Book Name:Fatawa Razawiyya jild 6

برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا[1]۔

حق میں امام کےساتھ پڑھی ہوئی کو بھی ملائے) پس نمازِفجر کے علاوہ ایك رکعت پانے والا دورکعت میں فاتحہ اور سورت دونوں پڑھے اور انکے درمیان تشہد بیٹھے اورچاررکعتوں والی نماز کی چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے اور چوتھی رکعت سے پہلے تشہد نہ بیٹھے۔(ت)

مگراس کا عکس بھی کیا کہ دو٢ پڑھ کر بیٹھا پہلی پر قعدہ نہ کیا پھر تیسری پر قعدہ اخیرہ کیا تو یوں بھی نماز جائز ہوگی سجدہ سہو لازم نہ آئے گا۔ردالمحتار میں ہے:

قال فی شرح المنیۃ ولو لم یقعد جاز استحسانا لاقیاسا ولم یلزمہ سجود السہو لکون الرکعۃ اولٰی من وجہ[2]۔

شرح المنیہ میں ہے کہ اگر وہ پہلی رکعت پر قعدہ نہ بیٹھا تو استحسا نًا جائزہے قیاسا نہیں اور چونکہ یہ من وجہ پہلی رکعت ہے لہذا اس پر سجدہ سہو لازم نہ ہوگا۔(ت)

اقول :(میں کہتا ہوں۔ت) یہ فیصلہ بعینہا فتویٰ سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے کما ذکرہ محرر المذہب محمد رحمہ اﷲ تعالٰی(جیسا کہ محرر مذہب امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے ذکر کیاہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ نمبر ٥٦٨:     ١٧ جمادی الاولیٰ١٣٠٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك اندھا ہے لیکن حافظ قرآن اور قاری ہے اور مسائل روزہ ونماز سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور نیز آیاتِ قرآن مجید کا ترجمہ کرسکتا ہے اور بہت سی حدیثیں بھی جانتا ہے اور اس لیاقت کا کوئی شخص اس محلہ میں نہیں ہے اُس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟

الجواب:

ہر جماعت میں سب سے زیادہ مستحقِ امامت وہی ہے جو اُن سب سے زیادہ مسائل نمازوطہارت جانتا ہے اگرچہ اور مسائل میں بہ نسبت دوسروں کے علم کم ہو مگر شرط یہ ہے کہ حروف اتنے صحیح ادا کرے کہ نماز میں فساد نہ آنے پائے اور فاسق وبد مذہب نہ ہو،جوشخص ان صفات کا جامع ہو اس کی امامت افضل،اگرچہ


 

 



[1] دُرمختار ، باب الامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ١/٨٦

[2] ردالمحتار باب الامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٤٤١



Total Pages: 736

Go To