Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

اسے امام محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت کیا ہے اور ان سے مشہور روایت یہی ہے اور محققین نے اسے اختیار کیا ہے اور فرما یا اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت)

مائے مستعمل اگر غیر مستعمل سے زائد یا برابر ہوجائے تو مجموع سے وضو ناجائز ہوگا اور مستعمل کم ہے تو وضو جائز۔ درمختار میں ہے :

غلبۃ المخالط لومماثلا کمستعمل

اگر (پانی میں) ملنے والی چیز اسی جیسی ہو جیسے مستعمل

فبالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل والا لا[1]۔

پانی تو غلبے کا اعتبار اجزاء کے اعتبار سے ہوگا اگر مطلق پانی نصف سے زیادہ ہے تو تمام پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)

بالجملہ حوض مذکور سے وضو بلاشبہ جائز ہے اور معترض کا قول غلط وناقابل التفات۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۲۶ : از پوربندرکاٹھ یا وار میٹھی مسجد مرسلہ سید غلام محمد صاحب۱۱۔ شوال ۱۳۳۷ھ

امام العلماء المحققین مقدام الفضلاء المدققین جامع شریعت وطریقت حکیم امت مولٰنا ومرشدنا ومخدومنا مولوی حاجی قاری شاہ احمد رضا خان صاحب متع الله المسلمین بطول بقائہم۔

بعد تسلیم فدویت ترمیم معروض رائے شریف وذہن لفیط ہوکہ ایك حوض دہ در دہ ہے عرض و طول میں لیکن حوض کو اوپر کو پتھّر لگانے سے مُنہ حوض کا کم از دہ در دہ ہوگیا ہے اس صورت میں حوض پانی سے پُورا بھر د یا جاتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حوض میں وضو نہیں ہوتا اس لئے کہ دہ در دہ کی حد سے پانی تجاوز کرجاتا ہے اور پانی بھی ہلتا نہیں ہے ، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ وضو ہوجاتا ہے اس لئے یہاں پر لوگوں میں سخت فساد واقع ہے۔ سو حضرت مسئلہ کا خلاصہ کرکے تحر یر فرمائیں تاکہ اس پر عمل کیا جاوے۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ ،

اگر پانی پتھّر سے نےچا ہے تو وہ دہ در دہ ہے نجاست سے بھی ناپاك نہ ہوگا جب تك اُس سے مزہ یا رنگ یا بُو نہ بدلے اور پانی اُس حد سے اونچا ہوکر پتھّر سے گھر جائے اور پتھر کے بےچ میں مساحت دہ در دہ سے کم ہے تو اب دہ در دہ نہ رہا ایك خفیف قطرہ نجاست سے ساری سطح ناپاك ہوجائے گی ہاں وضو کےلئے ہاتھ ڈال کر پانی لینے سے مستعمل نہ ہوگا بے وضو پاؤں ڈال دینے سے مستعمل ہوجائےگا قابلِ وضو نہ رہے گا وضو کا مستعمل پانی اُس میں گرنے سے مستعمل نہ ہوگا جب تك مستعمل غیر مستعمل سے ز یادہ یا مساوی نہ ہوجائے اس کے پاك کردینے کو یہ کافی ہے کہ اوپر کا حصّہ پانی کا نکال دیں یہاں تك کہ صرف پتھر کے نےچے نےچے پانی رہ جائے جہاں سے دہ در دہ ہے وہ سب پاك ہے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۲۷ :                   ازمدرسہ منظر اسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداللہبہاری۳۔ شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے وضو کے پانی کے قطرے کپڑے یا کسی چیز پر گریں گے تو وہ ناپاك ہوجائے گا اور اگر جماعت ختم ہونے پر ہے اس صورت میں وہ بلا ہاتھ پاؤں پونچھے شریك جماعت ہوگیا تو جو قطرے اس کی رِیش و غیرہ سے گریں گے اُس سے رحمت کے فرشتے پیدا ہوں گے۔ حضور کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے ، بینوا توجروا۔

الجواب :

 اُن قطروں سے کپڑا ناپاك نہیں ہوتا ، مگر مسجد میں اُن کا گرانا جائز نہیں بدن اتنا پُونچھ کر کہ قطرے نہ گریں مسجد میں داخل ہو اور ان قطروں سے رحمت کے فرشتے بننا مجھے معلوم نہیں ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۲۸ : ازشہرگیا محلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین احمد اللہخان ۸۔ شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حُقّہ کے پانی سے وضو جائز رکھا گیا ہے وہ کون حالت اور کس وقت پر؟

الجواب :

جب آب مطلق اصلًا نہ ملے تو یہ پانی بھی آب مطلق ہے اس کے ہوتے ہوئے تیمم ہرگز صحیح نہیں اور اُس تیمم سے نماز باطل۔  والله تعالٰی اعلم۔

____________________

 

فصل فی البئر

مسئلہ ۱۲۹ تا ۱۳۴ :                     از شہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ محمد ادریس خان           ۲۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

(۱) ایك چاہ میں ایك چُوہا نکلا جس کے نصف دھڑ کے نیچے کی کھال گل کر پانی ہی میں رہ گئی تھی لیکن پیٹ نہیں پھٹا تھا تو اب کنواں کس طرح پاك ہو۔

(۲) یہ بھی تشریح فرمائیے کہ پانی کا ٹوٹنا کسے کہتے ہیں یعنی کتنا پانی کنویں میں جائے تو چھوڑ دینا چاہئے۔

(۳) اگر کسی وجہ سے کنویں کے پاك کرنے کی غرض سے مٹی نکالنے کا حکم ہو تو مٹی کس قدر نکالنا چاہئے۔

(۴) اگر کنواں پاکی کے شرائط پُورے کرنے کے اندر بیٹھنے یا شق ہونے لگے تو اُس کا بیٹھنا یا شق ہونا پاکی کا مانع ہوسکتا ہے یا نہیں۔ مثلًا ایك کنواں پانی ٹوٹنے کا حکم رکھتا ہے اور اُس کنویں میں دو۲  آدمی کے قد پانی ہے اور پانی نکالتے نکالتے ز یادہ سے ز یادہ گھٹنوں تك اور کم سے کم اتنا کہ بالٹی خوب ڈوب جاتی ہے بلکہ اس کے اُوپر بھی پانی چھ سات اُنگل رہتا ہے بدیں وجوہات اسے چھوڑ د یا گیا (کہ آدمی پانی نکالتے نکالتے تھك گئے یا کنواں شق ہونے لگا یا بیٹھنے لگا تو خیال کیا کہ اس کو پھر کون بنوائے گا یہ تو بیکار ہُوا جاتا ہے) تو کنواں پاك ہُوا یا نہیں؟

(۵) وہ لوگ جو بلاتشریح در یافت کیے ہوئے ہما وشما کے کہنے سے کنویں کو پاك کرادیں یا کردیں اور پاك بھی ایسا کہ حکم پانی ٹوٹنے کا رکھتا ہو اور ٹوٹا نہ ہو ایسی نجاست جوکہ ساٹھ۶۰ڈول نکالنے سے پاك ہوسکتی ہے اور ہما و شما کے کہنے سے جنہوں نے کہ نجاست کو دیکھا بھی نہ ہو بیس۲۰ڈول نکلوادئے اور پانی کے استعمال کا حکم دے د یا کہ اب کُنواں پاك ہوگیا۔ اُن کے واسطے کا کیا حکم ہے۔

(۶) اگر ناپاك پانی سے وضو یا غسل کرکے نماز پڑھی اور بعد کو ناپاکی کا حال معلوم ہوا تو نماز کب تك کی واپس دہرانا چاہئے۔

الجواب :

(۱) کُل پانی نکالا جائے یہاں تك کہ آدھا ڈول نہ ڈوبے اور اگر وہ کنواں نہ ٹوٹتا ہو تو اس کے پانی کا اندازہ کرلیں کہ اتنے ڈول ہے اُس قدر نکال لیں ، والله تعالٰی اعلم۔