میں ، اس پر بہنسی کی اتباع میں باقانی نے جزم کیاہے مگر

تکاسلا فلایعذرویعزر[7]۔

اس صورت میں جب وہ سستی کی وجہ سے دوام اختیار کرے تو وہ معذور نہ ہوگا اور اس پر تعزیر ہوگی۔ (ت)

نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے :

(وتکرار فقہ) لانحو ولغۃ (بجماعۃ تفوتہ) ولم یداوم علی ترکھا[8]۔

(اور تکرار فقہ) نہ کہ نحو ولغت کا (جماعت کے ساتھ جو فوت ہوجائے)اور نہ جماعت کے ترك پردوام اختیار کرنے والا ہو۔ (ت)

 



[1]    درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳

[2]   ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰

[3]   ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰

[4]   ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸

[5]   جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۹۴ 

[6]   درمختار ، باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۲

[7]   درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲