Book Name:Fatawa Razawiyya jild 6

بین الساریتین [1]۔

کھڑا ہونا مکروہ ہے۔(ت)

تنویر الابصار میں ہے:

لو کان موضع سجودہ ارفع عن موضع القدمین بمقدار البنتین منصوبتین جاز وان اکثرلا [2]۔

اگر نمازی کے سجدہ کی جگہ قدموں کی جگہ سے دو کھڑی اینٹوں کے برابر  بلند  ہو تو نماز جائز، اور اگر ا س سے زیادہ  بلند  ہو تو نماز جائز نہ ہوگی۔(ت)

دُرمختار میں ہے:

مقدار ارتفا عھما نصف ذراع ثنتاعشرۃ اصبعا ذکرہ الحلبی [3]۔

ان دونوں کا  بلند  ہونا نصف ذراع ہے جو کہ بارہ١٢ انگلیوں کی مقدار ہے حلبی نے اسے ذکر کیا ۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

قولہ جاز سجودہ الظاھر انہ مع الکرھۃ لمخالفتہ للماثور من فعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم٤[4]۔

قولہ جاز سجودہ یعنی سجدہ تو جائز ہوگا مگر بظاہر کراہت ہوگی کیونکہ حضور کے فعلِ منقول کے خلاف ہے۔(ت)

سنن ابنِ ماجہ میں ہے:

عن معویۃ بن قرۃعن ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کناننھی ان نصف بین السواری علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  ونطرد عنھا طردا ٥[5]۔

یعنی قرہ بن ایاس مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  کے زمانہ میں ہمیں دو ستونوں کے بیچ صف باندھنے سے منع فرمایا جاتا اور وہاں سے دھکے دے کرہٹائے جاتےے تھے (ت)

مسند امام احمد و سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و سنن نسائی و صحیح حاکم میں ہے:

عن عبدالمجید بن محمود قال صلینا خلف امیرمن الامراء فاضطرنا الناس ٖصلینا

یعنی ایك تابعی کہتے ہیں ہم نے ایك امیر کے پیچھے نماز پڑھی لوگوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ہمیں دو ستونوں میں نماز

 


 

 



[1] ردا لمحتار باب ما یفسد الصلوٰۃ  مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١/٤٧٨

[2] درمختار شرح تنویر الابصار ، فصل واذارادالشروع فی الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٧٦

[3] درمختار شرح تنویر الابصار ، فصل واذارادالشروع فی الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٧٦

[4] ردالمحتار ،  فصل واذارادالشروع فی الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١/٣٧٢

[5] سنن ابن ماجہ باب الصّلوٰۃ بین السواری فی الصف مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٧١



Total Pages: 736

Go To