Book Name:Fatawa Razawiyya jild 6

 

 

باب اماکن الصلوۃ
(مقامات نماز کا بیان)

 

مسئلہ نمبر ٣٩٧:                                                    از شہر کہنہ                                  ٢٧ ربیع الاخری شریف

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا کہ نماز مسجد کے در میں جائز نہیں ہے چاہے اکیلا ہو چاہے امام ہو ۔ عمرو کہتا ہے کہ دَر میں بلا کراہت جائز ہے اکیلا ہو یا امام ، البتہ صفوں کا دروں میں قائم کرنا مکروہ ہے چاہے مسجد کے محراب میں اکیلا ہو یا امام ۔ اس مسئلہ میں زید کا قول سچّا ہے یا عمر کا ؟ بیّنوا توجرواحکم اﷲ اور نقشہ مسجد کا واسطے ملاحظہ کے لکھ دیا ہے۔ 

الجواب:

 فی الواقع امام کا بے ضرورت محراب میں کھڑا ہونا کہ پاؤں محراب کے اندر ہوں یہ بھی مکروہ (ہاں پاؤں باہر اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں) اور امام کا دَر میں کھڑا ہونا بھی مکروہ مگر اُسی طرح پاؤں باہر اور سجدہ در میں ہو تو کراہت نہیں بشرطیکہ در کی کرسی  بلند  نہ ہو ورنہ اگر سجدہ کی جگہ پاؤں کے موضع سے چارہ گرہ سے زیادہ اونچی ہوئی تو سِرے سے نماز ہی نہیں ہوگی اور چارہ گرہ یا کم  بلند ی ممتاز ہوئی تو کراہت سے خالی نہیں ، اور بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ، ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں۔ یونہی اگر مینہ کے


 

 



Total Pages: 736

Go To