Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

امام اعظم کے بارے میں جو امام غزالی کی طرف منسوب ہے اس کا رَد خود امام غزالی کاذکر کردہ وہ کلام ہے جو انہوں نے تواتر سے مروی “ احیاء العلوم “ میں ائمہ اربعہ کے تراجم میں بیان کیاہے اور انہوں نے وہاں فرمایا کہ بیشك امام ابوحنیفہ بھی عابد ، زاہد ، عارف باﷲ ، اﷲ تعالٰی سے ڈرنے والے ، اپنے علم کی بناپر اﷲتعالٰی کی رضا کے طالب تھے الخ ۱ھ درمختار(ت)

یعنی امام حجۃ الاسلام احیاء العلوم میں فرماتے ہیں ابوحنیفہ خدا کی قسم عابد زاہد عارف باﷲ تھے اﷲتعالٰی سے ڈرنے والے اور اپنے علم سے وجہ اﷲ کاارادہ رکھنے والے۱۲ بے دلیل کافرق کھل جاتا واﷲ الحجۃ السامیۃ۔

اور اس  نماز کو قرآن وحدیث کے خلاف بتانا محض بہتان وافترا ، ہرگزہرگز قرآن وحدیث میں کہیں اس کی ممانعت نہیں ، نہ مخالف کوئی آیت یاحدیث اپنے دعوے میں پیش کرسکا ، ہرجگہ صرف زبانی ادّعا سے کام لیامگر یہ وہی جہالتِ قبیحہ وسفاہت فضیحہ ہے جس میں فرقہ جدیدہ وطائفہ حادثہ قدیم سے مبتلا یعنی قرآن وحدیث میں جس امرکاذکرنہیں وہ ممنوع ہے اگرچہ اس کی ممانعت بھی قرآن وحدیث میں نہ ہو ، ان ذی ہوشوں کے نزدیك امرونہی میں کوئی واسطہ ہی نہیں اور عدم ذکرذکرِعدم ہے پھر خداجانے سکوت کس شے کانام ہے! ترمذی و ابن ماجہ و حاکم سیدنا سلمان فارسی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی ، حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

الحلال ما احل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرّم اﷲ فی کتابہ وماسکت فھومماعفاعنہ[1]۔

حلال وہ ہے جو خدا نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جو خدانے اپنی کتاب میں حرام بتایا اور جس سے سکوت فرمایا وہ عفو ہے  یعنی اس میں کچھ مواخذہ نہیں ،

اور اس کی تصدیق قرآن عظیم میں موجود کہ فرماتاہے جل ذکرہ :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(۱۰۱) [2]

اے ایمان والو! وہ باتیں نہ پوچھو کہ تم پر کھول دی جائیں تو تمہیں برالگے اور اگرقرآن اُترتے وقت پوچھوگے توتم پرظاہرکردی جائیں گے اﷲ نے اُن سے معافی فرمائی ہے اور اﷲ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے۔

 

ف : یہاں سے اعلٰیحضرت علیہ الرحمۃ ایك فائدہ نفیسہ کابیان شروع کررہے ہیں جو چاراحادیث اور ایك آیت قرآنی پرمشتمل ہے جس سے بہت سی فروعات مثل عیدمیلادالنبی ، گیارہویں شریف ، تیجا ، دسواں ، چہلم اور صلٰوۃ الاسرار وغیرہ کے جواز کاثبوت ملتاہے۔ نذیراحمدسعیدی بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ ان کا حکم دیتے تو فرض ہوجاتیں اور بہت ایسی کہ منع کرتے تو حرام ہوجاتیں پھر جوانہیں چھوڑتا یاکرتاگناہ میں پڑتا ، اس مالك مہربان نے اپنے احکام میں اُن کا ذکرنہ فرمایا یہ کچھ بھول کر نہیں کہ وہ توبھول اورہرعیب سے پاك ہے بلکہ ہمیں پرمہربانی کے لئے کہ یہ مشقت میں نہ پڑیں تومسلمانوں کوفرماتاہے تم بھی ان کی چھیڑنہ کرو کہ پوچھوگے حکم مناسب دیاجائے گا اور تمہیں کودقّت ہوگی۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ جن باتوں کا ذکرقرآن وحدیث میں نہ نکلے وہ ہرگز منع نہیں بلکہ اﷲ کی معافی میں ہیں ، دارقطنی ابوثعلبہ خشنی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی سیدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :

ان اﷲ تعالٰی فرض فرائض فلاتضیعوھا ،  وحرم حرمات فلاتعتدوھا ،  وسکت عن اشیئاء من غیرنسیان فلاتبحثوا عنہا[3]۔

بیشك اﷲ تعالٰی نے کچھ باتیں فرض کیں انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو اور کچھ حرام فرمائیں اُن کی حرمت نہ توڑو ار کچھ حدیں باندھیں اُن سے آگے نہ بڑھو اور کچھ چیزوں سے بے بھولے سکوت فرمایا اُن میں کاوش نہ کرو۔

احمد و بخاری و مسلم و نسائی و ابن ماجہ حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی سیدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

ذرونی ماترکتکم فانما ھلك من کان قبلکم بکثرۃ سؤالھم واختلافھم علی انبیائھم فاذا نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ واذا امرتکم بامرفأتوا منہ ما استطعتم[4] ۔

یعنی جس بات میں میں نے تم پرتضییق نہ کی اُس میں مجھ سے تفتیش نہ کرو کہ اگلی اُمتیں اسی بلاسے ہلاك ہوئیں ، میں جس بات کومنع کروں اس سے بچو اور جس کاحکم دوں اسے بقدر قدرت بجالاؤ۔

احمد ، بخاری ، مسلم سیّدنا سعدبن ابی وقاص   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی سیّدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیئ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ[5]۔

بیشك مسلمانوں کے بارے میں اُن کا بڑاگناہگار وہ ہے جو ایسی چیز سے سوال کرے کہ حرام نہ تھی اُس کے سوال کے بعد حرام کردی گئی۔

یہ احادیث باعلی ندامنادی کہ قرآن وحدیث میں جن باتوں کاذکرنہیں نہ ان کی اجازت ثابت نہ ممانعت وارد ، اصل جواز پرہیں ورنہ اگرجس چیز کاکتاب وسنت میں ذکرنہ ہو مطلقًا ممنوع ونادرست ٹھہرے تواس سوال کرنے والے کی کیاخطا ، اس کے بغیر پوچھے بھی وہ چیز ناجائزہی رہتی۔ بالجملہ یہ قاعدہ نفیسہ ہمیشہ یادرکھنے کاہے کہ قرآن وحدیث سے جس چیز کی بھلائی یابرائی ثابت ہو وہ بھلی یابری ہے ور جس کی نسبت کچھ ثبوت نہ ہو وہ معاف وجائز ومباح ورَوا اور اس کو حرام وگناہ ونادرست وممنوع کہناشریعت مطہرہ پرافترا۔ قال ربنا تبارك وتعالٰی

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶) [6]

ہمارے رب تعالٰی نے فرمایا : اپنی زبانوں کامن گھڑت جھوٹ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے ، اﷲتعالٰی پر جھوٹ افتراء کرتے ہو ، بیشك جو لوگ اﷲ تعالٰی پر افتراء کریں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ (ت)

اسی طرح اس نماز کو طریقہ خلفائے راشدین وصحابہ کرام کے خلاف کہنا بھی اسی سفاہت قدیمہ پرمبنی کہ جو فعل اُن سے منقول نہ ہو عمومًا ان کے نزدیك ممنوع تھا حالانکہ عدم ثبوت فعل وثبوت عدم جواز میں زمین وآسمان کافرق ہے ، امام علامہ احمد بن محمد قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ و منح محمدیہ میں فرماتے ہیں :

الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع[7]۔

کرناتوجواز کی دلیل ہے اور نہ کرنا ممانعت کی دلیل نہیں ۔

رافضیوں نے ا س طائفہ جدیدہ کی طرح ایك استدلال کیاتھا اس کے جواب میں شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثناء عشریہ میں لکھتے ہیں :

نکردن چیزے دیگرست ومنع فرمودن چیزے دیگراست[8] ملخصًا ۔

نہ کرنا اور چیزہے اور منع کرنا اور چیزہے ملخصًا(ت)

امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں بعد بیان اس امر کے کہ اذان مغرب کے بعد فرضوں سے پہلے دو۲رکعت نفل پڑھنانہ نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے ثابت ہے نہ صحابہ سے۔ فرماتے ہیں :

 



[1]   جامع الترمذی  ابواب اللباس ، باب ماجاء فی لبس الفراءمطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی  ۱ / ۲۰۶ ،   سنن ابن ماجہ باب اکل الجبن والسمن  مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۲۴۹

[2]   القرآن   ۵ / ۱۰۱

[3]   سنن الدارقطنی باب الرضاع  مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۴ / ۱۸۴

[4]   صحیح مسلم باب فرض الححج فی العمر ، حدیث ۴۱۲ مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۴۳۲ ، سنن ابن ماجہ باب اتباع سنت رسول اﷲ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲ ، مسند احمدبن حنبل ازمسند ابوہریرہ مطبوعہ دارالفکر بیروت