Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

نے آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے چاہا کہ آپ اسے اس بات کی اجازت دے دیں کہ وہ گھر میں نماز ادا کرلے ، آپ نے اجازت مرحمت فرمائی ، جب وہ لوٹے تو آپ نے دوبارہ بلایا اور پوچھا : کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟ عرض کیا : ہاں ۔ فرمایا : اس کا جواب دو(یعنی باجماعت نماز پڑھو)اور اسے سراج نے مسند میں تفصیلًا بیان کرتے ہوئے اس صحابی کا نام لیا کہ آپ کی خدمت میں حضرت ابن ام مکتوم نابیناصحابی حاضر ہوئے الحدیث۔ حاکم روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ، یارسول الله ! مدینہ طیبہ میں بہت سے کاٹنے والے کیڑے اور درندے ہیں ، فرمایا : تم حی علی الصلٰوۃ حی علی الفلاح سنتے ہو؟ عرض کیا ہاں۔

والحاکم عنہ بسند جید ایسعنی ان اصلی فی بیتی قال اتسمع الاقامۃ قال نعم قال فأتھا[1] وفی اخری قال فاحضرھا [2] ولم یرخص لہ ۔   و للبیھقی عنہ سألہ ان یرخص لہ فی صلاۃ العشاء والفجر قال ھل تسمع الاذان قال نعم مرۃ اومرتین فلم یرخص لہ فی ذلک[3] ولہ عن کعب

بن عجرۃ جاء رجل ضریر الی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فیہ ایبلغك النداء قال نعم قال فاذا سمعت فاجب[4]  ولاحمد وابی یعلی والطبرانی فی الاوسط و ابن حبان عن جابر واللفظ لہ قال اتسمع الاذان قال نعم قال فأتھا و لو حبوا [5]  فکان ذلك فیما نری والله تعالٰی اعلم انہ رضی                                              

فرمایا : اس کی طرف آؤ۔ مسند احمد ، ابن خزیمہ اور حاکم نے انہی سے سند جید کے ساتھ نقل کیاکہ میں نے عرض کیا کیا آپ مجھے اجازت  دیتے ہیں کہ میں گھر میں نماز اداکرلوں ؟ فرمایا : کیا اقامت سنتے ہو؟ عرض کیا : ہاں ۔ فرمایا : اس کی طرف آؤ۔ دوسری روایت میں ہے : اس میں حاضری دو توآپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اسے رخصت نہ دی۔

بیہقی نے حضرت ابن ام مکتوم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت کیا کہ انہوں نے آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اس بات کی رخصت چاہی کہ ان کو عشاء اور فجر کی نماز میں جماعت سے رخصت دے دیں ۔ فرمایا : کیا تم اذان سنتے ہو؟ عرض کیا : ہاں ۔ ایك یادو دفعہ پوچھا آپ نے انہیں اس بارے  میں رخصت نہ دی۔ بیہقی میں حضرت کعب بن عجرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہے کہ ایك نابینا شخص رسالت مآب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں آیا اسی میں ہے کہ آپ نے پوچھا : کیا تجھے اذان کی آواز پہنچتی ہے؟ عرض کیا : ہاں ۔ بتایا : جب تو سنتاہے تو جواب دے (یعنی جماعت میں حاضری دے) مسند ، ابویعلی ، طبرانی کی اوسط میں اور

الله تعالٰی عنہ لم یکن یشق علیہ المشی وکان یھتدی الی الطریق من دون حرج کمایشاھد الآن فی کثیر من العمیان ثم راجعت الزرقانی علی المؤطا فرأیتہ نص علی ذلك نقلا فقال و حملہ العلماء علی انہ کان لایشق علیہ المشی وحدہ ککثیر من العمیان[6] اہ وحٍ یترجح بحث العلامۃ الشامی حیث بحث ایجاب الجمعۃ علی امثال ھؤلاء  ،  فقال بل یظھر لی وجوبھا علی بعض العمیان الذی یمشی فی الاسواق  ویعرف الطرق بلاقائد ولاکلفۃ ویعرف ای مسجد ارادہ بلاسؤال احد لانہ حینئذ کالمریض القادر علی الخروج بنفسہ بل ربما تلحقہ مشقۃ اکثر من ھذا تامل [7] ھ ثم رأیت الامام النووی نقل فی شرح مسلم ماذکر المحققان من معنی الرخصۃ عن الجمہور فقال اجاب الجمھور عنہ بانہ سأل 

ابن حبان میں حضرت جابر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی الفاظ ابن حبان کے ہیں کیا تم اذان سنتے ہو؟ عرض کیا : ہاں ۔ فرمایا : اس کی طرف آؤ خواہ گھٹنوں کے بل آنا پڑے ، اس سلسلہ میں ہماری رائے یہی ہے ، حقیقت حال سے الله ہی آگاہ ہے کہ حضرت ابن ام کلثوم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پرچلنا دشوار نہ تھا اور وہ بغیر کسی حرج کے راستہ پالیتے تھے جیسا کہ اب بھی بہت سے نابینا لوگوں میں یہ مشاہدہ کیاجاتاہے پھر میں نے زرقانی علی المؤطا کا مطالعہ کیا تو اس میں بعینہٖ یہی بات منقول تھی کہ تمام اہل علم کی یہی رائے ہے کہ ان پرتنہا چلنے میں دشواری نہ تھی جیسا کہ اب بھی بہت نابینا افراد پرتنہاچلنا دشوار نہیں ہے۱ھ اور اب علامہ شامی کی وہ بحث بھی ترجیح پائے گی جو انہوں نے ایسے لوگوں پر جمعہ واجب قراردیتے ہوئے کی ہے توکہا بلکہ مجھ پریہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایسے نابینا لوگوں پرجمعہ واجب ہوگا جوبغیر کسی قائد اور بلامشقت تنہاراستہ جان کر چل سکتے ہوں اور اس مسجد تك بغیر پوچھے پہنچ سکتے ہوں جہاں انہوں نے نماز اداکرنی ہو کیونکہ یہ اس وقت اس مریض کی طرح ہوں گے جو خود بخود نکلنے پر قادر ہوبلکہ بعض اوقات مریض کو اس سے کہیں زیادہ مشقت اٹھانا ہوتی ہے تامل ۱ھ پھر میں نے امام نووی کی شرح مسلم دیکھی اس میں انہوں نے دونوں محققین کا جمہور سے معنی رخصت ذکر کیاہوا نقل کرکے فرمایا جمہور اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت

ھل لہ رخصۃ ان یصلی فی بیتہ و تحصل لہ فضیلۃ الجماعۃ بسبب عذرہ فقیل لا قال ویؤید ھذا ان حضور الجماعۃ یسقط بالعذر باجماع المسلمین ودلیلہ من السنۃ حدیث عتبان بن مالک[8] الخ۔

اقول :   وقد علمت مافی ھذا التائید فان الشان فی ثبوت الحرج لہ رضی الله تعالٰی عنہ و لعل عتبان کان ممن یتحرج بالمشی وحدہ دون ابن ام مکتوم رضی الله تعالٰی عنھما ،  ثم ان الامام النووی استشعر ورود قولہ صلی الله علیہ وسلم فاجب فاجاب باحتمام انہ بوحی نزل فی الحال وباحتمال تغیر اجتھادہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وبان الترخیص کان بمعنی عدم الوجوب وقولہ فاجب ندب الی الافضل۔

ابن مکتوم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے یہ سوال کیاتھا کہ مجھے گھر پرنماز پڑھنے کی اجازت دی جائے اور عذر کی بنا پر حاضر نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کا ثواب بھی حاصل ہو ، تو اس کا جواب نفی میں آیا امام نووی نے فرمایا اس گفتگو سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ عذر کی بنا پر حاضری جماعت کے سقوط پرتمام اُمت مسلمہ کا اتفاق ہے اور اس کی دلیل سنت سے وہ حدیث ہے جو حضرت عتبان بن مالك  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس بارے میں مروی ہے ، الخ(ت)

اقول : میں کہتاہوں ) اس تائید میں جوکچھ ہے وہ آپ جان چکے کہ یہ اس صورت میں ہے جب ابن مکتوم کے لئے حرج ثابت ہو ، شاید حضرت عتبان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان لوگوں میں سے ہوں جن کو تنہا چلنا دشوار ہو بخلاف ابن ام مکتوم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ان کے لئے ایسا معاملہ نہ تھا ، پھر امام نووی نے حضور علیہ السلام کے ارشاد “ فاجب “ کے ورود سے یہ بات سمجھی تو جواب احتمال سے دیا کہ ممکن ہے یہ حکم اسی حال میں وحی نازل ہونے کے ساتھ دیا اور بھی احتمال ہے کہ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اجتہاد میں تبدیلی ہوئی ہو ، یہ بھی ہوسکتاہے کہ رخصت بمعنی عدم وجوب ہو اور آپ کا ارشاد فاجب افضل کی طرف متوجہ کررہاہو۔

اقول : اماالاولان فتسلیم للقول واماحمل فاجب علی الندب فخلاف الظاھرلاسیما مع بنائہ علی سماع الاذان فان الندب حاصل مطلقا فافھم والله تعالٰی اعلم۔

اقول : (میں کہتاہوں ) پہلے دونوں احتمال قول کی وجہ سے تسلیم مگر فاجب کو ندب پرمحمول کرنا خلاف ظاہر خصوصًا جب اس کی بنا اذان کے سماع پر ہو کیونکہ ندب توہرحال میں حاصل تھا ، فافہم والله تعالٰی اعلم(ت)

 



[1]   مسند احمد بن حنبل حدیث عمر بن ام مکتوم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴۲۳

[2]   المستدرك علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ  مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۴۷

[3]   مجمع الزوائد باب فی ترك الجماعۃ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۴۳

[4]   مجمع الزوائد باب فی ترك الجماعۃ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۴۲

ف : یہ دونوں حوالے مجمع سے اس لئے نقل کئے کہ سنن بیہقی اور شعب الایمان للبیہقی سے نہیں ملے ، ہوسکتاہے یہ لفظ للبیہقی کی بجائے للطبرانی ہو کیونکہ مجمع نے طبرانی اوسط کے حوالے سے یہ دونوں حدیثیں نقل کی ہیں ۔ نذیر احمد سعیدی

[5]   الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان باب فرض الجماعۃ والاعذار الخ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۴ / ۲۵۲

[6]   شرح الزرقانی علی المؤطا فصل صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ مکتبہ تجاریہ کبری مصر ۱ / ۲۶۷

[7]   ردالمحتار باب الجمع



Total Pages: 215

Go To