Book Name:Fatawa Razawiyya jild 5

ہدیۃً حاضر کردیتا بعد ملاحظہ بیرنگ واپس فرمائیں یہ رسالہ باذنہ تعالٰی دربارہ حدیث وفقہ منکرین کے خیالات باطلہ عاطلہ کی بیخ کنی وصفرا شکنی کو بس ہے لہذا اُن سے زیادہ تعرض کی حاجت نہیں صرف بعض امورِ جہالت فتوائے مذکور کے متعلق اجمالًا گزارش وبالله التوفیق۔

(١) دعوٰی یہ کہ اذان میں کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں،اور اس پر دلیل شامی کی جراحی سے نقل کہ ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی جو خود مشیر ہے کہ اس کی احادیث موقوفہ پر یہ حکم نہیں ورنہ مرفوع کی تخصیص کیوں ہوتی عبارات کتب میں مفہوم مخالف بلاشبہہ معتبر ہے،اسی شامی طابع قسطنطینہ جلد ٥ ص ٥٢ میں ہے:

فان مفاھیم الکتب حجۃ ولومفھوم لقب علی ماصرح بہ الاصولیون [1]۔

عبارات کتب میں مفہومِ مخالف حجت ہوتا ہے خواہ وہ مفہوم لقبی ہو،علمائے اصول نے یہی تصریح کی ہے۔(ت)

نیز جلد اول ص ١٦٧:

یفتی بہ عندالسؤال اھ ای لان مفاھیم الکتب معتبرۃ کماتقدم [2]۔

سوال کے وقت اسی پر فتوٰی ہوگا کیونکہ عباراتِ کتب میں مفہومِ مخالف حجت ہوتا ہے،جیسے کہ پہلے گزرچکا ہے۔(ت)

دُرِمختار بیان سُننِ وضو میں نہرالفائق میں سے ہے:

مفاھیم الکتب حجۃ بخلاف اکثر مفاھیم النصوص ٣[3]۔

عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے اور نصوص کے اکثر مفاہیم معتبر نہیں ہوتے (ت)

احادیثِ موقوفہ کیا روایت نہیں لاجرم ملا علی قاری نے موضوعاتِ کبیر میں کل مایروی فی ھذا فلایصح رفعہ البتۃ (اس سلسلہ میں جو کچھ مروی ہے اس کا مرفوع ہونا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ت)لکھ کر فرمایا:

قلت واذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی الله

میں کہتا ہوں جب اس کا مرفوع ہونا صدیقِ اکبر

 


 

 



[1] ردالمحتار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٥/٣٨

[2] ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/١١٩

[3] درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٢١



Total Pages: 696

Go To