Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

سوم :  اطلاق وعموم سے استدلال نہ کوئی قیاس ہے نہ مجتہد سے خاص کمابینہ خاتم المحققین سیدنا الجد قدس سرہ الامجد فی کتابہ المستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد (جیسا کہ ہمارے والدگرامی خاتم المحققین قدس سرہ نے اپنی مبارك کتاب “ اصول الرشاد لقمع مبافی الفساد “ میں بیان کیاہے۔ ت) مثلا اس اخیرزمانہ فتن میں طرح طرح کے نشے ، قسم قسم کے باجے ایسے پیدا ہوئے جن کی حرمت کاذکر نہ قرآن مجید میں ہے نہ حدیث شریف میں نہ اقوال ائمہ میں ، مگر انہیں حرام ہی کہاجائے گا کہ وہ کل مسکر حرام (ہرنشہ آورشے حرام ہے۔ ت) کے عموم اور یہ حدیث یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف[1]۔ (وہ ریشم ، شراب اور مزامیر کوحلال سمجھیں گے۔ ) وکریمہ  وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ [2]۔ (اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں ۔ ت)کے شمول واطلاق میں داخل ، اب اگرکوئی جاہل کہہ اُٹھے کہ یہ توتم قیاس کرتے ہو احادیث میں کہیں تصریح نہیں پائی جاتی نہ ہمارے امام صاحب کے تابعین سے ، ہماراتمہارا قیاس مسائل فقہیہ دینیہ میں بےکار ہے تو اس سے یہی کہنا چاہئے کہ اے ذی ہوش! یہ قیاس نہیں بلکہ جب ایك مطلق یا عام احادیث وکلمات علمائے کرام میں وارد ہے تو اس کے دائرے میں جوکچھ داخل سب کووہ حکم محیط و شامل ، توثابت ہوا کہ زید کا “ ضروری سوال “ میں خود ہی یہ سوال قائم کرنا کہ “ جب قنوت عندالنازلہ ثابت اور جائز ہوتی توہرقسم کی بلااور مصیبت پرجائز ہونی چاہئے “ اور اس کایہ مہمل جواب دینا کہ “ ہماراتمہارا قیاس مسائل فقہیہ دینیہ میں بے کار ہے احادیث میں کہیں تصریح نہیں پائی جاتی نہ ہمارے امام صاحب کے توابعین کے اقوال سے “ صریح نادانی ہے۔

چہارم :  اگرصرف یہی اطلاق وعموم احادیث واقوال ائمہ ہوتے تو ثابت کہنے کے لئے کافی تھے ایسے مسئلے کوہرگز کذب وبہتان نہیں کہہ سکتے ، دوسرے دلائل کی نظر سے راجح اور ارجح کااختلاف دوسری بات ہے مگر آپ اوپرسن چکے کہ طاعون وو باء قحط وغیرہاکے لئے قنوت کی صاف صریح تصریحیں امام اجل ابوزکریانووی شارح صحیح مسلم شریف (جن کی جلالت شان پرعلمائے جمیع مذاہب حقہ کااجماع ہے) اور امام جلیل شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوٰۃ وامام شہاب الحق والدین احمد بن حجرمکی ہاشمی و علامہ عبداللطیف بن عبدالعزیز شہیربابن فرشتہ از اجلہ علمائے حنفیہ ومحقق فقیہ زین بن نجیم مصری عمدہ حنفیہو مولٰیناعلی محمدسلطان محمدہروی قاری مکی حنفی و فاضل جلیل سیداحمدمصری طحطاوی حنفی و عالم نبیل سیدمحمد آفندی شامی حنفی نے فرمائیں اور امام ابن حجرمکی نے اسے امام مجتہد عالم قریش سیدنا امام ابوعبداﷲ محمد بن ادریس شافعی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے نقل کیا تو مصنف “ ضروری سوال “ کاقول کہ “ طاعون یاوبا کے لئے قنوت ثابت نہیں وہ ایك قسم کاکذب اوربہتان ہے اگرخطاء ً ایساکلمہ بے موقع کسی سے سرزد ہوجائے جناب الٰہی میں توبہ واستغفار جلد کرلے “ محض کذب وبہتان اور اب ائمہ کرام وعلمائے اعلام کی جناب میں گستاخی وتوہین شان ہے ، زیدپرلازم ہے کہ اپنی اس خطا اور بے موقع کلمے سے جناب الٰہی میں توبہ واستغفار کرے اگربفرض باطل یہ قنوت نوازل صرف امام شافعی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا مذہب ہوتا اور ہمارے ائمہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   بالاتفاق اس سے انکار فرماتے تو غایت یہ کہ مسئلہ ائمہ مجتہدین کا  اختلافیہ اور ہمارے مذہب کے خلاف ہوتا ، اسے کذب وبہتان کہنا اس حالت میں بھی حلال نہ تھا نہ کہ اس صورت میں کہ خود ہمارے ائمہ وعلماء کے بھی اطلاق وعموم ونصوص سب کچھ موجود ، اور اگر اسے خصوص نقل فعل کامنکر ٹھہرائیے تو اول تویہاں اس کامحل نہیں کہ اس خصوص کامدعی کون تھا جس کے رَد میں زید یہ الفاظ لکھتا۔

ثانیا اوپرواضح ہوا کہ زید نے اس تحریر “ ضروری سوال “ میں نہ ہمارے متون مذہب کے ظاہر پر عمل کیانہ ہمارے شارحین اعلام کا قول لیا بلکہ اپنی طرف سے ایك نیافتوٰی گھڑدیا۔

بلی قد وقع مایوھمہ فی کلام بعض ائمۃ الحدیث فی تقریر مذھب الامام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ و فی کلام بعض ائمتنا فی توجیہ مذھب بعض الصحابۃ رضوان اﷲ تعالٰی علیھم ثم لم یعتمدہ ولاجعلہ مذھب علمائنا ولاذکرہ فی تقریر کلامھم مع انہ قد اثر عنہ التعمیم صریحا فیحتمل ان یکون القصر ھھنا وقع وفاقا لاحصرا وایا ماکان فجعل ھذا مذھبا لنالاسلف لزید فیہ فیما اعلم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

ہاں مذہب امام احمد بن حنبل   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی تفصیل کرتے ہوئے بعض ائمہ حدیث کے کلام اور بعض صحابہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کے مذہب کی توجیہ کرتے ہوئے ہمارے بعض ائمہ کے کلام میں کچھ ایسی گفتگو واقع ہوئی ہے جو ایساوہم پیداکرتی ہے پھر اس پرکسی نے اعتماد نہیں کیا نہ ہمارے علماء کامذہب ہے اور نہ ہی یہ ان کے کلام میں مذکورہے باوجودیکہ ان کی عموم پرتصریح منقول ہے لہٰذا ممکن ہے کہ یہاں قصراتفاقاً واقع ہوگیا ہو اور حضرِ مقصود نہ ہو ، جوبھی ہوا اسے ہمارامذہب بنادیاگیا میرے علم کے مطابق اس میں زید کے لئے کوئی فائدہ نہیں ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)

 “ ضروری سوال “ کے اظہار خطا کو اسی قدربس تھا ، بے حاجت شرعیہ ناقصوں قاصروں کی جہالتوں سفاہتوں کاشمار اپناشیوہ نہیں لقولہ تعالٰی وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)  (اﷲ تعالٰی کاارشاد گرامی ہے کہ جاہلوں سے روگردانی کیجئے۔ ت) مگرامور متعلقہ بدین میں بعد سوال سائل بیان امرحق ضروری ، اور یہاں مصلحت دینی اس کی طرف داعی کہ جب ایك ایسابے علم وکم فہم ومشکوك ومتہم شخص اپنے آپ کو مفتی و مصنف بنائے ہوئے ہے اور بعض عوام اسے عالم وقابل اعتماد سمجھتے ہیں تو اس کے پرجہل ونااہل ہونے کا آشکارا کرنا ان شاء اﷲ دین عوام کو نافع اور ضلالت وجہالت میں پڑنے کادافع ہوگا وباﷲ التوفیق زید کی ترکیب وبندش الفاظ وانشا و املا میں اگرچہ خطاہائے فاحشہ موجود ہیں مگر ان سے تعرض داب محصلین نہیں  لہٰذا انہیں چھوڑکر اس کے باقی کثیر وبسیار اغلاط وجہالت سے صرف بعض کااظہار کیاجاتا ہے :

جہالت ۱ : حدیث مذکور ابن حبان کہ زید کے دعوٰی تخصیص کاصاف رَد تھی براہ نادانی اپنی دلیل بناکر لکھی اور اس پرفائدہ یہ جمادیا کہ “ یہاں سے سمجھاگیا کہ کفار ظلم کریں تونصرت چاہئے طاعون کے لئے قنوت ثابت نہیں “ عقلمندسے پوچھاجائے کہ اس حدیث میں ظلم کفار کی تخصیص کہاں ہے اور اس کے ذکر سے ، سوا ضرر کے تجھے کیا فائدہ حاصل ہوا۔

جہالت۲ : قنوت فجر کے بارے میں ہمارے مشائخ کرام تصریح فرماتے ہیں کہ منسوخ ہے ولہٰذا حکم دیتے ہیں کہ حنفی اگرفجر میں شافعی کی اقتداکرے قنوت میں اس کا اتباع نہ کرے کہ منسوخ میں پیروی نہیں ، اس قدر توکلمات علماء متفق ہیں ، ہاں محل نظریہ ہے کہ یہاں عموم نسخ ہے یانسخ عموم۔ عموم نسخ یہ کہ نازلہ و بے نازلہ کسی حال میں قنوت فجر کی مشروعیت باقی نہیں عموماً نسخ ہوگیا ، اور نسخ عموم یہ کہ نازلہ وبے نازلہ ہرحال میں عموماً قنوت کاپڑھاجانا یہ منسوخ ہوا صرف بحالت نازلہ باقی رہا ، نسخ عموم پرتوبہت احادیث صحیحہ دلیل ہیں جن کی تفصیل امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیرمیں افادہ فرمائی اور مسند احمد و صحیح مسلم و سنن نسائی و ابن ماجہ میں انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے :

ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قنت شھرا یدعو علی احیاء من احیاء العرب ثم ترکہ[3]  زادابن ماجۃ فی صلٰوۃ الصبح[4] ۔  وھو عند البخاری فی مغازی بزیادۃ بعدالرکوع وترك ثم ترکہ[5]۔

رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ایك مہینے تك نمازصبح میں قنوت پڑھی ، عرب کے کچھ قبیلوں پر دعائے ہلاکت فرماتے تھے پھرچھوڑدی۔ ابن ماجہ نے یہ اضافہ کیاکہ نمازصبح میں قنوت پڑھتے تھے۔ بخاری کے مغازی میں یہ اضافہ ہے کہ قنوت رکوع کے بعد تھی “ پھراسے ترك کردیا “ کے الفاظ کو انہوں نے ترك کردیا۔ (ت)

اور صحاح ستہ میں بضمن حدیث ابی ہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہے کہ ترك کا سبب نزول آیہ کریمہ

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ(۱۲۸) [6]

(آپ کے ہاتھ میں معاملہ نہیں چاہے تو

اﷲتعالٰی ان کی توبہ قبول فرمائے یا انہیں عذاب دے کیونکہ یہ ظالم ہیں ۔ ت) ،

 



[1]   صحیح بخاری کتاب الاشریہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۳۷

[2]   القرآن الکریم ۳۱ / ۶

[3]   صحیح مسلم باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۷

[4]   سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۸۹

[5]   صحیح بخاری باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۷۔ ۵۸۶

[6]   القرآن  ۳ / ۱۲۸



Total Pages: 215

Go To