Book Name:Fatawa Razawiyya jild 6

 

 

باب الامامۃ
(امامۃ کا بیان)

 

مسئلہ نمبر٥٦٤: اگر امام رفع یدین کرتا ہے اور آمین پکارتا ہے اور سب مقتدی حنفی المذہب ہیں کہ آمین بالجہر اور رفع یدین نہیں کرتے اور مقتدی اس کی امامت سے پناہ مانگتے ہیں مگر وہ نماز جبرًا پڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس فعل کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا خواہ میرے پیچھے کوئی نماز نہ پڑھے اور وہ علم بھی رکھتا ہے پس ایسے امام کے واسطے کیا حکم ہے ا س کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ کیا حکم شرع شریف دیتی ہے؟ 

الجواب:

ان بلاد میں آمین بالجہر و رفع یدین والے غیر مقلدین ہیں اور غیرمقلدین گمراہ بددین اور ان کے پیچھے نمازناجائز،کما حققنا فیالنھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید(اس کی پُوری تحقیق ہم نے اپنے رسالے النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید میں کی ہے۔ت)(جو آگے آرہا ہے) اور اگر بالفرض کوئی سُنّی صحیح العقیدہ شافعی مذہب بھی آگیا ہو تو اسے ہرگز حلال نہیں کہ کراہت جمیع جماعت و نفرت جملہ مقتدیان کے ساتھ بالجبر اُن کی امامت کرے۔رسول اﷲصلی ا ﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے بالشت بھر اُوپرنہیں اُٹھتی یعنی مردود ہے قبول بارگاہ کی طرف  بلند  نہیں کی جاتی واحد منھم من ام قوماوھم لہ کارھون[1]اُن میں ایك وہ ہے جو لوگوں کی امامت کرے اور وہ ناراض ہوں___ (دوسراغلام ہے جو اپنے آقا سے بھاگ جائے ،تیسری وہ عورت ہے جو رات اس طرح گزارے کہ اس کا شوہر اس پر غضبناك رہے۔

مسئلہ نمبر ٥٦٥: ایك شخص حافظ قرآن ہے مگر آدھا کلمہ لا الٰہ الا اﷲ پڑھتاہے اور خود ولی بن کر عورتوں مردوں کو نصف


 

 



[1] المصنّف لعبدالرزاق باب الآبق من سیّدہ مطبوعہ المجلس العلمی بیروت ١١/٢٤٧



Total Pages: 736

Go To