Book Name:Fatawa Razawiyya jild 6

اوالباء پاء ھل تفسد فتأمل فیہ کثیرا ثم تقرر رأیہ علی انہ لحن مفسد قلت ینبغی ان لاتفسد علی ما اختارہ المتأخرون انہ اذا تقارب المخرج لا یکون لحنامفسدا [1] الخ ملخصا۔

باء کی جگہ پاء پڑھتا ہے کیا اس کی نماز فاسد ہوگی یا نہیں ؟ انھوں نے بڑے غور وفکر کے بعد اپنی اس پختہ رائے کا اظہار کیا کہ یہ لحن ہے جو مفسد نماز ہے،میں کہتا ہوں اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ متاخرین نے اس بنا پر سے اختیار کیاہے کہ جب مخارج قریب ہوں تو لحن مفسد نہیں ہوتا الخ تلخیصات(ت)

یہ مسئلہ مسئلہ الثغ ہے اور اس کی تفصیل و تحقیق ہمارے فتاوٰی میں ہے اور عامہ ائمہ کا مفتی بہ یہی ہے اس کی امامت صحیح نہیں اور نماز اُس کے پیچھے فاسد ہے۔

فی الخیریۃ امامۃ الالثغ بالفصیح فاسدۃ فی الراجح الصحیح٢[2]۔

فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ الثغ(توتلا) کا صحیح پڑھنے والے کاامام ہونا راجح اور صحیح قول کے مطابق فاسد ہے، (یعنی درست نہیں)۔(ت)

تو پی لیلۃ الکھدر پڑھنے والے کے پیچھے صحیح خواں کی نماز باطل ہے اور اسے امام کرنا حرام ،ھذا جملۃ الکلام وللتفصیل غیرذلك من المقام(یہ خلاصہ کلام ہے اور تفصیل کے لئے اس کے علاوہ مقام ہے ۔ت) واﷲ  سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ 

________________


 

 



[1] قنیہ فتاوٰی قنیۃ باب زلۃ القاری المطبعۃ المشتہرہ بالمہانندیۃ ص ٦٢

[2] فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰو ۃ مطبوعہ بیروت ١/١٠



Total Pages: 736

Go To