Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

طالبین کے لئے مخصوص نہیں ، یہ بہترین طریقہ اختصار والاہے ، اس کا طریقہ ایسا ہے جوخود لفظ (صلٰوۃ الاسرار) کی شرح جیسا ہے اور اس عاجز بندے کاپسندیدہ ہےکہ جس شخص کوکوئی حاجت درپیش ہوخواہ وہ دینی ہو یا دنیوی ، تووہ مغرب کی نماز کے بعد سنتوں کے ساتھ دورکعت “ صلٰوۃ الاسرار “ کی نیت سے اﷲ تعالٰی کی قربت اور حضور غوث اعظم کی روح کو ہدیہ کے لئے پڑھے ، اور اگر اس کے لئے نیاوضوکرے تویہ نورہوگا کیونکہ حضور   عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے ایك نابینا کو یہ فرمایاتھا ، ورنہ نیاوضو ضروری نہیں ، مجھے تویہ پسند ہے کہ صلٰوۃالاسرار پڑھنے سے پہلے کوئی صدقہ کرے کیونکہ یہ عمل کامیابی جلدی لاتاہے اور مصیبتوں کے دروازوں کو خوب بند کرتاہے جبکہ حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  سے مناجات کیلئے

 

عــــــہ الافضل الاسرار بنص القراٰن وھی

صدقہ میں افضل یہ ہے کہ پوشیدہ دے کیونکہ قرآن کا(باقی برصفحہ آیندہ)

الانجاح واسد لابواب البلاء وقدامر اﷲ تعالٰی من یناجی رسولہ ان یقدموا بین یدی نجوٰھم صدقۃ ،  فنجوی اﷲ احق مع ان ھٰذہ الصلٰوۃ تشتمل علی نجوی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایضًا ،  والوجوب وان نسخ رحمۃ من اﷲ تعالٰی فلامریۃ فی الاستحباب ھذا یقرأ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ فھو احسن حتی اذا سلم حمد اﷲ تعالٰی واثنی علیہ بماھو اھلہ ،  والافضل الصیغ عـــــہ الواردۃ عن النبی صلی اﷲ                

پہلے صدقہ دینے کو اﷲ تعالٰی نے حکم دیا ، تو اﷲ تعالٰی سے مناجات میں اور زیادہ بہترہے باوجودیکہ اس نماز میں حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  سے بھی مناجات موجود ہے ، اگرچہ اس صدقہ کاوجوب منسوخ ہوچکا ہے جس میں اُمت کی آسانی ہے مگراستحباب کے طور پر جوازمیں کوئی شك نہیں ہے ، اس نماز میں فاتحہ کے بعد کوئی آسان سورت پڑھے بہترہے کہ سورہ اخلاص گیارہ بارپڑھے تو بہت اچھاہے ، نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اﷲتعالٰی کی حمدوثنا اس کی شان کے مطابق بجالائے اوراس میں بہتر وہ الفاظ ہیں جو حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

تقی مصارع السوء کمافی الحدیث وفضائلھا اکثرمن ان تحصی والاحسن ان یتصدق بزوجین بفضل ذلك ورد حدیث وفلسان زوجان وخبزان زوجان ومن لم یجد فودعتان زوجان والودعۃ خرمھرہ ۱۲(م)

عـــــہ کقولہ اللھم لك الحمد حمد ایوافی نعمك ویکافیئ مزید کرمك وقولہ اللھم لك الحمد انت قیم السمٰوٰت والارض ومن فیھن ولك الحمد انت ملك السمٰوٰت والارض ومن فیھن ولك الحمد انت نورالسمٰوٰت

یہ حکم ہے ، اور یہی برے احتمال سے بچاؤ ہے ، جیسا کہ حدیث میں بیان کیاگیاہے اور اس میں بہت زیادہ فضیلت ہے اور بہتریہ ہے کہ صدقہ میں جو دے ، دو کی تعداد دے ، دو۲پیسے ، دو۲روٹیاں ، اگراور کچھ نہ پائے توکم ازکم دوخرمہرے دے۱۲(ت)

اور جیسے کہ حضور   عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  سے منقول ہے اے اﷲ! تیرے لئے ایسی حمدجوتیری نعمتوں کے برابرہو اور مزید کرم کوکفایت کرے ، اور حضور کاارشاد کہ تیری حمد کہ توآسمانوں اور زمین کا نگران ہے اور تیری حمد کہ توآسمانوں اور زمین اور ان میں ہرچیز کامالك ہے ، اور تیری حمد کہ توزمین اور آسمانوں اور ان میں (باقی اگلے صفحہ پر)

صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ لایقدر احدان یحمد الاحدکحمد احمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن احسنھا اللھم ربنالك الحمد حمد اکثیر اطیبا مبٰرکا فیہ کما تحب ربنا وترضی ملأ السمٰوٰت وملأ الارض وملأ ماشئت من شیئ بعد ،  ومنھا اللھم لك الحمد حمدا دائما مع دوامك ولك الحمد حمدا خالدا مع خلودك ولك الحمد حمد الا منتھی لہ دون مشیتك ولك الحمد حمدًا دائمًا لایرید قائلہ الارضاك ولك الحمد حمدًا عند کل طرفۃ عین وتنفس کل نفس ،                                              

بطور حمدوثنا پڑھے ہیں کیونکہ حضورعلیہ السلام سے بڑھ کر بہترحمد اور اچھی ثنا کوئی نہیں کرسکتا ، حضور   عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  کی بیان کردہ بہترین محامد میں ایك یہ ہے : اے اﷲ! ہمارے رب! تیرے لئے کثیر ، طیب ، مبارك حمد جیسے تجھے پسند ہے اور تو راضی ہے ، زمینیں اور آسمان اور ہروہ چیز بھرکر جس کوتوچاہے اور ان میں سے ایك اوریہ ہے : اے اﷲ! تیرے لئے دائمی حمد جیسا کہ تیرا دوام ہے اور تیری حمد جوباقی رہنے والی ہو تیری بقاء کے ساتھ ، تیری ایسی حمد جوتیری مشیت کے بغیرختم نہ ہو اور ایسی دائمی حمد جس کو بیان کرنے والا صرف رضاکا طالب ہو ، اور تیرے لئے ایسی حمد جوآنکھ کی ہرپلک

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

والارض ومن فیھن وملك الحمد وقولہ اللھم لك الحمد فی بلائك وصنیعك الی خلقك ولك الحمد فی بلائك وصنیعك الی اھل بیوتنا ولك الحمد فی بلائك وصنیعك الی انفسنا خاصۃ ولك الحمد بما ھدیتنا ولك الحمد بما اکرمتنا ولك الحمد بما سترتنا ولك الحمد بالقراٰن ولك الحمد بالاھل والمال ولك الحمد بالمعافاۃ ولك الحمد حتی ترضی ولك الحمد اذا رضیت یااھل التقوی واھل المغفرۃ الی غیرذلك من صیغ کثیرۃ۱۲ منہ(م)                                            

ہرچیز کانورہے اور مالك حمدہے۔ اور آپ کایہ قول : اے اﷲ! تیری مخلوق کے لئے تیرے امتحان اور تیرے حکمت والے عمل پرتیری حمد۔ ہمارے گھروالوں کے لئے امتحان اور تیری کارسازی پرحمد۔ اور خاص ہماری جانوں میں تیرے امتحان وکارسازی پرحمد۔ ہمیں مستورکرنے پرتیری حمد ، قرآن سے تیری حمد اہل ومال دینے پر ، عافیت دینے پر تیری حمد ، حتی کہ توراضی ہوجائے ، تیرے لئے حمد ہے جب توراضی ہو ، اے تقوٰی اور مغفرت والو۔ اور ان جیسے دیگرالفاظ کثیرہ سے حمد پڑھے۱۲منہ (ت)

ومنھا اللھم لك الحمد کما ینبغی لجلال وجہك وعظیم سلطٰنك ومنھا اللھم لك الحمد شکرًا ولك المن فضلا ،  ومنھا اللھم لك الحمد کما تقول وخیرا ممانقول الی غیر ذلك مما وردت بہ الاحادیث فلیجمعھا اولیکتف ببعضھا ،  ویعجبنی ان یختمھا بقولہ اللھم لااحصی ثناء علیك انت کما اثنیت علی نفسك فانہ من اجمع حمد واوسع ثناء علیہ سبحنہ وتعالٰی ومن لم یحسن من ذلك شیأ فلیقل الحمد ﷲ ثلثا اولیقرء الفاتحۃ اواٰیۃ الکرسی بنیۃ الثناء فلایجدن ثناء افضل منھا ، ثم یصلی ویسلم علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احدی عشرۃ مرۃ اذلایستجاب دعاء الابالصلٰوۃ علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وامر بالسلام احرازاللفضلین واحتراز اعن الخلاف فان من العلماء من کرہ الافراد ثم العبد یختار ھھنا الصلٰوۃ الغوثیۃ المرویۃ عن سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ ،  وھی اللھم صل علی (سیدنا عـــہ ومولٰنا) محمد                           

اورہرسانس کے وقت ہو ، اور ایك اور یہ ہے : اے اﷲ! تیرے لئے تیری ذات کے جلال اور تیری عظیم سلطنت کے شایان شایان حمد ہو ، او ر ایك یہ ہے : اے اﷲ ! شکربجالانے کے لئے تیری حمد اور تیرااحسان وفضل ہے اور ایك یہ ہے اے تیرے لئے وہ حمد جوتونے فرمائی اور وہ بہتر جوہم کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگرجواحادیث میں مروی ہیں سب کو یابعض کو پڑھے۔ اور مجھے توپسند ہے کہ آخر میں یہ حمد پڑھے : اے اﷲ! میں تیری ثناء کوبجانہیں لاسکتا جس طرح تونے خود اپنی ثنائی فرمائی ہے کیونکہ یہ حمد بہت جامع اور وسیع ہے۔ اور اگرکسی مذکورہ محامد میں سے کوئی حمد یادنہ ہو تو تین بار الحمد ﷲ پڑھ لے یاسورہ فاتحہ یاآیۃ الکرسی حمدوثنا کی نیت سے پڑھے ، ان سے بہترثناء نہ پاؤگے ، اور پھر آخر میں نبی  پاك   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  پردرودوسلام گیارہ مرتبہ پڑھے کیونکہ درود شریف کے بغیر کوئی دعاقبول نہیں ہوتی اور سلام کابھی حکم ہے تاکہ دونوں کی فضیلت ہوجائے۔ اور بعض علماء نے دونوں میں سے ایك پراکتفاء مکروہ قراردیاہے اس لئے دونوں کوملاکر پڑھنے سے اس خلاف سے بچے گا۔ پھرمجھ بندہ کو یہاں درودغوثیہ جو آپ سے مروی ہے

 

عــــہ اعلم ان لفظہ سیدنا ومولانا من زیادات للفقیرعلی مابلغنا عن مشایخنا وقدزاد امیر المؤمنین عمروابنہ عبداﷲ

سیدنا ومولانا کالفظ اس فقیر نے بڑھایاہے ، یہ لفظ ہمارے مشائخ کانہیں ، یہ اضافہ جائز ہے جیسا کہ امیرالمومنین عمرفاروق اور ان کے صاحبزادے عبداﷲ (باقی برصفحہ آیندہ)

معدن الجود والکرم واٰلہ وسلم والعبد یقولھا ھکذا اللھم صل علی سیدنا ومولٰنا محمد معدن الجود والکرم واٰلہ الکرام وابنہ الکریم وامتہ الکریمۃ یااکرم الاکرمین وبارك وسلم ثم لیتوجہ بقلبہ الی المدینۃ الطیبۃ ولیقل احدی عشرۃ مرۃ یارسول اﷲ یانبی اﷲ اغثنی واَمْدِدْنی فی قضاء حاجتی یاقاضی الحاجات ،  

ثم یخطو الٰی جھت العراق وھو من بلادنا بین الشمال والمغرب افادہ سیدی حمزۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وھی ایضا جھۃ المدینۃ المنورۃ و کربلاء والعبد الضعیف قداستخرج جھۃ حضرۃ بغداد من بلدتنا بریلی بالمؤامرۃ البرھانیۃ علی ان عرضہالحصہ ك عــ١ــہ۱ وطولھا مد عــ٢ــہ۲ لح وعرض بریلی

 



Total Pages: 215

Go To