Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

اقول : شاید اس سے ان کی مرادخاتمہ سورۃ کے یہ الفاظ ہوں کہ اﷲتعالٰی نے فرمایا : “ وہ جانتاہے اے مسلمانو! تم سے رات کاشمارنہ ہوسکے گا تو اس نے اپنے کرم سے تم پررجوع فرمایا “ اور اﷲ تعالٰی کایہ فرمان : “ وہ جانتاہے کہ عنقریب تم میں کچھ بیمارہوں گے اور کچھ زمین پرسفر کریں گے ، اﷲ کا فضل تلاش کریں گے “ کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہاں خطاب اُمت کے لئے ہے(ت)

ثم اقول : ہمیں احتمال کافی خصوصًا جبکہ بوجہ عدیدہ اس کاپتا چلتاہو اوّلًا اسی حدیث میں لفظ ابوداؤد یوں ہیں :

قال (ای سعد بن ھشام ،  قلت حدثنی عن قیام اللیل قالت الست تقرأ یایھا المزمل قال قلت بلٰی قالت فان اوّل ھذہ السورۃ نزلت فقام اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ

اس (یعنی سعد بن ہشام ) نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ مجھے قیام شب کے بارے میں بیان کیجئے تو اُمّ المومنین نے فرمایا کیا تونے یایھا المزمل نہیں پڑھی؟ عرض کیا ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا اس سورۃ کاابتدائی حصہ جب نازل ہوا تو حضور کے اصحاب

تعالٰی علیہ وسلم حتی انتفخت اقدامھم وحبس خاتمتھا فی السماء اثنی عشر شھرا ثم نزل اٰخرھا فصار قیام اللیل تطوعا بعد فریضۃ[1]۔

نے یہاں تك قیام کیا کہ ان کے پاؤن سوج گئے ، لیکن اس کا آخری حصہ بارہ۱۲ماہ آسمان پر روك لیا ، پھر جب آخری حصہ نازل فرمایا تو قیام شب فرض ہونے کے بعد نفل بن گیا(ت)

ثانیًا خود ام المومنین سے حدیث گزری کہ قیام ِ لیل حضوراکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  پرفرض ، اُمت کے لئے سنت تھا۔
ثالثًا اسی طرح ابن عباس
  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا نے نسخ ذکرفرمایا [2]  کما رواہ ابوداؤد (جیسا کہ ابوداؤد نے اسے روایت کیاہے۔ ت)حالانکہ وہ حضوراکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حق میں فرضیت مانتے ہیں کما تقدم (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت)

رابعًا جب ام المومنین کاارشاد ان تك پہنچافرمادیا : صدقت ، کما بیّنہ مسلم والنسائی (انہوں نے سچ فرمایا ، جیسا کہ اسے مسلم اور نسائی نے بیان کیاہے۔ ت) اور فرمایا ھذا واﷲ ھو الحدیث[3]  کما عند ابی داؤد (اﷲ کی قسم یہ وہی حدیث ہے جیسا کہ ابوداؤد کے ہاں ہے۔ ت) اگراس کے معنی وہ اپنے خلاف سمجھتے ، بیان فرماتے۔

ثم اقول : ( پھرمیں کہتا ہوں ) بلکہ تحقیق یہ ہے کہ آخر سورۃ نے مطلق قیام لیل نسخ نہ فرمایا بلکہ اول سورۃ میں جونصف شب یاقریب بہ نصف کے تقدیر تھی اسے منسوخ فرماکر مطلق قیام کی فرضیت باقی رکھی لقولہ تعالٰی فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِؕ-[4] (کیونکہ اﷲتعالٰی کا ارشاد ہے اﷲتعالٰی نے تم پر اپنے کرم سے رجوع فرمایاہے کہ اب تم اتنا قرآن پڑھو جو تم پرآسان ہو۔ ت)اس کے بعد پھر دوبارہ نسخ مطلق ہوکر استحباب رہاہے ، جلالین شریف میں ہے :

خفف عنھم بقیام ماتیسر منہ ثم نسخ ذلك بالصلوات الخمس[5]۔

اﷲتعالٰی نے تخفیف فرماتے ہوئے آسانی کے ساتھ بندوں پرقیام رکھا پھر یہ قیام پانچ نمازوں کی فرضیت کے بعد منسوخ ہوگیا(ت)

کشاف و ارشاد العقل وغیرہما میں ہے :

یہاں نماز کو قرأت سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ قرأت نماز کارکن ہے جیسا کہ نماز کو قیام ، رکوع اور سجود کے ساتھ تعبیر کیاہے مقصد یہ بنا کہ تم اتنی نمازپڑھتے رہو جو تم پرآسان ہو لیکن قیام شب نہیں چھوڑسکتے ، اور یہ حکم ابتدائے سورۃ کے لئے ناسخ پھرپانچ نمازوں کاحکم ان سب کے لئے ناسخ قرارپایا۔ (ت)              

عبر عن الصلٰوۃ بالقرائۃ لانھا بعض ارکانھا کما عبر عنھا بالقیام والرکوع والسجود یرید فصلواماتیسر علیکم ولم یعذر من صلٰوۃ اللیل وھذا ناسخ للاول ثم نسخا جمیعا بالصوات الخمس[6] ۔

تفسیر کرخی و فتوحات الٰہیہ میں ہے : ھذا ھوالاصح[7]  (یہی اصح ہے۔ ت)ام المومنین یقینا ناسخ اول کا ذکر فرمارہی ہیں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  بھی داخل ، پھر اس سے انتفائے فرضیت کہاں حاصل ، ناسخ ثانی میں حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کادخول کب ثابت ہوا ، نہ ہرگز اس میں کوئی نص نازل ، توحدیث مذکور سے انتفائے وجوب پرتمسك سرے سے زائل ،

وھھنا تحقیقات اخراجل واعز اتینابھا بتوفیق اﷲ العلی الاکبر فی رسالۃ لنا صنفناھا بعد ورود ھذا السؤال فی تحقیق ھذا المقال سمیناھا “ رعایۃ المنۃ فی ان التھجد نفل ام سنۃ “ ھ  فلینظر ثمہ والحمدﷲ علی کشف الغمۃ۔                                          

یہاں دیگرنہایت اہم تحقیقات ہیں اﷲ کی توفیق سے ان کا ذکر ہم نے اس سوال کے ورود کے بعد اپنے ایك رسالے (جس کو ہم نے اسی مقال کی تحقیق میں تصنیف کیا ہے) میں کیاہے اس کانام “ رعایۃ المنۃ فی ان التہجد فضل ام سنۃ “ ۱۳۱۲ھ  اس کا مطالعہ کیجئے ، اﷲتعالٰی کاشکر ہے کہ اس نے عقدے کھول دئیے۔ (ت)

ثم اقول : وباﷲ التوفیق فقیر کے نزدیك اسی مبحث میں حق تحقیق یہ ہے کہ یہاں دوچیزیں ہیں صلٰوۃ لیل و نماز تہجد ، صلٰوۃ لیل ہروہ نمازنفل کہ بعد فرض عشاء رات میں پڑھی جائے۔ حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

ماکان بعد صلٰوۃ العشاء فھو من اللیل[8] رواہ الطبرانی عن ایاس بن معٰویۃ المزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔

جونماز بعد عشاء پڑھی جائے وہ سب نماز شب ہے اسے طبرانی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ایاس بن معاویہ المزنی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے۔

یہ بیشك سنت مؤکدہ ہے کہ اس میں عشاء کی سنت بعدیہ بلکہ سنت فجر بھی داخل ، صحیحین میں ام المومنین صدیقہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے ہے :

کانت صلوتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی شھر رمضان وغیرہ ثلث عشرۃ رکعۃ باللیل ومنھا رکعتا الفجر[9]۔

 



[1]   سنن ابوداؤد باب رفع الصوت بالقرأۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۹۰

[2]